ایشیاءکے قدیم ترین جنگلات میں سے ایک مہان جنگل کوئلے کی صنعت کے باعث خطرے کی زد میں ہے، جس کے بچاﺅ کیلئے جنگلی افراد مہم چلارہے ہیں، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
چالیس سالہ کانتی سنگھ، امیلیا نامی گاﺅں کی رہائشی ہے جو مہان جنگل سے لکڑیاں جمع کرکے قریبی مارکیٹ میں فروخت کردیتی ہے، اس طرح وہ ماہانہ سو ڈالرز کمالیتی ہے، مگر جنگل میں کوئلے کی کمپنیوں کے منصوبے کے باعث اس کا روزگار خطرے میں پڑگیا ہے۔
کانتی”آخر ہم غریب لوگ کس طرح اپنے خاندانوں کو زندہ رکھ سکیں گے، اگر آپ جنگل کو ہم سے دور لے جائیں گے تو ہم بہت جلد تباہ ہوکر رہ جائیں گے”۔
مہان جنگل ایشیاءکے چند قدیم تریم اور بڑے جنگلات میں سے ایک ہے، تاہم اب وہاں حکومت نے ہنڈلکو انرجی اور ایسر پاور کو کوئلے کی کان کنی کی اجازت دیدی ہے، پریا پلائی، گرین پیس انڈیا کی عہدیدار ہیں۔
پریا پلائی”وزارت ماحولیات و جنگلات نے مہان جنگل کے حوالے سے فوریست رائٹس ایکٹ پر عملدرآمد کیلئے 36 شرائط بھی عائد کی گئیں، تاہم ریاستی حکومت نے آگے بڑھ کر کمپنی کو فرضی دیہی کونسل کی قرارداد کی بنیادی پر این او سی جاری کردیا”۔
رواں سال مارچ میں منظرعام پر آنے والی دیہی کونسل کی قرارداد میں اس منصوبے کی حمایت کی گئی تھی، اس پر ایک ہزار سے زائد دستخط مووجد تھے، مگر مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ جعلی قرارداد ہے اور اس پر کئی نام ایسے افراد کے ہیں جو کافی عرصے پہلے ہی انتقال کرچکے ہیں، ایک مقامی ادارے ماہان سنگھرش اسمیتی یا ایم ایس ایس کوئلے کے منصوبے کیخلاف مقامی آبادی کی مہم کی حمایت کررہا ہے۔
گزشتہ ماہ سنگراولی میں ایک بڑی ریلی نکالی گئی، بیچن لائی ایم ایس ایس کے عہدیدار ہیں۔
بیچن لائی”کمپنی ہمارے جنگلات کو اپنے مقاصد پورے کرنے کیلئے ہم سے دور لیکر جارہی ہے، ہماری زندگی کا انحصار ان جنگلات پر ہے، ہماری زمینیں بہت چھوٹی ہیں اور ہم جنگل کے بغیر زندہ نہیں رہ سکیں گے۔ یہاں کی زمین بہت زرخیر ہے اور یہ علاقہ آلودگی سے پاک ہے، مگر حکومت کی جانب سے کان کنی کی اجازت کے بغیر زیادہ عرصے تک یہ صورتحال برقرار نہیں رہے گی، ہم نہیں جانتے کہ ہمیں کہاں بسایا جائے گا”۔
دیہی کونسل کی قرارداد کیساتھ برطانیہ سے تعلق رکھنے والی کمپنی اب حکومت کی دوسری اجازت کی منتظر ہے، جس کے بعد وہ اپنا کام شروع کردے گی، جس سے علاقے کے چودہ ہزار افراد متاچر ہوں گے، جن میں 28 سالہ جگ نائن جیسے متعدد قبائلی بھی شامل ہوں گے۔
نارائن”ہمارے پاس متعدد مویشی اور جنگلات میں نایاب جانور موجود ہیں، جو کہ سب ختم ہوکر رہ جائیں گے، ہمیں اپنے علاقے میں موجود جنگل کے وسائل سے مھروم ہونا پڑے گا، یہ کمپنیاں ہمارا سب کچھ تباہ کرنا چاہتی ہیں”۔
تاہم یہ لوگ جدوجہد کیلئے تیار ہیں، جن میں کرپا ناتھ بھی شامل ہیں۔
کرپا”میں اس کمپنی کے خلاف جنگ کیلئے تیار ہوں جو ہمیں پانی، جنگل اور زمینی حقوق دینے کیلئے تیار نہیں، ہم اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کیلئے تیار ہیں اور آخری سانس تک اسے جاری رکھیں گے”۔