Benazir Bhutto’s Birth Anniversary – شہیدنظیربھٹو کی سالگرہ

پاکستان اورمسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بے نظیربھٹو کی سالگرہ آج منائی جا رہی ہے۔ اپنے والد ذوالفقارعلی بھٹو کی طرح بے نظیر نے بھی پاکستان کی سیاست پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔بے نظیر بھٹو21جون 1953 میں سندھ کے مشہور سیاسی بھٹو خاندان میں پیدا ہوئیں۔بے نظیر بھٹو نے ابتدائی تعلیم کراچی، راولپنڈی اور مری کے تعلیمی اداروں میں حاصل کی، جسکے بعد انھوں نے دنیا کی دو مشہور یونیورسٹیوں Harvard اور Oxford میں تعلیم حاصل کی۔ وہ 1976 میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے طلبہ کی یونین کی صدر منتخب ہوئیں اور ایسی پہلی ایشیائی طالبہ تھیں جنہیں یہ اعزاز حاصل ہوا۔

سترکی دہائی میں بے نظیر اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد واپس وطن لوٹیں۔ ا±س کے کچھ ہی عرصے بعد جنرل ضیاءالحق نے مارشل لاءلگاکر ذوالفقارعلی بھٹو کی حکومت ختم کردی ۔مارشل لاءکے دوران اپنی والد کی رہائی، اور ان کو پھانسی دیئے جانے کے بعدسیاسی آزادی کی جدوجہد ان کی قائدانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ کس طرح ایک لڑکی نے تنہا ایک پورے نظام سے ٹکر لینے کی کوشش کی۔انھوں نے 1983 سے 1986ءتک دو سال تک برطانیہ میں جلاوطنی کی زندگی گزاری۔اپریل 1986ءکو جب بے نظیر وطن واپس لوٹیں تو لاہور ائیرپورٹ پر ان کا فقید المثال استقبال کیا گیا۔ بے نظیر بھٹو 1987میں نواب شاہ کی اہم شخصیت حاکم علی زرداری کے بیٹے آصف علی زرداری سے روشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی سیاسی جدوجہد کا دامن نہیں چھوڑا۔ اور1988کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے 35 سال کی عمر میں ملک اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیرِاعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔اگست 1990ءمیں صدر اسحاق خان نے بے نظیر کی حکومت کو بد عنوانی کے الزامات لگا کر برطرف کر دیا۔اسکے بعد اکتوبر 1993ءکے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے بے نظیر ایک مرتبہ پھر وزیرِاعظم بن گئیں۔مگر اس وقت پیپلز پارٹی کے اپنے ہی صدر فاروق احمد خان لغاری نے بےنظیر کی حکومت کو برطرف کر دیا۔1997ءسے 2007ءکے دوران وہ زیادہ عرصہ بیرون ملک مقیم رہیں، تاہم پرویز مشرف کی جانب سے عام انتخابات کے اعلان بعد وہ 18 اکتوبر2007ءکوجلا وطنی سے واپسی پر کراچی پہنچی،جہاں انکے استقبالیہ جلوس کو بم حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں بے نظیر تو محفوظ رہیں لیکن سینکڑوں افراد اس دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ اپنی زندگی کو لاحق شدید خطرات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بے نظیر بھٹو نے انتخابی مہم جاری رکھی جس دوران 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک انتخابی جلسے کے بعد انہیں قتل کردیا گیا۔اگرچہ آج وہ ہم میں نہیں، مگر ان کی ہمہ جہت شخصیت کا اثراتنا گہرا ہے کہ ہم جب بھی اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو وہ ہمیں ہر طرف دکھائی دیتی ہیں، کہیں اپنی بصیرت، کہیں اپنے پیغام، کہیںاپنی پارٹی میں اورکہیں اپنے بچوں کی شکل میںوہ ہمارے گرد موجود نظرآتی ہیں۔ وہ واقعتاً ایسی بلند قامت شخصیت تھیں جن کی یاد ایک لمحہ کے لئے بھی تصور سے محو نہیں ہوتی۔