حکومت پاکستان نے سوات کو فلم سٹی کی حیثیت دینے پر غور شروع کردیا ہے تاکہ مقامی فلمی صنعت کو فروغ دیا جاسکے۔ یہ صنعت تیزی سے فروغ پارہی ہے اور لوگ بھی اب عسکریت پسندوں کے ڈر سے آزاد ہوکر سینماﺅں کا رخ کررہے ہیں۔
درجنوں افراد وادی سوات کے واحد سینما گھر کے باہر قطار بنائے کھڑے ہیں، یہ لوگ ایک رومانوی پشتو فلم Ghandaar کے شام چھ بجے والے شو کی ٹکٹیں لینے کیلئے کھڑے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں دکھائی جانے والی دیگر دو فلمیں بھی رومانوی ہی ہیں۔
سینما ہال کے اندر ائیرکنڈیشن موجود نہیں، جبکہ یہاں ٹکٹ ڈیڑھ سو روپے کے قریب ہے، اس کے باوجود بیٹھنے کیلئے نشستیں لکڑی سے بنی ہوئی ہیں، جبکہ فلم دیکھتے ہوئے کھانے کیلئے کوئی چیز دستیاب نہیں۔فرش بہت گندا اور سیگریٹوں سے بھرا پڑا ہے، اوپر چھت بھی کہیں غائب ہے، تاہم سینما مالکان نے حال ہی میں ایک بڑی اسکرین ضرور خرید لی ہے۔آج لوگ لڑائی جھگڑے سے بھرپور فلموں کی جگہ رومانوی کہانیوں میں زیادہ دلچسپی دکھا رہے ہیں، Ghadaar ایک ایسے نوجوان کی کہانی ہے جو اپنی محبوبہ کو شادی کیلئے قائل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
جیسے ہی فلم کا آغاز ہوا تماشائیوں نے موسیقی کے ساتھ پرجوش انداز میں رقص شروع کردیا، یہ تمام بیس سے تیس سال کی عمر کے مرد تھے، ان میں سے ایک بائیس سالہ مکینک مرسی خان بھی ہے، جو اپنے دوستوں کے ساتھ یہاں آیا ہے۔
مرسی خان” میں پورا دن بہت محنت سے کام کرتا ہوں، مگر رات کو میں یہاں تفریح کرنے کیلئے آتا ہوں۔ مجھے فلمیں خصوصاً رومانوی فلمیں بہت پسند ہیں۔ میں موسیقی اور پشتو گانوں سے لطف اندوز ہوتا ہوں، فلموں کا معیار بہتر ہورہا ہے۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ فلم میں فحش رقص ہوتے ہیں، مگر میرے خیال میں یہ ایسی برائی بھی نہیں”۔
وقفے کے دوران تیرہ سالہ تاثیر جان سینما ہال کے اندر کیک پیسٹریاں فروخت کرنے کی کوشش کررہا ہے، وہ گزشتہ برس سے یہ کام کررہا ہے۔
تاثیر” میرے والد کو ٹی بی ہے اور وہ بہت زیادہ بیمار ہیں۔ناکافی آمدنی کی وجہ سے مجھے اسکول چھوڑنا پڑا اور پھر میں نے سینما میں کام شروع کردیا۔ مجھے تعلیم سے پیار ہے مگر مجھے یہاں کام کرنا بھی پسند ہے”۔
یہ سینما علاقے میں طالبان کا کنٹرول ختم ہونے کے بعد 2009ءمیں کھولا گیا تھا، سینما ہال اندر سے تو جب بھی گندا تھا مگر باہر سے اسے مختلف اداکاروں کے پوسٹرز سے بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا، تاکہ نوجوان تماشائیوں کو متوجہ کیا جاسکے۔محمد خالق گزشتہ اٹھائیس برسوں سے سینما منیجر کی حیثیت سے کام کررہے ہیں۔
محمد خالق” یہاں طالبان کی آمد سے پہلے آٹھ سو سے بارہ سو افراد روزانہ سینما کا رخ کرتے تھے، تاہم طالبان کے دوران میں ہمیں سینما تباہ کرنے کے خطوط ملتے تھے۔ لوگوں کو جب ان دھمکیوں کا پتا چلا تو انھوں نے سینما کا رخ کرنا چھوڑ دیا۔ اسی وجہ سے ہمیں سینما بند کرنا پڑا، مگر اب روزانہ تین سے چار سو افراد فلمیں دیکھنے آرہے ہیں، مجھے اس تعداد میں مزید اضافے کی توقع ہے کیونکہ پاک فوج کا کہنا ہے کہ سوات کی سیکیورٹی صورتحال زیادہ بہتر ہوگئی ہے”۔
مگر اب بھی متعدد خواتین اور خاندان حملے کے ڈر کی وجہ سے سینما آنے سے گھبراتے ہیں۔
سینما کے باہر اکیس سالہ سید محمد اپنے دوستوں سے بات چیت کررہا ہے۔
سید محمد” ماضی میں طالبان نے تمام سینماﺅں کو بند کرادیا تھا، جبکہ موبائل فونز پر پابندی لگادی تھی۔ وہ انتہائی سختی دکھاتے تھے مگر ہم گھر میں چھپ کر ٹی وی دیکھ لیتے تھے اور میں اپنے موبائل پر فلمیں دیکھتا تھا۔ طالبان عہد کے خاتمے کے بعد اب ہم سینما آکر اپنی پسند کی فلمیں دیکھ سکتے ہیں”۔