(China’s Urbanisation: Inside the ‘Nanny Village’) چین شہری آباد، نینی گاﺅں کے اندر

 

چین میںپہلی بار دیہات کے مقابلے میں شہری آبادی بڑھ گئی، اس وقت شہروں کے نواح میں جو علاقے ہیں انہیں شہری گاﺅں کہا جاتا ہے، جہاں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

Dong Xin Dian نامی گاﺅں میں خوش آمدید، اس گاﺅں کو Nanny Village کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہاں پر رہائش پذیر اکثر خواتین قریبی ضلع Shunyi کے بنگلوں میں گھریلو ملازماﺅں کی حیثیت سے کام کرتی ہیں۔ 25 سالہ Xiao Li ہمیں اپنے گاﺅں کا دورہ کرارہی ہیں۔

female) Xiao Li “یہاں کی عمارات روایتی انداز کی ہیں، یعنی 3 منزلہ اور ایک منزلہ گھر سمیت فارم ہاوسز وغیرہ، جنھیں متعدد چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کردیا گیا ہے، جو بیس اسکوائر میٹر سے زیادہ بڑے نہیں۔ ہر کمرے میں دو سے چار لوگ رہائش پذیر ہیں، یہ کمرے ہم جیسے دیہات سے آنے والے افراد کیلئے ہی تعمیر کئے گئے ہیں”۔

اس گاﺅں کے نوے فیصد رہائشی چینی دیہی علاقوںسے یہاں آئے ہیں اور چھوٹی چھوٹی ملازمتیں کررہے ہیں۔ گزشتہ برس چین میں شہری آبادی کا حجم پہلی بار دیہی علاقوں سے تجاوز کرگیا تھا۔ اس وقت ایک تہائی چینی کاشتکار بہتر ملازمتوں کی تلاش میں شہروں میں منتقل ہوچکے ہیں۔

دن بھر گھریلو ملازمہ کی حیثیت سے کام کرنے کے بعد اب 47 سالہ Jin Jie گھر واپس آکر رات کا کھانا تیار کررہی ہیں۔وہ چند سال قبل صوبہ Anhui سے بیجنگ آئی تھیں، اور وہ اب تک اس شہر میں چار بار گھر تبدیل کرچکی ہیں۔

 (female) Jin Jie “اس سے پہلے جن گھروں میں ہم رہے انہیں ترقیاتی کاموں کے نام پر گرادیا گیا، ایسے علاقے جہاں پبلک ٹرانسپورٹ دستیاب ہو اور کرائے کم ہو، ڈھونڈنا بہت مشکل ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران اس علاقے میں تین شہری دیہات کو گرایا جاچکا ہے، اب Dong Xin Dian واحد گاﺅں رہ گیا ہے، اسی لئے یہاں کرائے بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ جب ہم لوگ یہاں آئے تھے تو کرایہ 47 ڈالر تھا جو اب 60 ڈالر تک پہنچ گیا ہے”۔

وہ اس علاقے کے بارے میں مزید بتارہی ہیں۔

 (female) Jin jie “ہم جن پرانے علاقوں میں رہ کر آئے ہیں، وہاں گھروں کے مالکان اپنی جائیدادوں کو توسیع دیتے رہتے تھے، اور جس حد تک ممکن ہوتا تھا چھوٹے چھوٹے کمرے تعمیر کرتے رہتے تھے۔ جب گھر گرانے کا وقت آتا تو سرکاری افسران تعمیر شدہ رقبے کے لحاظ سے رقم ادا کرتے تھے، اب یہی کام اس علاقے میں بھی ہورہا ہے، اور عمارتوں کو شاہراﺅں پر بھی تعمیر کیا جارہا ہے”۔

تاہم مالکان کے برعکس Jin Jie جیسے افراد کو گھروں سے نکالے جانے پر کوئی معاوضہ نہیں ملتا۔

32سالہ Zhang Min صوبہ Sichuan سے یہاں آئیں، اور اپنی ملازمت سے واپسی کے بعد وہ اپنے گھر میں کام کررہی ہیں۔ وہ ہفتے میں چھ روز کام کرکے 440 ڈالر ماہانہ کمالیتی ہیں۔

 (female) Zhang Min “لوگ کہتے ہیں کہ اگر مجھے کام کرنا ہے تو مجھے انشورنش اور دیگر سرکاری تقاضے پورے کرلینے چاہئے۔ مگر میں ایسا نہیں کرسکتی کیونکہ میں کسی کمپنی میں کام نہیں کرتی، بلکہ میں تو ایک عام گھریلو ملازمہ ہوں”۔

Zhang Min اپنے بیٹے کو یاد کررہی ہیں جو اس وقت اپنے آبائی قصبے میں ہی موجود ہے، جہاں تعلیم اور رہائش کے اخراجات زیادہ نہیں۔

 (female) Zhang Min “میرا بیٹا آٹھ سال کا ہے، اگر میں اسے بیجنگ لے آﺅں تو میرے اخراجات بڑھ جائیں گے اور میں کچھ جمع نہیں کرسکوں گی۔ وہ گزشتہ برس موسم گرما کی چھیٹیوں میں یہاں آیا تھا، جس کے بعد ہمارے اخراجات میں اچانک بہت زیادہ اضافہ ہوگیا، یہاں تک کہ اسے گھر واپس بھیجنے کیلئے بھی ہمیں اپنے دوستوں سے قرض لینا پڑا تھا”۔

بیجنگ شہر میں اس وقت دو کروڑ کے لگ بھگ افراد رہائش پذیر ہیں، جن میں سے چالیس فیصد دیگر علاقوں سے یہاں آئے ہیں۔ Du Yang،ایک تھنک ٹینک Institute of Population and Labour Economics کے محقق ہیں۔

 (male) Du Yang “اعدادوشمار میں ہم شہروں کی آبادی میں ان افراد کو شامل کرتے ہیں جو کم از کم چھ ماہ سے وہاں رہائش پذیر ہوں۔ دیہات سے شہروں میں منتقل ہونیوالے افراد پر hukou system نامی نظام نافذ کیا جاتا ہے، جس کے باعث وہ شہریوں کے مساوی حقوق سے مستفید نہیں ہوپاتے”۔

hukou system درحقیقت رہائشی پرمٹ نظام ہے، جو چین کے پرانے دور کی یادگار ہے۔ اس نظام کے تحت لوگوں کو دو حصوں شہری اور دیہاتی میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ جب کوئی شخص اپنی کیٹیگری سے باہر نکلتا ہے تو اسے بیشتر سرکاری خدمات جیسے تعلیم، طبی سہولیات، رہائش اور پنشن وغیرہ سے بھی ہاتھ دھونے پڑتے ہیں۔Du Yang کا کہنا ہے کہ اس نظام میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔

 (male) Du Yang “ہمیں توقع ہے کہ مستقبل میں Hukou کے تحت امتیازی سلوک ختم کردیا جائیگا۔ حکومت ہر شہری کو بلاامتیاز فلاحی نظام فراہم کرنے کی ذمہ دار ہے۔ اسے چاہئے کہ اس نظام میں ہر شخص کو یکساں حقوق دیئے جائیں”۔

گزشتہ برس چینی حکومت نے ایک بیان میں چھوٹے شہروں میں Hukou نظام ختم کرنے کا کہنا تھا، یعنی یہاں آنے والے دیہی افراد شہری اسٹیٹس حاصل کرسکتے ہیں، مگر بڑے شہروں میں یہ امتیازی نظام تاحال نافذ ہے۔

Jin Jie کا خاندان اس وقت رات کے کھانے کے بعد ٹیلیویژن دیکھ رہا ہے،Jin Jie گزشتہ گیارہ برس سے بیجنگ میں کام کررہی ہیں، مگر hukou رجسٹریشن میں انہیں تاحال دیہی علاقے کی ایک کاشتکار قرار دیا جاتا ہے۔

 (female) Jin Jie “مجھ جیسے لوگوں کواپنی رجسٹریشن تبدیل کرانے کا موقع اس وقت تک نہیں مل سکتا، جب تک میرے پاس جائیداد خریدنے کیلئے پیسے جمع نہ ہوجائے”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *