بھٹے پر اینٹیں بنانے والی خواتین اپنے خاندان سمیت بے پناہ مسائل کا سامنا کرتی ہیں،اُجرت سے لے کر اوقات کار تک مشکلات اور دشواریوں کانہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے سب سے زیادہ تکلیف دہ بھٹہ مالکان کا رویہ ہے،ساہیوال سے پی پی آئی کے نمائندے رشید قائم خانی کا کہنا ہے کہ عموماً یک مشت ادائیگی کے بعد بھٹہ مالکان پورے خاندان کو اپنا غلام بنا لیتے ہیں اور اُن سے ادائیگی سے کہیں زیادہ مشقت لیتے ہیں:
اس معاملے میں حکومت کی جانب سے بھٹہ کشوں کیلئے مقرر کردہ اجرت سے کہیں کم اجرت دی جاتی ہے، اور اجرت مانگنے والوں کو نہ صرف تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ ان سے روزی روٹی کا آسرابھی چھین لیا جاتا ہے:
ساہیوال میں سرگرم عمل انسان دوست تنظیم سے منسلک انجم وٹو کا کہنا ہے بھٹے پر انٹیں بنانے والی خواتین کے ساتھ ناروا سلوک رکھا جاتا ہے،جسمانی اور جنسی تشدد کے ساتھ ساتھ اوقات کار میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جاتی :
حال ہی میں اس حوالے سے ایک واقعہ بھی سامنا آیا تھا ،بھٹے پر کام کرنے والی ایک خاتون نے جب بھٹہ مالک سے زیادہ اجرت کا تقاضہ کیا تو اسے اور اُسکے خاندان کو سرعام تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اسکے بعد پورے خاندان کو جھوٹے مقدمے میں الجھا لیا گیا:
ملک کے مختلف علاقوں میں بھٹہ مالکان کی من مانیاں ، پورے خاندان کو یرغمال بنانے اور خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں اس معاملے میں حکومتی ادارے کیا کردار ادا کر رہے ہیں اور بھٹہ کشوں کے حقوق کیلئے آواز کیوں نہیں بلند کی جاتی اس بارے میں جب ہم نے انسان دوست تنظیم سے منسلک انجم وٹو سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ بے پناہ اثر ورسوخ رکھنے والے بھٹہ مالکان کے خلاف شکایات درج کروانے والے خود زیر عتاب آجاتے ہیں اور کئی علاقوں میں تویہ لوگ باقاعدہ ما فیہ کی شکل اختیار کر چکے ہیں: