Court Upholds “Allah” Ban on Christian Publication – ملائیشیاءمیں عیسائیوں پر لفظ کے استعمال پر پابندی

ملائشیا کی ایک عدالت نے حال ہی میں غیر مسلم شہریوں کے لیے لفظ اللہ کے استعمال پر پابندی لگادی ہے اور اس حوالے سے حکومتی پابندی کو برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔تاہم ملائیشین عیسائیوں کے خیال میں اس فیصلے سے ان کے مذہبی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

سو سے زائد مسلمان عدالت کے باہر جمع ہیں، ان میں سے ایک احمد کمال کا تعلق ایک این جی او ارمادا میلایو سے ہے۔

احمد کمال”ہم یہاں آج اس لئے موجود ہیں تاکہ عیسائیوں کو لفظ اللہ استعمال کرنے سے روک سکیں، ہم اس حوالے سے اپنے دوستوں اور دیگر این جی اوز کی حمایت کرتے ہیں، یہ فیصلہ اسلام کی فتح ہے”۔

عدالتی فیصلے کے انتظار کے دوران یہ لوگ نعرے لگاتے رہے، اور عدالتی فیصلہ سامنے آتے ہی جشن کا آغاز ہوگیا۔

احمد کمال”میرا ماننا ہے کہ لفظ اللہ صرف مسلمانوں کیلئے مخصوص ہے، انجیل میں کہیں بھی لفظ اللہ نہیں بلکہ خدا، لارڈ یا مسیح جیسے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں، تو آخر ملائیشیاءمیں عیسائی لفظ اللہ کیوں استعمال کرنا چاہتے ہیں؟”

مگر ملائیشیاءمیں استعمال کی جانے والی بائبلز میں لفظ کا استعمال کئی نسلوں سے ہورہا ہے، کیتھولک اخبار ہیرالڈ کے وکیل ایس سیلواراجھا کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلہ مضحکہ خیز ہے۔

راجھا”حکومت اس معاملے کو گرم اور سرد کرتی رہی ہے، اگر انجیل ہی لفظ اللہ کے استعمال کے حوالے سے مرکزی ذریعہ قرار پاتی ہے تو کیا حکومت اس کی توثیق کردیتی؟ مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ انجیل کا حوالہ دیکر اس لفظ کے استعمال کو کیسے روکا جاسکتا ہے، یہ واضح طور پر احمقانہ نظریہ ہے”۔

ملائیشین عیسائیوں کا ماننا ہے کہ اس پابندی سے ان کے مذہبی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے، ریو ھرمین شاستری، چرچس ملائشیا کے جنرل سیکرٹری ہیں۔

حر مین”اگر پابندی کا اطلاق پورے ملک میں انجیل کی اشاعت پر ہوگا، خصوصاً صبا اور ساراوا میں جہاں عیسائیوں کی بیشتر آبادی رہائش پذیر ہے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ لفظ اللہ عیسائیت کا حصہ نہیں، میں نہیں سمجھتا کہ عدالت اس تک حد تک مذہبی معاملات میں ماہر ہے کہ ایسا کہہ سکے”۔

ملائیشین مسلم گروپس جیسے پرکسا اس فیصلے کو عیسائیوں کو اس لفظ کے استعمال سے روکنے کا سگنگل سمجھتا ہے۔ابراہیم علی پر کسا کے صدر ہیں۔

ابراہیم علی”اگر کوئی شخص عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لفظ اللہ کا استعمال کرتا ہے تو ملکی آئین کے تحت اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی”۔