الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نادرا کے تعاون سے ایک مرتبہ پھر نئی ووٹر فہرستوں کی نمائش شروع کردی ہے۔ان فہرستوں کا جائزہ لیا جائے تو ملک میں آٹھ کروڑ43 لاکھ65 ہزاراکیاون ووٹرز کا اندراج کیا گیا جس میں مرد ووٹروں کی تعداد چار کروڑ77 لاکھ73 ہزار692 اور خواتین کی ووٹرز کی تعداد تین کروڑ65 لاکھ91 ہزار359 ہے۔ ملک میں مرد ووٹرز کی شرح56.6 فیصد اور خواتین ووٹرز کی شرح 43.4 فیصد ہے۔ملک بھر میں ووٹرز کی حتمی فہرست کے مطابق پاکستان میں مرد اور خواتین ووٹرزکے تناسب میں واضح کمی دیکھی گئی ہے ۔ملک میں مختلف اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق آبادی میں خواتین کی شرح 52 فیصد ہے۔لیکن انتخابی فہرستوں میں یہ تناسب مردوں سے کم ہے اس کی وجہ ملک کے دیہی علاقوں میں نوجوان لڑکیوں اور بوڑھی خواتین کی بڑی تعداد کا رجسٹر ووٹرز نہ ہونا ہے کیونکہ ان کے پاس شناختی کارڈز ہی موجود نہیں۔نور ناز آغا ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان ہیں،ان کا کہنا ہے کہ خواتین کے ووٹ رجسٹرڈ کرانے کے ضروری ہے کہ مردم شماری صاف و شفاف طریقے سے کی جائے۔
الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق صوبہ سندھ میں خواتین ووٹرز کی شرح سب سے زیادہ 44.5 فیصد ہے جبکہ پنجاب میں 43.5 فیصد، خیبرپختونخواہ میں 42.5 فیصد، بلوچستان میں 42.4 فیصد اور سب سے کم شرح فاٹا میں 33 فیصد ہے۔ ،عام تاثر یہ ہے کہ شہروں میں خواتین کے شناختی کارڈز تو ہیں لیکن ووٹ کی اہمیت نظرانداز کردی جاتی ہے جبکہ قبائلی اور دیہی علاقوں میں روایات کو جواز بنا کربھی خواتین کو ووٹر زنہیں بننے دیا جاتا۔سینٹر فار ہیومن رائٹس ایجوکیشن پاکستان کے ڈائریکٹر سیمسن سلامت اس حوالے سے کہتے ہیں۔
کسی بھی ملک میں انتخابی عمل کے دوران مرد و خواتین دونوں کے ووٹوں کو بہت اہمیت دی جاتی ہے جبکہ پاکستان میں یہ معاملہ قدرے مختلف ہے ،یہاں خواتین کے ووٹ کو قطعی اہمیت نہیں دی جاتی ،سینٹر فار ہیومن رائٹس ایجوکیشن پاکستان کے ڈائریکٹر سیمسن سلامت کہتے ہیں کہ 52 فیصد آبادی کا تناسب رکھنے والی خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنا ان کو ریاست کے معاملات سے ھصہ لینے سے روکنا ہے۔
اس بات میں دو رائے نہیں ہو سکتیںکہ کسی بھی ملک کی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک خواتین کو دیگر شعبوں کی طرح سیاست اور ریاستی امور میں برابر کا حصہ لینے کا موقع نہ دیا جائے،اور پاکستان میںخواتین کو ووٹ ڈالنے اور سیاسی عمل کا حصہ بننے کے لئے ریاستی اداروں خصوصا الیکشن کمیشن کو خصوصی توجہ دینا پڑے گی۔