Leprosy Continues to Haunt India – بھارت میں کوڑھ کا مرض

بھارت اگرچہ پولیو سے پاک قرار دیدیا گیا ہے مگر یہاں کوڑھ یا جذام کا مرض اب بھی ختم نہیں ہوسکا ہے، آٹھ برس قبل حکومت نے اس مرض کے خاتمے کا اعلان کیا تھا مگر اب ایک بار پھر کولکتہ سمیت کئی علاقوں میں نئے کیسز سامنے آئے ہیں، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

پینتیس سالہ شخص کولکتہ کے مصروف بازار میں چینی کھانے فروخت کررہا ہے۔

آدمی”میری بائیں کہنی میں ایک سفید دھبہ چند ماہ پہلے پرا اور مجھے کوڑھ کا شک ہوا، میں خاموشی سے ایک ڈاکٹر کے پاس گیا، جس نے میرے شک کی تصدیق کردی”۔

وہ اپنی حالت کو خفیہ رکھنا چاہتا ہے۔

آدمی”اگر لوگوں کو اس بارے میں معلوم ہوا کہ مجھے کوڑھ ہوگئی ہے تو وہ میری دکان سے کھانا لینا چھوڑ دیں گے جو کہ میرے کیلئے تباہ کن ہوگا”۔

کوڑھ ایک خطرناک مرض ہے، جس کا علاج تو ہوجاتا ہے، تاہم اگر اس کا علاج نہ کرایا جائے تو انسان مستقل طور پر معذور بھی ہوسکتا ہے، جبکہ مریض کو معاشرتی تنہائی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر ہیلن رابرٹس کولکتہ کے ایک سرکاری ہسپتال سے تعلق رکھتی ہیں۔

ڈاکٹر رابرٹس”اگر لوگ مدد کی درخواست کریں تو بھی انہیں طبی رضاکاروں کے امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس مرض کے شکار افراد کے رشتے دار بھی برا سلوک کرتے ہیں، اکثر مریضوں کو ان کے خاندان اور شریک حیات گھر سے ہی نکال دیتے ہیں”۔

دو ہزار پانچ میں بھارتی حکومت نے کوڑھ کے مرض کے خاتمے کا اعلان کیا، مگر تین سال قبل ایک لاکھ نئے کیسز سامنے آئے، اور ایک سال قبل ایک ماہر نے بتایا کہ سولہ ریاستوں میں کیسز بڑھ رہے ہیں۔ آرونش چکر بورتی مغربی بنگال میں کوڑھ کے حوالے سے ایک ہسپتال چلارہے ہیں۔

انیش”ہمارا معاشرتی نظام اور مخصوص امراض کے حوالے سے ہماری روایات بہت خراب ہیں، یہی وجہ ہے کہ عام طور پر لوگ اپنے مرض کو چھپاتے ہیں، وہ نجی ڈاکٹرز کے پاس جاتے ہیں، جو پیشہ وارانہ اخلاقیات کی بناءپر اس بات کو افشاءنہیں کرتے، صاف ظاہر ہے کہ اس مرض کے متعدد خفیہ مریض یہاں موجود ہیں”۔

کئی برسوں سے ایک حکومتی ہسپتال میں کام کررہے ہیں، انکا کہنا ہے کہ ایک خاص وجہ سے بھی مریض حکومتی اسپتالوں کو رخ نہیں کرتے۔

دیبھانت”حکومتی ہسپتالوں میں جب ڈاکٹر مریض کا معائنہ کرتے ہیں تو وہاں دیگر مریض بھی موجود ہوتے ہیں، اور مریض کی طبی تاریخ خفیہ رکھنے کا زیادہ اہتمام نہیں کیا جاتا۔ جو لوگ نجی مراکز میں کوڑھ کا علاج کرانے کی سکت رکھتے ہیں وہ حکومتی ہسپتالوں سے دور رہتے ہیں، کیونکہ ہر شخص اس مرض کو خفیہ رکھنے کا خواہشمند ہوتا ہے”۔

بھارت میں اس مرض کے حوالے سے آخری سروے ایک دہائی قبل کیا گیا تھا، جس کے بعد حکومتی پروگرام نیشنل لیپروسے ایریڈیکیشن پروجیکٹ کو ختم کردیا گیا تھا، آرونیش چکربورتی کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس مرض کے خلاف ملک گیر مہم دوبارہ شروع کرنی چاہئے۔

آرونیش”ہمیں لوگوں کو اس مرض کے حوالے سے باشعور بنانا ہوگا، جب تک اس معاشرے میں چھپایا جاتا رہے گا، اس وقت تک اس کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں، اگر لوگ باشعور ہوں گے تو کوڑھ کے مریضوں کے حوالے سے کوئی منفی سوچ نہیں رکھیں گے، اور مریض یہ مرض نہیں چھپائے گا، اس کے بعد ہی ملک سے کوڑھ کا خاتمہ ہوسکے گا”۔

مگر اس وقت یہ شخص لوگوں سے اپنا مرض چھپاتا رہے گا۔

ایک شخص”میری دکان کے ارگرد کسی کو نہیں معلوم کہ مجھے کوڑھ ہے، میں ہمیشہ پوری آستینوں والی قمیض پہنتا ہوں اور اپنے مرض کو چھپا کر رکھتا ہوں”۔