حالیہ دہائیوں کے دوران جنوبی کورین معیشت کا انحصار بیرون ملک سے آنیوالی افرادی قوت پر رہا ہے۔ اگرچہ جنوب مشرقی اور جنوبی ایشیائی ممالک سے کافی ورکرز آئے ہیں، مگر بڑی تعداد کا تعلق شمال مشرقی چین سے ہے، جو نسلی اعتبار سے کورین ہی ہیں، تاہم ان میں سے ہزاروں افراد کو رواں برس گھر واپس لوٹنا پڑے گا۔
Jin Dal-ae restaurant میں شمال مشرقی چین کے مخصوص پکوان تیار کئے جاتے ہیں، جبکہ یہاں کام کرنے والا عملہ بھی اسی خطے سے تعلق رکھتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نسلی طور پر یہ لوگ کورین ہی ہیں جنھیں Joseonjok کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ریسٹورنٹ اور دیگر جگہوں پر ان افراد کو اس لئے بھرتی کیا جاتا ہے کہ یہ کورین زبان اور ثقافت سے واقف ہیں، یہی وجہ ہے کہ انہیں زیادہ مدت کیلئے ویزہ دیا جاتا ہے۔
Kim Young-hwang جنوبی کوریا کی ایک تعمیراتی کمپنی میں آٹھ سال سے کام کررہے ہیں۔35 سالہ Kim کا تعلق چین کے علاقے Harbin سے ہے۔
(male) Kim Young-hwang “جنوبی کوریا میں زندگی کافی اچھی ہے۔ یہاں میری آمدنی چین کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے”۔
تاہم ایک چیز ایسی ہے جس سے Kim کی زندگی متاثر ہورہی ہے۔Kim کے بقول ان جیسے چینی نژاد Joseonjok نسل کے افراد کے ساتھ کوریائی عوام دیگر ممالک کے باشندوں جیسا سلوک نہیں کرتے۔
” (male) Kimجاپان یا امریکہ جیسے دولت مند ممالک سے تعلق رکھنے والے کوریائی افراد کے ساتھ یہاں زیادہ بہتر سلوک کیا جاتا ہے۔ وہ اپنی مرضی سے کوریا جاسکتے ہیں اور پھر واپس آسکتے ہیں۔ تاہم چینی نژاد کورین افراد کیساتھ غریب ملک سے تعلق رکھنے والے غیرملکیوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے”۔
Kim کے مطابق امریکی نژاد کورین افراد کو ایسے ورکنگ ویزے دیئے جاتے ہیں جن کی تجدید کئی کئی برسوں میں ہوتی ہے، جبکہ چینی نژاد کورین باشندوں کو صرف پانچ سال تک کوریا میں رہنے کی اجازت ہوتی ہے جسکے بعد انہیں لازمی طور پر واپس جانا پڑتا ہے۔چینی نژاد کورین افراد کیلئے اس ویزہ پروگرام کا آغاز 2007ءمیں ہوا تھا اور اب یعنی رواں سال 70 ہزار افراد کو چین واپس جانا ہوگا۔ان چینی نژاد کورین افراد کی مدد کیلئے کام کرنے والے ایک ادارے کی رکن Kim Sook-ja کا کہنا ہے بیشتر افراد چین واپس نہیں جانا چاہتے۔
(female) Kim Sook-ja“بیشتر Joseonjok افراد چین میں اپنے گھر یا کاروبار فروخت کرچکے ہیں اور وہ جنوبی کوریا میں ہی کام کرنا چاہتے ہیں۔کوریا میں رہ کر انھوں نے جو رقم جمع کی ہے وہ چین میں زندگی گزارنے کیلئے ناکافی ہے”۔
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا کی امیگریشن پالیسی غیرمنصفانہ لگتی ہے، کیونکہ Joseonjok افراد کورین معیشت کیلئے انتہائی اہم ہیں۔ Park Young-bum، سیﺅل کی Hansung University میں لیکچرار ہیں۔
“Joseonjok (male) Park نسل کے افراد کیلئے کوریا میں متعدد ملازمتیں موجود ہیں، خصوصاً غیرتربیت یافتہ جگہوں کیلئے تو ان کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں”۔
انکا کہنا ہے کہ جنوبی کورین امیگریشن قوانین کے مطابق غیرملکی پانچ سال تک قیام کرنے کے بعد شہریت کیلئے درخواست دے سکتے ہیں۔ تاہم جنوبی کوریا میں Joseonjok افراد کو زیادہ اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا، جسکی وجہ رواں برس کے شروع میں ایک Joseonjok شخص کے ہاتھوں ایک جنوبی کورین خاتون کا قتل ہے۔اس واقعے کے بعد سے جنوبی کورین عوام میں Joseonjok افراد کیلئے غصہ پایا جاتا ہے۔ Kim Sook-ja کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ چین سے آنے والی اس پوری برادری کیلئے بدنامی کا سبب بن گیا ہے۔
(female) Kim Sook-ja“یہ امر باعث شرم ہے کہ ایک شخص نے چھ لاکھ افراد کی زندگیوں کو تباہ کردیا۔ متعدد جنوبی کورین شہری اپنے ان چینی بھائیوں کو اب کورین ہی ماننے کیلئے تیار نہیں”۔
Kim Sook-ja کا کہنا ہے کہ انکا ادارہ کورین عوام اور Joseonjok برادری کے درمیان موجود خلاءپر کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ تارکین وطن ورکر Kim Young-hwang کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران انہیں امتیازی سلوک کا احساس ہوا ہے۔
Kim Young-hwang آج کل سیﺅل میں اپنی برادری کے دیگر افراد کے ساتھ کمپیوٹر کورس میں حصہ لے رہے ہیں۔وہ امیگریشن ٹیسٹ کی تیاری کررہے ہیں، اس کی کامیابی کی صورت میں وہ مستقل ویزے کیلئے درخواست دیں سکیں گے۔
(male) Kim “میں چین واپس جانے کے خیال سے پریشان ہوں، میں یہاں رہنے کا عادی ہوچکا ہوں اور میرے لئے واپس جاکر ملازمت تلاش کرنا آسان نہیں ہوگا”۔