فلپائن کی ایک چھوٹی فیشن کمپنی Rags 2 Richesنے ملک سے غربت کے خاتمے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔
موسیقی کی دھنوں میں خوبصورت ماڈلز ہاتھوں میں رنگا رنگ بیگز اور پرس اٹھائے کیٹ واک کا مظاہرہ کررہی ہیں۔ یہ فلپائن کے جانے مانے فیشن ڈیزائنر Rajo Laurel کی نئی کلیکشن ہے،تاہم اس سے انہیں ایک پیسے کی بھی آمدنی نہیں ہوگی۔اسٹیج پر Rajo Laurel اپنے منصوبے کے بارے میں بتارہے ہیں۔
male) Rajo Laurel “میں چاہتا ہوں کہ آپ سب خریداری کرتے جائیں، کرتے جائیںاور بس کرتے ہی جائیں۔یہ خواتین بہت باصلاحیت ہیں اور انہیں کام کی ضرورت ہے”۔
Rajo Laurel کا اشارہ ان درجنوں خواتین کی جانب تھا جو سیاہ لباسوں میں ملبوس میزوں کے گرد کھڑی تھیں۔ یہ خواتین درحقیقت جولاہے یا کپڑے بننے کا کام کرتی ہیں اور یہ بیگز انھوں نے ہی تیار کئے ہیں۔یہ خواتین فلپائن کے دارالحکومت منیلا کے غریب ترین علاقے کی رہائشی ہیں۔یہ خواتین Rags 2 Riches کیلئے کام کرتی ہیں۔یہ کمپنی 2007ءسے کام کررہی ہے اور انتہائی مہنگی مصنوعات تیار کرتی ہے۔ اس سے پہلے یہ خواتین کپڑے بننے کا کام کرتی تھیں تاہم انکا معاوضہ یا منافع نہ ہونے کے برابر تھا، تاہم Jesuit نامی شخص نے اس عمل کو غیرمنصفانہ قرار دیتے ہوئے ان خواتین کی مدد کیلئے ایک گروپ تشکیل دیا، جبکہ Jesuit کے دوست Rajo Laurel نے ان خواتین کی صلاحیت کو بھانپ لیا۔
(male) Rajo Laurel “میں وہاں گیا اور میں نے انہیں کہا کہ میں کپڑے دیکھنے نہیں آیا، آپ ان کپڑوں کو موڑ دیں اور ان میں کچھ بٹن لگا دیں تو یہ بوتلیں اٹھانے والا بیگ بن جائے گا، یا آپ کپڑوں میں زپ لگادیں تو یہ پرس بن جائے گا۔ اسی طرح دو کپڑوں کو جوڑ کر اس پر ایک پٹی لگادی جائے تو ہینڈ بیگ تیار ہوجائیگا”۔
اس طرح Rags 2 Riches کمپنی قائم ہوئی، جس کا مقصد غریب خواتین کے معیار زندگی کو بہتر بنانا تھا۔ اب ان خواتین کو اپنی تیار کردہ مصنوعات کا اچھا معاوضہ مل رہا ہے۔ 27 سالہ Reese Fernandez-Ruiz آغاز سے ہی اس کمپنی کو سنبھال رہی ہیں۔
(female) Reese Fernandez-Ruiz “مجھے محسوس ہوا تھا کہ یہ کام روح کو سکون پہنچانے والا ہے۔ اس کام سے مجھے لگا کہ اب بھی دنیا میں اچھائی موجود ہے، اور آپ اس کے ذریعے دیگر افراد کو غربت کی زندگی سے اوپر لاسکتے ہیں”۔
آج یہ خواتین معیاری لباس اور دیگر مصنوعات تیار کررہی ہیں۔ ان کی مصنوعات فائیو اسٹار ہوٹلز اور بلند و بالا شاپنگ سینٹرزمیں فروخت ہو رہی ہیں۔ Rosanna Alipao ایک ہنرمند خاتون ہیں، وہ چند مشکلات کا ذکر کررہی ہیں۔
(female) Rosanna Alipao “میں یہ کام طویل عرصے سے کر رہی ہوں، جس دوران میرے کام کو متعدد بار مسترد کیا گیا، ابھی بھی کئی بار میری تیار کردہ مصنوعات کو مسترد کیا جاتا ہے، مگر میں اپنا کام پورے جوش و جذبے سے کررہی ہوں”۔
گھروں میں کام کرنیوالی ان خواتین کو اب ان کی تیار کردہ ہر مصنوعات کیلئے رقم مل رہی ہے، جس سے ان کے خاندانوں کا معیار زندگی بہتر ہوا ہے۔Alipao نامی خاتون کا کہنا ہے کہ اسکا شوہر اپنی ملازمت ختم ہونے تک اس کے کام کو وقت کا ضیاع سمجھتا تھا۔
(female) Alipao “جی ہاں یہ حقیقت ہے کہ مرد چاہتے ہیں کہ ہم ان پر ہی انحصار کریں، مگر جب وہ صبح اٹھ کر مجھے کپڑے یا دیگر چیزیں تیار کرتے ہوئے دیکھتا تو وہ میری تیار کردہ ہر چیز کو باہر پھینک دیتا۔ مگر اب وہ بیروزگار ہوچکا ہے اور میرا کام ہی ہمارے گھر میں خوراک کا ذریعہ بنا ہوا ہے”۔