(China goes West, first stop Chongqing) چین چلا مغرب میں، اور پہلا اسٹاپ چونگ جنگ

(China goes West, first stop Chongqing) چین چلا مغرب میں، اور پہلا اسٹاپ چونگ جنگ

(China go west) چین چلا مغرب

چین نے بیس برس قبل اپنے جنوب مشرقی ساحلی علاقوں میں اقتصادی اصلاحات کا عمل شروع کیا تھا، جس کے نتیجے میں یہ علاقے بڑے صنعتی مراکز بن گئے ہیں، تاہم اب بیجنگ نے اپنی توجہ مغربی علاقوں کی جانب مرکوز کردی ہے۔

Li Shuai ہمیں Chongqing نامی علاقے میں واقع فورڈ مزدا کمپنی کے ہینگر کی جانب لے کر جارہے ہیں۔

Li(male)”میں یہاں آنے والی تمام گاڑیوں کی آزمائش کرتا ہوں”۔

سوال”یہ جو یہاں اسمبل پلانٹ موجود ہے، کیا ہم اسے دیکھ سکتے ہیں؟

Li(male)”جی ہاں، یہ اسکا راستہ ہے”۔

Li Shuai ایک انجنئیر ہیں جو بیرون ملک سے کار سازی کی تربیت حاصل کرکے آئے ہیں۔

Li(male)”ہر نوے سیکنڈ میں ہم ایک گاڑی تیار کرلیتے ہیں”۔

رواں برس ایک نئے پلانٹ نے اپنا کام شروع کر دیا ہے، جو کہ امریکہ کے علاقے Detroit کے بعد دنیا میں فورڈ کمپنی کا دوسرا سب سے بڑا پلانٹ ہے۔

Chongqing میں خوش آمدید، جو کہ دنیا میں سب سے تیزی سے ترقی کرتا ہوا شہری علاقہ ہے۔یہ شہر چین میں گاڑیوں کی پیداوار کا سب سے بڑا مرکز ہے، جبکہ یہ چینی حکومت کے پروگرام گو ویسٹ کا بھی مرکزی مقام ہے۔ یہ پروگرام دس برس قبل شروع کیا گیا تھا، جس کا مقصد مشرقی ساحلی علاقوں اورمغربی علاقوں کے درمیان موجود مالی خلاءکو پر کرنا تھا۔ Hu Xingdou ایک ماہر معیشت ہیں۔

Hu Xingdou(male)”مغربی علاقوں کو متعدد مواقع دستیاب ہیں، یہاں قدرتی وسائل کا خزانہ موجود ہے، یہاں افرادی قوت سستی ہے اور کچھ شہر جیسے Chongqing، Chengdu اور Xi’an میں انتہائی باصلاحیت افراد موجود ہیں۔ تو ان علاقوں میں ترقی کی رفتار بڑھانے کیلئے خصوصی پالیسیوں کی ضرورت ہیں”۔

گو ویسٹ منصوبے کا اطلاق چین کے تقریباً نصف رقبے پر ہو رہا ہے۔ اس میں بہت سے اقلیتی علاقے جیسے تبت اور

Xinjiang بھی شامل ہیں، تاہم وہاں ترقی کا فائدہ Han نسل کے افراد کو زیادہ ہو رہا ہے، جس کے باعث فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے۔ تاہم اس منصوبے سے سب سے مستفید Chongqing شہر ہی ہوا ہے۔

Hu(male)”اسکی وجہ یہ ہے کہ Chongqing کی آبادی کی اکثریت دیہی علاقوں سے تعلق رکھتی ہیں، اس لئے یہاں شہری آبادی کے پھیلاﺅ کے مواقع موجود ہیں، اسی طرح دیہی علاقوں میں افرادی قوت بہت زیادہ ہے، جن سے کام لینے کی لاگت بھی کم ہے”۔

یہی وجہ ہے کہ گزشتہ برس اس شہر میں تیزی سے اقتصادی ترقی دیکھنے میں آئی۔اس وقت یہاں کم از کم ماہانہ تنخواہ ایک سو چالیس ڈالر ہے، جوکہ سب سے زیادہ تنخواہ دینے والے علاقے Shenzhen سے صرف ایک سو ڈالر ہی کم ہے۔ اب تک Chongqing میں غیر ملکی کمپنیوں جیسے فورڈ، Hewlett-Packard اور Acer کی جانب سے گیارہ ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کی جاچکی ہے، جبکہ پہلی بار یہاں مقامی ملازمین کی تعداد دیگر علاقوں سے آنیوالے افراد سے زیادہ ہوگئی ہے۔

اب فورڈ فیکٹری میں واپس چلتے ہیں، انجنئیر Li Shuai بھی اس شہر میں واپس آئے ہیں، شمالی چین کی یونیورسٹی میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد انکا ماننا ہے کہ گھر واپسی ہی بہترین راستہ ہے۔

Li(male)”میں باہر جاکر دنیا دیکھنا چاہتا تھا، تاہم میں نے Chongqing واپس آنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ یہ تیزی سے ترقی کررہا ہے اور میرے خیال میں یہاں ہمارا مستقبل چین کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں روشن ہے”۔

Professor Simon Zhao ہانگ کانگ یونیورسٹی سے تعلق رکھتے ہیں، جو Chongqing میں شہری منصوبہ بندی کیلئے حکومت کے مشیر ہیں۔انکا ماننا ہے کہ حکومتی پالیسیوں کے باوجود چین کے مختلف علاقوں میں عدم مساوات موجود ہے۔

Professor Simon Zhao(male)”ہمیں متوازن ترقی کی ضرورت ہے، گو ویسٹ کو اب دس برس کا عرصہ گزر چکا ہے، یہ خیال اچھا ہے مگر اب اس کے طریقہ کار میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔عدم مساوات کا مسئلہ اب پہلے سے زیادہ بڑا ہوچکا ہے”۔

26 سالہ ٹیکسی ڈرائیور Qing، Chongqing کے رہائشی ہیں۔ وہ چھ برس تک شنگھائی میں ملازمت کرنے کے بعد یہاں واپس آئے ہیں۔

Qing(male)”ماضی میں یہ شہر اتنا اچھا نہیں تھا، دیگر علاقوں میں رہنے والے افراد یہاں کام کرنا پسند نہیں کرتے تھے، مگر اب یہ پھیل رہا ہے اور اب یہاں کافی کمپنیاں کام کرنے لگی ہیں۔ میرے خیال میں اس چیز نے اسے لوگوں کیلئے پرکشش بنادیا ہے”۔

Qing اس وقت ماہانہ ساڑھے چار سو ڈالر کما رہے ہیں، جو کہ شنگھائی کے مقابلے میں زیادہ نہیں، تاہم یہاں کے سستے طرز زندگی نے ان کی زندگی کو زیادہ بہتر بنادیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *