(Drink Driving Crackdown in Nepal) نیپال میں مے نوش ڈرائیورز کیخلاف مہم

نیپال میں الکحل کے استعمال کے بعد ڈرائیونگ کر نے پر پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم اس پر عملدرآمد نہیں ہورہا، جس کی وجہ سے ہر سال سینکڑوں افراد ہلاک ہورہے ہیں۔

اس وقت رات کے نوبجے ہیں اور ہم لوگ نیپالی دارالحکومت کی پرہجوم شاہراہ Kings’ Way پر موجود ہیں۔ یہاں ٹریفک پولیس کے آٹھ اہلکار ڈیوٹی کررہے ہیں، اور سڑک پر سے گزرنے والے ہر ڈرائیور کو روک کر دیکھ رہے ہیں کہ اس نے الکحل کا استعمال تو نہیں کر رکھا۔

ایک اہلکار نے موٹرسائیکل پر سوار دو نوجوانوں کو روکا، وہ ڈرائیور کے قریب آیا اور اس کے منہ کو سونگھا۔ اس موقع پر ڈرائیور Hum Bahadurنے اپنی شراب نوشی کو جائز قرار دینے کی کوشش کی۔

 (male) Hum Bahadur “جناب میں اس وقت اپنے دوست کی دعوت سے واپس آرہا ہوں، وہ حال ہی میں لیفٹننٹ بنا ہے، مجھے اس سے پہلے بھی حراست میں لیا جاچکا ہے،مگر آپ دیکھیں میرے پاس ڈرائیونگ لائسنس موجود ہے، اس لئے میں درخواست کرتا ہوں کہ مجھے جانے دیا جائے”۔

مگر اہلکار نے لائسنس دیکھنے کے بعد موٹرسائیکل اپنے قبضے میں لے لی اور نوجوان کیلئے ٹیکسی روک لی۔ اس طرح یہ خوش قسمت نوجوان گھر واپس چلا گیا، حالانکہ جب سے یہ نئی مہم شروع کی گئی ہے توالکحل کا استعمال ثابت ہونے پر ڈرائیور کو کم از کم ایک شب حوالات میں گزارنا پڑتی ہے، اس مہم کے آغاز سے ہی ہر شب دوسو افراد کو پکڑا جارہا ہے، جس کی وجہ سے تھانوں میں جگہ ہی نہیں بچتی۔ Sitaram Hachethu ٹریفک انسپکٹر ہیں۔

 (male) Sitaram Hachethu “شراب نوش ڈرائیوروں کی تعداد بہت زیادہ ہے، ہمارے پاس ان کی گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں کھڑی کرنے کیلئے جگہ ہی موجود نہیں۔ ہم ایک چھوٹے سے کمرے میں اسی افراد کو بند کرپاتے ہیں،جہاں صرف بیس افراد کو ہی رکھا جاسکتا ہے۔ حوالات میں ان افراد کو پوری شب کھڑے رہنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ہم گاڑیاں تو اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں مگر ڈرائیورز کو گھر جانے کی اجازت دیدیتے ہیں”۔

ہم نے یہ بھی دیکھا کہ پولیس کے پاس جدید ٹیکنالوجی موجود نہیں۔

 (male) Sitaram Hachethu “ہم ان سے پوچھتے ہیں اور پھر ان کا منہ سونگھ کر معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس شخص نے الکحل استعمال کیا ہے یا نہیں۔ یہ بہت مشکل ہوتا ہے، ایک بار تو ہمارے ایک اہلکار نے ایک ڈرائیور کا منہ سونگھنے کے بعد قے کرنا شروع کردی تھی۔ ہم بھی اکثر اس طرح کی چیکنگ کے بعد طبعیت خراب محسوس کرنے لگتے ہیں، تاہم جلد ہی ہم چین سے مے نوشی کا ٹیسٹ کرنے والے آلات منگوا رہے ہیں، جس کے بعد ہمارے اہلکاروں کو اس طرح کی مشکلات کا سامنا نہیں ہوگا”۔

نیپال میں مے نوشی کے بعد ڈرائیونگ پر پابندی عائد ہے، مگر اس قانون میں الکحل کی کوئی خاص مقدار طے نہیں کی گئی ہے۔

یہ قانون نیپال کی بہت سی ایسی برادریوں کیلئے مشکلات کا باعث بنا ہوا ہے، جو ثقافتی تقاریب میں الکحل کا استعمال کرنے کی عادی ہیں۔Kiran Shrestha کا تعلق Newarبرادری سے ہے، جو کہ نیپال کی چھٹی بڑی برادری ہے۔ یہ برادری گھریلو ساختہ الکحل استعمال کرتی ہے، جبکہ کچھ برادریاں تو مذہبی تقاریب میں مے نوشی کو مقدس مانتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ Kiran Shrestha پولیس کی مہم کو اپنی برادری کیلئے ناانصافی سمجھتے ہیں۔

 (male) Kiran Shrestha “پیدائش سے موت تک ہماری زندگی کے ہر مرحلے میں الکحل شامل ہوتی ہے۔ ہماری ہر ثقافتی تقریب اس کے بغیر نامکمل سمجھی جاتی ہے، ہمیں قانون میں اس حوالے سے کچھ پیمانے طے کرلینے چاہئے، تاکہ قوانین کے اندر رہ کر مے نوشی کرسکیں۔ہمارے لئے اپنی ثقافت کو نظر انداز کرنا مشکل ہے، اب تو ہم الکحل کا استعمال کرتے ہوئے گھبراتے ہیں، میرے خیال میں الکحل کی قانونی مقدار تیس ملی میٹر رکھ دی جانی چاہئے”۔

ہوٹلوں کے مالکان کا موقف بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ہوٹل مالکان کی ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پولیس کی نئی مہم کے بعد ان کی فروخت نصف رہ گئی ہے، تاہم پولیس کا ماننا ہے کہ یہ مہم معاشرتی بہتری کیلئے ضروری ہے۔ٹریفک پولیس کے انسپکٹر Sitaram Hachethu اس حوالے سے اظہار خیال کررہے ہیں۔

 (male) Sitaram Hachethu “ہمیں مے نوش ڈرائیورز کے حوالے سے سخت موقف اپنانا ہوگا، ہماری سڑکیں ٹریفک سگنلز سے محروم ہیں، کیا آپ اس بات پر یقین کریں گے کہ یہاں کی سڑکوں پر بڑے بڑے گڑھے موجود ہیں۔ہماری مہم کے آغاز سے کھٹمنڈو میں شا م کے اوقات میں ٹریفک حادثات کی شرح اسی فیصد کم ہوگئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد والدین اور خواتین نے ہمارا شکریہ ادا کیا ہے، کیونکہ ان کے بچے اب وقت پر گھر پہنچ رہے ہیں۔اسی طرح حالیہ اعدادوشمار سے معلوم ہوا کہ گھریلو تشدد کے واقعات کی شرح بھی کم ہوئی ہے”۔

قوانین کے مطابق الکحل کا استعمال ثابت ہونے پر پولیس ڈرائیور کی گاڑی اور ڈرائیونگ لائسنس اپنے قبضے میں لے سکتی ہے، جبکہ دس ڈالر کا جرمانہ بھی عائد کیا جاسکتا ہے۔ اور اگر ڈرائیور دوبارہ قانون کی خلاف ورزی کرے تو جرمانے کی شرح بڑھ جاتی ہے، جبکہ ان ڈرائیورز کو ٹریفک پولیس اسٹیشن میں خصوصی ایک گھنٹے کی کلاس میں بھی حصہ لینا پڑتا ہے۔

تیس افراد اس وقت ایک ہال میں بیٹھے ہوئے ہیں، ان میں وکلاءسے لیکر فلاحی کارکن بھی شامل ہیں، جو مے نوشی کے بعد ڈرائیونگ کرتے ہوئے پکڑے گئے تھے۔ ہال کی دیواروں پر ٹریفک حادثات میں مر جانے یا زخمی ہو جانے والے افراد کی تصاویر ہیں۔ انسپکٹر Bipin Gautam ان ڈرائیورز کے سامنے لیکچر دے رہے ہیں۔

 (male) Bipin Gautam “جب آپ نشے میں ہوں تو آپ کا جسم ہنگامی حالات میں تیزی سے ردعمل کا اظہار نہیں کرپاتا۔ان تصاویر کو دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ ان تصاویر میں موجود افراد کی طرح زندگی بھر کیلئے معذور ہوسکتے ہیں۔ بلغاریہ میں تو مے نوش ڈرائیورز کو عمر قید کی سزا سنادی جاتی ہے، ہم نے بھی چند قوانین بنا رکھے ہیں، تو براہ مہربانی ہماری بات پر عمل کریں اور مے نوشی کے بعد ڈرائیونگ نہ کریں”۔

اس کلاس کے بعد ہم نے Hira Kaji Pradhan نامی شخص سے بات کی، جسے بیس ڈالر کا جرمانہ ادا کرنا پڑا ہے۔

 (male) Hira Kaji Pradhan “انھوں نے جو کچھ بھی کہا وہ بالکل ٹھیک تھا۔ مے نوشی کے بعد ڈرائیونگ کرنا بہت خطرناک کام ہے، لیکن میرے لئے تو یہ ایک عادت بن گئی ہے، جب الکحل چھوڑنے کے لئے کوئی دوا دستیاب ہی نہیں، تو میں کیا کر سکتا ہوں؟ تاہم جب میں نشے میں ہوتا ہوں تو میری کوشش ہوتی ہے کہ ڈرائیونگ نہ کروں”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *