Entrepreneur says bamboo bicycles can protect environment and reduce poverty – فلپائن کی بانسوں کی سائیکلیں

فلپائن میں سائیکلوں کو غربت میں کمی اور ماحولیات کی بہتری کا ہتھیار بنانے کے منسوبے پر کام شروع ہوگیا، اس سلسلے میں مقامی بانسوں سے سائیکلیں تیار کی جارہی ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

ایم سی سیلینڈ برےان بینی ٹیز سائیکلوں کے دیوانے ہیں، وہ مکاتی سٹی میں واقع اپنے اپارٹمنٹ سے باہر آئے اور گیراج کے برابر کھڑی سائیکل اٹھالی، مگر یہ سائیکل کافی مختلف ہے، کیونکہ یہ بانسوں سے بنی ہے اور ایم سی سیلینڈڈکا کہنا ہے کہ یہ ماحول دوست ہے۔

ایم سی”بانس زبردست چیز ہے،اس کا پودا بہت تیزی سے بڑھتا ہے اور ٹنوں کی مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرلیتا ہے، اس نقطہ نظر سے دیکھیں تو یہ بہت قابل قدر ذریعہ ہے، اور کارکردگی کی حساب سے بھی یہ بہت زبردست ہے، یہ سڑکوں پر ہرقسم کا بوجھ اٹھالیتا ہے اور آپ کو ہموار سواری کا لطف حاصل ہوتا ہے”۔

دو ہزار دس میں ایم سی سیلینڈڈ نے ایک کمپنی بیمب بائیک قائم کی، جس کا مقصد کاشتکاروں کیلئے بانسوں سے سائیکلیں تیار کرنا تھا، وہ اب تک اس طرح کی سو سے زائد سائیکلیں فروخت کرچکے ہیں۔

ایم سی”اس وقت ہم بیمب بائیک گیراج میں موجود ہیں، ہم مختلف قسم کے نمونوں پر کام کررہے ہیں اور فروخت کیلئے تیار سائیکلوں پر کام کررہے ہیں، ہر ایک کی خاصیت مختلف ہے، شہر میں ہم عام رفتار کیلئےروڈ جیومینٹری استعمال کرتے ہیں، جس سے شہری انتطام میں سائیکل چلانا آسان ہوجاتا ہے”۔

بیم بائیکس ورکشاپ ایک قصبے وکٹوریہ میں واقع ہے، جو کہ منیلا سے ایک سو تیس کلومیٹر دور ہے۔

یہاں فارموں میں بانس اگائے جاتے ہیں، جسے بعد میں کاٹ کر سائیکلوں کے فریم کی شکل میں ڈھالا جاتا ہے، تاہم یہ سستی سائیکل نہیں بلکہ اس کی قیمت بارہ سو ڈالرز سے شروع ہوتی ہے۔تاہم ایم سی کا کہنا ہے کہ فروخت سے حاصل ہونے والا منافع غریب برادری پر خرچ کیا جاتا ہے۔

“ہم عالی معیار کی بانسوں سے بنی سائیکلیں تیار کرکے عالمی مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں، جنھیں یہ دیہاتی افراد تیار کرتے ہیں، اس سے ان لوگوں کو اپنے خاندانوں کے ساتھ رہ کر اچھا روزگار مل جاتا ہے”۔

چھیالیس سالہ ریمیگیو مانالاٹو جربھی ایسے ہی ایک ورکر ہیں۔

جر”میں بیمب بائیکس میں ملنے والی ملازمت پر بہت شکرگزار ہوں، اب ہمیں بہت دور تک سفر نہیں کرنا پڑتا اور ہمیں اپنی برادری کے ساتھ ہی رہنے کا موقع ملتا ہے، جب میں تعمیراتی مزدور کا کام کرتا تھا تو مجھے سخت گرمی میں وقت گزارنا پڑتا تھا، مگر اس ملازمت سے ہماری یہ مشکل ختم ہوگئی ہے”۔

کینڈیڈو وکٹوریہ نامی اس قصبے کے مئیر ہیں، انکا کہنا ہے کہ اس جیسے متعدد دیہی علاقوں میں غربت بہت زیادہ ہے۔

کینڈیڈو”کاشتکاروں کو سال بھر میں صرف چار ماہ کام کرنے کا موقع ملتا ہے، جبکہ باقی آٹھ ماہ وہ فارغ بیٹھے رہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ غربت کا یہ چکر بڑھتا جارہا ہے”۔

مئیر گوئما اوربریا بینتز اکھٹے کام کرنے میں کافی فوائد دیکھ رہے ہیں، اس وقت وکٹوریہ میں کافی کاشتکار بانس اگانے کا کام کررہے ہیں اورگوئماکا کہنا ہے کہ اس فصل کے ذریعے کاشتکاروں کو روزگار کا اچھا موقع ملے گا۔

گو ئما”یہ ایک متبادل روزگار کا پروگرام ہے، جس سے ہم لوگوں کو کام فراہم کرسکیں گے، وہ کاشت کریں گے، اسے کاٹیں گے، جس کے بدلے ہم انہیں رقم دیں گے، یہ ان لوگوں کیلئے اچھا منصوبہ ہے، اچھی بات یہ ہے کہ وہ یہ بانس اپنے کھیتوں میں باآسانی اگا سکتے ہیں اور توقع ہے کہ آئندہ تین برسوں میں وہ اس کام سے کافی رقم کمانے لگیں گے”۔

مئیر کے دفتر سے نکلنے کے بعدایم سی بانسوں کی نرسریوں میں پہنچے۔

ایم سی”یہ بانس ایک سال پہلے لگائے گئے تھے، جب ایک بار انکا بیج بو دیا جاتا ہے، تو یہ ڈیڑھ سے دو سال میں استعمال کے قابل ہوجاتے ہیں۔ بانس زمین کا سب سے سرسبز پودا ہے، اور یہ استیل جتنا مضبوط ہوتا ہے، یہ بہت پائیدار، بہت مضبوط اور سائیکلوں کیلئے زبردست ہے”۔