سیل فون ہماری زندگیوںکا اہم ترین حصہ بن چکا ہے،کاروباری ڈیلنگز ہوں یا عزیزواقارب سے رابطے میںرہنا ہوموبائل فون کے بغیر روزمرہ زندگی کاجیسے کوئی تصور ہی نہیں۔ پاکستان بھر میں مصروف عمل سیلولر کمپنیوں کے درمیاں موجود مقابلے بازی کی دوڑ نے نت نئے اور رعایتی کالنگ پیکجز متعارف کروائے ہیں،کم سے کم کال ریٹ پر رات بھر لمبی بات،رات12سے صبح09تک کریں مفت کالز،اس نوعیت کے پرکشش اشتہارات ہماری نظروں سے گزرتے ہی رہتے ہیں لیکن کسی نے سوچا کہ سیل فون کے نقصان دہ اثرات سے سب سے زیادہ کون متاثر ہو رہا ہے؟ ہماری نئی نسل خصوصاً کم عمر لڑکیاں ۔۔۔دن کے بیشتراوقات اور رات بھرکی جانے والی رعایتی یامفت کالز کے کیا نتائج سامنے آتے ہیں ،یہ ہم اخبارات کے اندرونی صفحات میں لگنے والی خبروں میں پڑھتے ہی رہتے ہیں۔عورت فاﺅنڈیشن کی ریزیڈنٹ ڈائریکٹر مہناز رحمٰن کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ٹیکنالوجی بری نہیں ہوتی ہاں اسکا صحیح یا غلط استعمال ہماری زندگیوں پر مثبت یا منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے:
مہناز رحمٰن کا کہنا ہے کہ والدین اور اساتذہ پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ موبائل فون کے غیر ضروری استعمال اور نقصان دہ اثرات سے نئی نسل خصوصاً کم عمر لڑکیوں کو آگاہ کریں:
اس نوعیت کے واقعات بھی سامنے آتے رہے ہیں کہ مجرمانہ ذہنیت کے لوگ لڑکیوں کو ٹریپ کرنے کیلئے سیل فون کا استعمال کرتے ہیں،موبائل فون پر نوجوان لڑکے لڑکیوںکی دوستیاں آگے چل کر غلط رخ اختیار کرتی ہیں، نوجوانوں کیلئے یہ انتہائی ضروری ہے کہ وہ سیل فون سمیت دیگر ایجادات کے مثبت اور منفی استعمال سے آگاہ ہوں:
جہاں نوجوان نسل میں موبائل کیمروں، بلیو ٹوتھ اور میسجنگ سروس کا انتہائی غلط استعمال کیا جارہا ہے وہیں یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ نوجوان لڑکیوں کو موبائل فون کے غیر ضروری اور غیر اخلاقی استعمال کی جانب راغب کرنے میں میڈیا بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے، اشتہارات میں سیل فون کو زندگی کا جزو لازم اور اسٹیٹس سمبل قرار دیا جاتا ہے،یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں کیلئے اُن کے قریبی رشتوں سے زیادہ موبائل فرینڈز اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔عورت فاﺅنڈیشن کی ریزیڈنٹ ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ اشتہاری ایجنسیز پر چیک اینڈ بیلنس پالیسی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے:
گھر اور خاندان کی عزت سے لے کرآئندہ نسل کی تربیت تک نوجوان لڑکیوں پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے،سیل فون سمیت کسی بھی ایجاد کا غلط استعمال اُنکی زندگیوں کو ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کر سکتا ہے:
ماہرین کاماننا ہے کہ منفی سر گرمیوں سے دور رکھنے کیلئے نوجوانوں کو مثبت اور تعمیری ایکٹوٹیز میںمشغول رکھنا انتہائی ضروری ہے،والدین خصوصاً ماﺅںکو چاہئیے کہ کم عمر لڑکیوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت بِتاتے ہوئے اُنکے مسائل جاننے کی کوشش کریں اسکے ساتھ ساتھ والدین اور اساتذہ کو نوجوان لڑکیوں کو سیل فون اور دیگر ٹیکنالوجیز کے مثبت اور منفی استعمال سے بھی آگاہ کرنا چاہئیے۔
