Cricket in the land of football فٹبال کے دیس میں کرکٹ کی آمد

فٹبال کے دیوانوں کا ملک سمجھے جانے والے جرمنی میں نوجوانوں کے اندر کرکٹ کی مقبولیت دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ تارکین وطن کی موجودگی کے لحاظ سے جرمنی دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے، یہاں جنوبی ایشیائی خطے سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد موجود ہیں، جو کہ یہاں کرکٹ سے محبت پھیلا رہے ہیں۔

جرمنی کے شہر بون میں انتہائی چمکدار دوپہر کا آغاز ہوا ہے، جس کے ساتھ ہی کرکٹ کھیلنے کے شوقین دریائے Rhine کے قریب واقع Rheinau Ground میں جمع ہونے لگے ہیں۔ بون اس وقت جرمنی میں کرکٹ کا مرکز بن چکا ہے، اور یہاں جرمن کرکٹ لیگ کے میچز کا انعقاد ہورہا ہے۔ اس لیگ میں مختلف صوبوں کی درجنوں ٹیمیں ایک دوسرے کا مقابلہ کررہی ہیں، جس میں سے ٹاپ ٹیمیں رواں برس کے ٹائٹل کیلئے ایک دوسرے کا سامنا کریں گی۔آج بون شہر کی ٹیم اپنے پڑوسی شہر Cologne سے مقابلہ کررہی ہے۔

اس میدان میں آپ چند یورپی عناصر کی جھلک تو محسوس کرسکتے ہیں، تاہم یہاں واضح غلبہ جنوبی ایشیائی افراد کا ہی نظر آتا ہے۔

Alana جن کی پیدائش مغربی بھارت میں ہوئی یہاں اپنے دوستوں کے ساتھ موجود ہیں، یہ پہلا موقع ہے کہ وہ بون میں کرکٹ میچ دیکھ رہی ہیں۔

 (female) Alana “مجھے حیرت ہے، مجھے یہ دیکھ کر جھٹکا لگا ہے، کرکٹ تو روایتی طور پر نوآبادیاتی کھیل ہے، جسے آپ برطانیہ کے زیرقبضہ رہنے والے ممالک کے سوا کہیں اور فروغ پاتے دیکھ نہیں سکتے، اور میں اس وقت ایک چمکدار دوپہر کو جرمنی میں مردوں کو کرکٹ کھیلتے دیکھ رہی ہوں۔ کرکٹ تو ویسٹ انڈین، پاکستانی، برطانوی اور بھارتی کھیل لگتا ہے، مگر اسے جرمنی میں دیکھنا واقعی حیرت انگیز ہے”۔

جرمن کرکٹ فیڈریشن کا قیام 1988ءمیں عمل میں آیا تھا، پانچ برس قبل فیڈریشن نے ایک منصوبہ شروع کیا، جسے کرکٹ ٹو جرمن اسکول کا نام دیا گیاہے، جس کا مقصد جرمن نوجوانوں کو کرکٹ سے متعارف کرانا تھا۔سترہ سالہ جرمن نوجوان ابراہام اعوان کافی عرصے سے قومی یوتھ کرکٹ ٹیم کیلئے کھیل رہا ہے۔

اعوان(male) “یہ واقعی ایک صاف ستھرا اور شفاف کھیل ہے، یہ فٹبال کی طرح جسمانی چیلنجنگ گیم نہیں ہے۔ ہماری ٹیم اچھی کارکردگی کا مظاہرہ دکھا رہی ہے، اور اسکول کے بچوں کو اس کھیل کا حصہ بنا کر ہم مستقبل میں مزید آگے بڑھ سکیں گے”۔

Andre Leslie جرمنی کی قومی کرکٹ ٹیم کے ساتھ کھیل چکے ہیں، اور اب وہ معروف کرکٹ کمنٹیٹر بن گئے ہیں۔

 (male) Andre Leslie “یورپ میں کرکٹ کے فروغ کیلئے پاکستانیوں کا کردار بہت اہم ہے، ہم نے ناروے، ڈنمارک اور فرانس میں انہیں اس کھیل کو فروغ دیتے ہوئے دیکھا ہے”۔

جنوبی ایشیائی تارکین وطن 1960ءکی دہائی سے جرمنی میں آرہے ہیں، اور وہ اپنے ساتھ کرکٹ سے اپنی محبت کو بھی یہاں لارہے ہیں۔ حیدر عباس جرمنی میں کرکٹ کو فروغ دینے والے معروف پاکستانی ہیں۔ وہ 90ءکی دہائی میں کاروبار کی غرض سے جرمنی آئے اور یہاں آکر اپنا وقت اور پیسہ جرمن نوجوانوں کو کرکٹ کی جانب متوجہ کرانے کیلئے خرچ کیا۔حیدر عباس کو جرمنی میں کرکٹ کی مقبولیت کو موجودہ سطح پر دیکھنے کیلئے سولہ سال کا انتظار کرنا پڑا۔

حیدرعباس(male)     1996ءمیں ہم نے اپنا کلب قائم کیا، اور بعد ازاں مزید دو کلبوں کی بنیاد رکھی۔اس کے بعد ہم ایک پرائیوٹ لیگ کو چلانا شروع کیا، اور اب ہمارے پاس صرف ایک صوبے میں ہی چودہ ٹیمیں ہیں”۔

آج جرمنی بھر میں پچاس کرکٹ کلب کام کررہے ہیں، اور یہ کھیل اب سرحد پار بھی پہنچ رہا ہے۔

عباس(male) “دنیا اب ایک عالمی گاﺅں کی شکل اختیار کرچکی ہے، لوگ ہر جگہ جارہے ہیں اور نئے ممالک میں کھیل کو فروغ دے رہے ہیں، ایسا ہر کھیل میں ہورہا ہے، یہاں تک کہ جرمن فٹبال ٹیم میں بھی ترک اور مشرقی پورپی نژاد کھلاڑی موجودہیں۔ کرکٹ ایک سپسنس بھراکھیل ہے، جسے جب کوئی سمجھ لیتا ہے، تو وہ پوری زندگی اس کے ساتھ جڑا رہتا ہے”۔

میدان میں واپس چلتے ہیں، جہاں بون کی ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، تاہم یہ عمران خان کیلئے ایک اچھا میچ ثابت ہوا، جو بون کی ٹیم کے اسٹار پلیئر ہیں۔

خان(male) “ہم یہاں اس اچھے موسم، سرسبز گھاس اور اچھی کرکٹ کنڈیشنز میں کھیل کر بہت محظوظ ہوئے ہیں، ہمیں اپنے دوستوں کیساتھ کھیل کر بہت اچھا لگا ہے”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *