(China’s Luxury Olympic Tours) چین کے پرتعیش اولمپکس ٹور

 

لندن اولمپکس آئندہ ماہ سے شروع ہورہے ہیں، اور توقع ہے کہ اس موقع پر برطانوی دارالحکومت میں دنیا بھر سے سیاح آئیں گے۔لندن چینی سیاحوں میں بھی بہت مقبول ہے، اور چینی عوام اولمپکس دیکھنے کا موقع کھونا نہیں چاہتے۔

لندن اولمپکس جولائی کے آخر میں شروع ہورہے ہیں، دنیائے کھیل کے اس سب سے بڑے ایونٹ نے چینی عوام کی توجہ اپنی طرف مرکوز کرالی ہے۔ متعدد چینی امراءوہاں جانے کے لئے تیار ہیں، اور ان کے اس سفر کو پرتعیش بنانے کے لئے انتہائی مہنگے سفری پیکجز سامنے آرہے ہیں۔ مثال کے طور پر آٹھ روزہ پیکج میں فی شخص پندرہ لاکھ ڈالرز رکھے گئے ہیں۔ اس پیکج میں اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں وی آئی پی استقبال، مہنگے شاپنگ مراکز میں مفت خریداری اور دریائے Thames کا لندن آئی نامی Ferris کے ذریعے سفر وغیرہ شامل ہے۔اسی طرح اولمپکس مقابلے دیکھنے کے بعد چینی سیاحوں کو یورپی ملک آئس لینڈ کی سیاحت کرائی جائے گی، وہاں انہیں ہیلی کاپٹر سے سیر کرائی جائے گی، جبکہ ان کا دل کرے گا تو گالف کھیلنے کا بھی انتظام کیا جائے گا۔ یہ ایسی دنیا ہے جس کا تصور کھیلوں کے عام شائق خواب میں بھی نہیں کرسکتے۔

یہ پرتعیش پیکج ایک کمپنی Caissa Travel کی جانب سے پیش کیا گیا ہے، جسے چین میں لندن اولمپکس کی ٹکٹیں فروخت کرنیکا اختیار حاصل ہے۔ برطانیہ کی جانب سے متعدد ممالک میں ایک ایک کمپنی کو ٹکٹیں فروخت کرنے کا اختیار دیا گیاہے، چین میں یہ کام Caissa Travel کررہی ہے۔ اس کی جانب سے ٹکٹوں کی فروخت مختلف پیکجز میں کی جارہی ہے، سب سے کم پیکج پانچ ہزار ڈالر سے شروع ہوتا ہے، جبکہ لاکھوں ڈالر پر مشتمل پیکجز امراءکیلئے رکھے گئے ہیں۔ Wang Zhuli، Caissa Travel کی منیجر ہیں۔

 (female) Wang “ہمارے وہ پرتعیش پیکجز بہت زیادہ پسند کئے گئے ہیں، جن میں اولمپکس کی افتتاحی تقریب دکھانے کی پیشکش کی گئی ہے۔ ہمارے صارفین اس تاریخی موقع کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں، اس پیکج کی مقبولیت سے ثابت ہوتا ہے کہ چین میں پرتعیش سیاحت کا رجحان بڑھ رہا ہے”۔

اب تک Caissa Travel میں پندرہ ہزار چینی سیاحوں نے مختلف پیکجز خریدے ہیں۔

 (female) Wang “کاروباری اداروں نے بڑے پیمانے پر پیکجز خریدے ہیں، یہ ادارے ان پیکجز کو بطور تحفہ استعمال کرکے

اپنے کاروباری روابط کو بڑھانا چاہتے ہیں”۔

چینی عوام اپنے گھروں سے ہزاروں میل دور لندن کا رخ انتہائی جاذب نظر انداز مٰں کررہے ہیں، Caissa کو چین میں برطانوی حکومت نے اولمپکس ٹکٹیں فروخت کرنیکا اختیار دیا ہے، مگر دیگر کمپنیاں بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھی ہوئی ہیں۔یہ کمپنیاں عالمی مارکیٹ سے ٹکٹیں خرید رہی ہیں،Lily Li ایک سفری ادارے چائنا ٹریول سروسز کیلئے کام کرتی ہیں۔

 (female) Lily Li “ہمارے بیشتر صارفین ایسے ہوٹل میں قیام چاہتے ہیں جن کے سامنے فائیو اسٹار ہوٹل بھی جھگی محسوس ہو۔ کچھ مخصوص مقامات پر موجود ہوٹلوں میں قیام کے خواہشمند ہیں، تاہم بیشتر فور یا فائیو اسٹار ہوٹلوں میں قیام کرنا زیادہ پسند کریں گے۔ صارفین خوراک کا بھی خصوصی انتظام چاہتے ہیں، وہ مخصوص چینی کھانوں کی بجائے مغربی کھانے چاہتے ہیں۔ وہ برطانوی کھانے دریائے Thames کی سیر کے ساتھ کھانا چاہتے ہیں۔ اسی طرح بیشتر صارفین نے سفر کیلئے مرسڈیز گاڑیوں کی فرمائش کی ہے”۔

متعدد چینی ٹور آپریٹرز لندن کے اداروں کے ساتھ ملکر یہ کام کررہے ہیں۔ اور اپنے صارفین کو ہوٹل بکنگ، سیاحتی مقامات کے ٹکٹ، ٹرانسپورٹ، کھانا اور دیگر خصوصی سرگرمیوں کا انتظام کررہے ہیں۔Thomas Wu ٹریول کارپوریشن نامی بین الاقوامی ادارے چین میں منیجر ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ کئی چینی سیاحوں کی توجہ کھیلوں کی بجائے کاروباری معاہدوں اور مستقبل کیلئے بہتر کاروباری مواقع تلاش کرنے پر مرکوز ہے۔

 (male) Thomas Wu “بیشتر چینی لندن میں آنے والے دیگر وی آئی پی افراد یا لندن حکام سے ملنا چاہتے ہیں، یہ لوگ دیگر کاروباری حضرات سے ملنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے چیمبر آف کامرس لندن سے رابطہ کیا ہے تاکہ وہاں کاروبار کے مواقع ڈھونڈ سکیں”۔

اتنے مہنگے سفر کرنے والے حضرات کی تعداد کو دیکھتے ہوئے لگ رہا ہے کہ عام سیاحوں کو لندن اولمپکس دیکھنے کا موقع نہیں مل سکے گا۔Thomas Wu اس حوالے سے بتارہے ہیں۔

 (male) Thomas Wu “اولمپکس مقابلوں کے دوران ہمارے کاروبار کا حجم گزشتہ برسوں کے اسی عرصے کے مقابلے میں کم ہوا ہے”۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *