پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاںعوام روز بروزبڑھتی مہنگائی سے جنگ لڑ رہے ہیں ، جہاں ملازمتیں کم اور امید وار زیادہ ہیں وہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی ہوئی آ بادی ایک سوالیہ نشان ہے!
آبادی کی نسبت وسائل انتہائی محدود ہیں یہاں تک کہ لوگوں کو صحت تعلیم اور خوراک جیسی بنیادی سہولیات کیلئے بھی تگ ودو کرنی پڑتی ہے ، ایسے میں آبادی کے ساتھ یکساں رفتار سے بڑھتی غربت جرائم کو جنم دے رہی ہے جو دہشت گردی کی صورت اختیار کر رہے ہیں ۔
دیہی علاقوں میں خصوصاً اور شہری علاقوں میں عموماً لوگوں کی بڑی تعداد بڑھتی ہو ئی آبادی کے مسائل سے کسی حد تک ناواقف ہے صورتحال یہ ہے کہ گھر میں کمانے والا ایک اور کھانے والے دس افراد ہیں۔تعلیم کی کمی اور سماجی مسائل کے باعث لوگ فیملی پلاننگ اور آبادی کو کنٹرول کرنے کے طریقوں پر بات کرتے ہوئے جھجکتے ہیں،شیخ زید اسپتال، لاڑکانہ میں گائنی اینڈ آبسٹیٹرکس ڈپارٹمنٹ کی ہیڈ ڈاکٹر شاہدہ شیخ کا اس حوالے سے کہنا ہے:
خواتین کی صحت اور زندگی سے ہی پورے خاندان کی خوشیاں جڑی ہیں، اوپر تلے لگاتار بچوں کی پیدائش سے خواتین کیلئے صحت کے مسائل جنم لیتے ہیںجس کی وجہ سے زچگی کے دوران خواتین کی اموات میں اضافہ ہو رہا ہے، نہ صرف یہ بلکہ خاندانی منصوبہ بندی کے غیر محفوظ طریقے خواتین میں تولیدی امراض اور بانجھ پن کو جنم دے رہے ہیں:
لوگوں کی بڑی تعداد فیملی پلاننگ کو گناہ تصور کرتی ہے،خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق لوگوں کے ذہنوں میں موجود غلط فہمیوں کو دور کرنے اور درست حقائق کی نشاندہی کرنے کیلئے علماءکرام کو بھی مثبت کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے،شیخ زید اسپتال سے منسلک ڈاکٹر شاہدہ کا اس بارے میں کہنا ہے:
خاندانی نطام کو مستحکم اور ازدواجی زندگی کو خوشگوار بنانے کیلئے خاندانی منصوبہ بندی کی کیا اہمیت ہے اس بارے میں خواتین کے ساتھ ساتھ مردوں کو بھی شعور وآگہی فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔
خواتین میں تولیدی امراض کی روک تھام اور خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق درست آگہی فراہم کرنے کیلئے شہروں اور دیہاتوں میں زیادہ تعداد میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کی ضرورت ہے، ڈاکٹر شاہدہ کا کہنا ہے کہ جن علاقوں تک لیڈی ڈاکٹرز رسائی حاصل نہیں کر پاتی ہیں وہاں لیڈی ہیلتھ ورکرز خواتین کو زچگی، فیملی پلاننگ اور صحت سے متعلق دیگر معلومات اور طبی امداد فراہم کرنے میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں:
خاندانی منصوبہ بندی کی جانب لوگوں کی سوچ کا رُخ موڑنے کیلئے میڈیا بھر پور طریقے سے کام کر رہا ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ دیہاتوں میں علاقائی زبانوں کو استعمال میں لاتے ہوئے لوگوں کو فیملی پلاننگ سے آگہی فراہم کی جائے کیونکہ دیہی علاقوں میں لوگوں کی بڑی تعدادانگریزی اور اردو سے ناواقف ہے اس لئے علاقائی زبانوں میں نشر اور شائع کئے جانے والے زیادہ سے زیادہ پبلک سروس میسجز کا مثبت رد عمل دیکھنے میں آسکتا ہے۔
