ملائیشیاءمیں اس وقت چالیس لاکھ سے زائد غیرملکی افراد کام کررہے ہیں، جن میں سے نصف غیرقانونی طور پر یہاں مقیم ہیں۔ ان غیرقانونی تارکین وطن کو ہر وقت ملک بدری اور پولیس کے ہاتھوں ہراساں ہونے کا خطرہ لاحق رہتا ہے، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ملائیشین افرادی قوت میں ان کا کردار انتہائی اہم ہے۔اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے ملائیشین حکومت نے گزشتہ سال اکتوبر میں ایک نیا پروگرام 6P شروع کیا تھا۔
محمد سمیع ملائیشیاءکی ایک تعمیراتی کمپنی کیلئے گزشتہ پندرہ سال سے کام کررہے ہیں۔1990ءکی دہائی میں وہ بیس برس کی عمر میں انڈونیشیاءسے ملائیشیاءپہنچے تھے، اور اس کے بعد سے وہ بغیر سرکاری اجازت نامے کے متعدد تعمیراتی کمپنیوں میں کام کرچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ملائیشین حکومت نے گزشتہ برس غیرقانونی تارکین وطن ملازمین کیلئے 6P نامی پروگرام شروع کیا، تو سمیع نے فوری طور پر اپنا نام درج کرادیا۔
سمیع(male) “جب پولیس ہمیں ہراساں کرنے آئے اور رشوت دینے کیلئے رقم نہ ہو تو آپ کو بہت زیادہ ذہانت سے کام لینا پڑتا ہے۔تاہم اگر آپ کے پاس دستاویزات موجود ہوں تو پولیس آپ کو تنگ نہیں کرتی، اگر وہ ایسا کرے تو آپ سیدھا انڈونیشین سفارتخانے جاکر شکایت درج کراسکتے ہیں۔ ہم اس نئے پروگرام پر ملائیشین وزارت داخلہ کے شکرگزار ہیں، اس پروگرام کے تحت اب ہمیں بہتر طریقے سے کام کرنے کا موقع ملے گا، اب ہم آزادی سے اپنے دفتر جاکر کام کرسکتے ہیں”۔
اس پروگرام کے تحت لوگوں کو رجسٹر کرکے ان کی ذاتی تفصیلات اور بائیومیٹرک ڈیٹا کا اندراج کیا جاتا ہے۔ Irene Fernandez تارکین وطن کے لئے کام کرنے والی این جی او Tenaganita کی ڈائریکٹر ہیں، وہ اس پروگرام کی افادیت بتارہی ہیں۔
” 6P (female) Irene Fernandez رجسٹریشن کا مکمل طریقہ کار موجود ہے، بائیومیٹرک نظام کے ذریعے غیرقانونی تارکین وطن کی موجودگی کو قانونی دائرے میں لایا جاتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت اب تک تیرہ لاکھ تارکین وطن نے اپنی رجسٹریشن کرائی ہے اور وہ اپنی موجودگی کو قانونی بنانا چاہتے ہیں”۔
تاہم تیرہ لاکھ تارکین وطن کی رجسٹریشن کے باوجود صرف تین لاکھ بیس ہزار افراد کو کام کرنے کا اجازت نامہ دیا گیا۔جبکہ اس پروگرام میں رجسٹریشن نہ کرانے والے ایک لاکھ افراد رضاکارانہ طور پر اپنے اپنے ممالک لوٹ گئے، جبکہ نو لاکھ مستقبل کے بارے میں غیریقینی صورتحال کا شکار ہیں۔
کوالالمپور کے نواح میں سمیع انڈونیشین تارکین وطن کے حقوق کیلئے کام کرنے والے گروپ Migrant Care سے مدد مانگنے کیلئے موجود ہے۔ سمیع کے ایک دفتری ساتھی کو حکام نے گرفتار کرلیا ہے۔
سمیع(male) “میرے دوست حمید کو گرفتار کرلیا گیا ہے، اس نے بھی 6P پروگرام میں رجسٹریشن کرائی تھی اور اس کی انگلیوں کے نشانات بھی لئے گئے تھے، مگر اس کے باوجود ایک رات پولیس نے حمید کے گھر پر چھاپہ مارکر اسے بغیر کسی وجہ کے پکڑکر لے گئے۔ حمید گھر سے باہر بہت کم نکلتا ہے، بلکہ وہ دفتر سے واپس آکر صرف اسی وقت گھر سے باہر آتا ہے جب وہ انڈونیشیاءمیں موجود اپنے بچوں کو رقم بھیجتا ہے”۔
سمیع کا ماننا ہے کہ حمید کی رجسٹریشن کا عمل مناسب طریقے سے نہیں ہوا، جس کی وجہ سے وہ مشکل میں پھنس گیا۔
سمیع(male) “آخر رجسٹریشن ایجنٹ اس صورتحال میں کچھ کر کیوں نہیں رہا؟ میں اس کی بیوی کے ہمراہ ایجنٹ سے ملا تھا ۔ ایجنٹ نے حمید کی بیوی کو6P پروگرام کا خط دیا مگر دیگر تفصیلات نہیں دیں اور اسے رہا کرانے کیلئے کچھ کرنے سے بھی انکار کردیا۔دوسری جانب پولیس کا اصرار ہے کہ حمید کا نظام اس پروگرام میں موجود نہیں”۔
اس پروگرام میں رجسٹریشن کا عمل انتہائی سادہ ہے، مالکان کی اسپانسرشپ حاصل کرکے تارکین وطن ملازمین حکومتی ایجنٹوں سے رابطہ کرتے ہیں جنھیں آٹھ سو سے تیرہ سو ڈالر فی شخص ادا کئے جاتے ہیں، جس کے بعد رجسٹریشن کا عمل شروع ہوتا ہے، جس کے بعد انہیں ورک پرمٹ جاری ہونے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ایک این جی او Migrant Care کے عہدیدار Alex Ong کا کہنا ہے کہ رجسٹریشن کا مطلب یہ نہیں کہ مشکلات کا دور ختم ہوگیا۔
(male) Alex Ong “متعدد افراد جو رجسٹریشن فیس ادا کرچکے ہوتے ہیں، انہیں پولیس افسران کی جانب سے پریشان کیا جاتا ہے، بظاہر یہ محکمہ داخلہ اور پولیس حکام کے درمیان رابطے کے فقدان کا نتیجہ لگتا ہے۔ اسی طرح بہت سے ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں کہ ورک پرمٹ کا انتظار کرنے والے افراد کو تاحال پرمٹ نہیں مل سکا، اس صورتحال کی وجہ سے ان افرادکوانتہائی غیریقینی صورتحال کا سامنا ہوتا ہے۔ قانونی طور پر دیکھا جائے تو ورک پرمٹ کیلئے درخواست دیتے ہی وہ یہاں رہنے کے حقدار بن جاتے ہیں”۔
متعدد کمپنیوں کا دعویٰ ہے کہ پولیس کی جانب سے ان کے ملازمین کو ہراساں کیا جارہا ہے اور وہ تارکین وطن سے رشوت بٹورنے میں مصروف ہے، حالانکہ ان کی رجسٹریشن بھی ہوچکی ہے۔
Irene Fernandez کے مطابق کئی ایجنٹ رجسٹریشن کی رقم لیکر بھی درخواست گزاروں کی رجسٹریشن نہیں کرتے۔
(female) Irene Fernandez “ہمارے پاس آنیوالی شکایات کے مطابق حکومتی ایجنٹ لوگوں کو دھوکہ دینے میں مصروف ہیں، میری نظر میں یہ حکومتی معاملہ ہے کیونکہ اسی نے ان ایجنٹوں کو کام کرنے کی اجازت دی، حکومت کو نگرانی کا موثر نظام بنانا چاہئے تاکہ تارکین وطن کو دھوکے بازی کا سامنا نہ ہو”۔
اس پروگرام کے حوالے سے مکمل تفصیلات بھی بہت کم لوگوں کو معلوم ہے، یہی وجہ ہے کہ متعدد تارکین وطن رجسٹریشن کے عمل کو تاحال صحیح طرح سمجھ نہیں سکے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ حکومت کی جانب سے دو قسم کے پرمٹ جاری کئے جاتے ہیں، ایک تو مالکان کی مدد سے جاری ہوتا ہے، جبکہ دوسرا پرمٹ ملازمین کو کسی اور جگہ کام کرنے کی اجازت دیتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایک ہی ورک پرمٹ جاری کیا جارہا ہے اور اس کے تحت لوگوں کو اپنی ملازمتیں چھوڑنے کا حق حاصل نہیں۔ Alex Ong اس حوالے سے وضاحت کررہے ہیں۔
(male) Alex Ong “انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے متعدد کارکن فری لانس کام کرنا پسند کرتے ہیں، وہ مالکان کی اسپانسرشپ کی بجائے ایجنٹوں سے خود پرمٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ وہ اپنی مر ضی کی جگہ پر کام کرسکیں۔مگر یہ عمل قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے مشکل کا سبب بن جاتا ہے، کیونکہ ملائیشین حکومت نے صرف مخصوص اسپانسر شپ والے ورک پرمٹ جاری کرنے کی اجازت دی ہے۔ یہاں بہت سے ایسے ایجنٹ موجود ہیں جو اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انکی جعلی رجسٹریشن کرتے ہیں، جس کے باعث یہ تارکین وطن مشکل میں پھنس جاتے ہیں”۔