(Early Worries for Malaysia’s Election) ملائیشین انتخابات

ملائیشیاءمیں عام انتخابات آئندہ سال کے شروع میں ہورہے ہیں۔ 2008ءکے انتخابات میں حکمران اتحاد کو آزادی کے بعد پہلی بار پانچ ریاستوں میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔توقع ہے کہ آئندہ انتخابات میں بھی غیرمتوقع نتائج سامنے آئیں گے، تاہم بیشتر ملائشین شہری انتخابات کی شفافیت کے حوالے سے فکرمند ہیں۔

ملائے زبان کے لفظ bersih کا مطلب صاف یا شفاف ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسی نام سے آئندہ انتخابات میں اصلاحات کیلئے ایک تحریک چلائی جارہی ہے۔ یہ تحریک Coalition for Clean and Fair Elections کے زیرتحت چلائی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں اپریل میں Bersih ریلی میں ایک لاکھ کے لگ بھگ افراد نے شرکت کی، تاہم حکومت کے خیال میں یہ تعداد صرف بائیس سے پچیس ہزار تھی۔

ریلی میں لوگوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوتا اگر پولیس کی جانب سے دھاوا نہ بولا جاتا۔ملائیشین بار کونسل کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے ریلی کے شرکاءکو انتہائی بیدردی سے مارا، آنسو گیس کے شیل فائر کئے اور پانی کی تیز دھاروں سے مجمع کو منتشر کیا، پولیس نے پانچ سو سے زائد افراد کو حراست میں بھی لیا۔ متعدد ملائشین شہری پولیس سے خوش نہیں، جبکہ انہیں ملک میں کرپشن، تعلیم اور معیشت کے حوالے سے خدشات بھی لاحق ہیں۔ یہی موضوعات انتخابی مہم میں اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔Wong Chin Huat ماہر سیاسیات اور Bersih steering committee کے رکن ہیں۔

 (male) Wong ” Bersih تحریک انتہائی اہم ہے، کیونکہ ہم انتخابات کو شفاف بنانا چاہتے ہیں، تاکہ مخلص سیاستدانوں کو قوم کی خدمت کا موقع ملے۔ لوگوں کو بھی یہ احساس کرنا چاہئے اور انتخابی اصلاحات کا مطالبہ کرنا چاہئے، کیونکہ ایسا نہ ہوا تو انتخابات دھاندلی سے بھرپور ہوں گے”۔

Bersih تحریک کے مطالبات میں کرپشن کے خلاف اقدامات اور سیاسی مہم کے دوران میڈیا تک رسائی بھی شامل ہے، اسے حزب اختلاف کی جماعتوں اور این جی اوز کی حمایت بھی حاصل ہے۔ انور ابراہیم اپوزیشن لیڈر ہیں۔

انور(male) “ہم آزادانہ و شفاف انتخابات کے مطالبے کی مکمل توثیق کرتے ہیں۔ کیونکہ اسی سے اچھی حکومت کا قیام ممکن ہے اور ملائیشین عوام کو ترقی کا موقع ملے گا”۔

indepedent Malaysian Electoral Roll Analysis Project کے Dr Ong Kiang Mengاپنی ایک تحقیق کے دوران سیاست کے میدان میں سامنے آنے والے مسائل کے بارے میں بتارہے ہیں۔

 (male) Dr Ong Kiang Meng “ملائیشین شناختی کارڈ میں ایک کوڈ کے ذریعے اس ریاست کی نشاندہی کی جاتی ہے جہاں آپ پیدا ہوئے ہو۔جبکہ بیرون ملک پیدا ہونے والے ملائیشین کیلئے مختلف کوڈ ہے۔ اور ہماری تحقیق میں معلوم ہوا کہ حالیہ دنوں میں غیرملکی کوڈ کی رجسٹریشن میں اضافہ ہوا ہے اور یہ مشکوک ووٹرز ہیں۔ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ان افراد کے پتے بھی درج نہیں کئے گئے ہیں، اور اہم بات یہ ہے کہ ان افراد کو الیکشن کمیشن نے نہیں بلکہ ایک حکومتی ادارے نے رجسٹرڈ کیا ہے۔ یعنی اس وقت پچاس ہزار سے ایک لاکھ تک ایسے ووٹرز موجود ہیں جنھیں فرضی شناختی کارڈز کے ذریعے انتخابی عمل کا حصہ بنایا جارہا ہے”۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ انتخابی اصلاحات کی کوئی خاص ضرورت نہیں، الیکشن کمیشن کے چیئرمین اور ان کے نائب دونوں کا تعلق حکمران اتحاد میں شامل سب سے بڑی جماعت یو این ایم او سے ہے۔جعلی ووٹرز ہی شفاف انتخابات کیلئے واحد خطرہ نہیں۔ Tindak Malaysia ایک سول سوسائٹی گروپ ہے، اس کے بانی PY Wong کے مطابق ایک سب سے بڑا خطرہ پوسٹل ووٹر فراڈ ہے۔

 (male) PY Wong “پوسٹ کے ذریعے 32 لاکھ سے زائد ووٹ ڈالے جائیں گے۔ اگر آپ ان ووٹوں کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ اس کا 96 فیصد حصہ ایک ہی جانب ڈالا جاتا ہے۔ پوسٹل ووٹ پچاس پارلیمانی سیٹوں کے انتخابات پر اثرانداز ہوسکتے ہیں، اور تیس نشستوں کا کسی جماعت کے ہاتھ آجانا حکومت بنانے کے مترادف ہے”۔

سرکاری ملازمین کے ووٹ بھی ایک خطرہ قرار دیئے جارہے ہیں۔

 (male) PY Wong “اس وقت سرکاری ملازمین کافی خوفزدہ ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم نے کسی اور کو ووٹ ڈالا تو ہمیں ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑیں گے”۔

PY Wong مزید بتارہے ہیں۔

 (male) PY Wong “ہماری تنظیم لوگوں کو جاکر انتخابی مراحل کے بارے میں بتاتی ہے۔ہم انہیں ووٹ کی رازداری کے تحفظ کی اہمیت سے آگاہ کرتے ہیں، کیونکہ ہمارے خیال میں ووٹ کی رازداری ختم ہونا انتخابی جرم ہے۔ انتخابی قوانین کے مطابق بھی اسے جرم قرار دیا گیا ہے”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *