Children in Laos Vulnerable to Unexploded Bombs – لاﺅس میں بارودی سرنگوں کا خطرہ

ویت نام جنگ کو ختم ہوئے چالیس سال ہوچکے ہیں، مگر اب بھی اس کے پڑوسی ملک لاﺅس میں ایسے بم مل رہے ہیں جو پھٹ نہیں سکے تھے، لاﺅس دنیا میں بارودی سرنگوں کے حوالے سے سرفہرست ممالک میں سے ایک ہے، اسی مسئلے پرچائلڈ فنڈ آسٹریلیا کے سی ای اونائگل اسپینس کا انٹرویو سنتے ہیں آج کی رپورٹ میں

اسپینس”پھٹنے سے بچ جانے والے بم بہت بڑا خطرہ ہیں اور انکا سب سے بڑا شکار بچے اور عام شہری بن رہے ہیں، ابھی ویت نام جنگ کے خاتمے کو لگ بھگ چالیس سال ہوچکے ہیں، مگر اب بھی لاکھوں زندہ بم لاﺅس بھر میں پھیلے ہوئے ہیں، جو ہلاکتوں اور معذوری کا سبب بن رہے ہیں، اب تک اس طرح کے بموں سے گزشتہ چالس برسوں کے دوران بیس ہزار افراد ہلاک یا زخمی ہوچکے ہیں، جبکہ اب بھی سالانہ تین سو ہلاکتیں ان بموں سے ہورہی ہیں، جن میں نصف بچے ہوتے ہیں۔ موت سے ہٹ کر بھی معذوری کے کیسز بھی بہت زیادہ ہیں، جبکہ بارودی سرنگوں کے باعث بہت بڑے رقبے پر زراعت یا گھروں کی تعمیر ممکن نہیں رہی”۔

سوال”کیا بچے ہی ایسے زندہ بموں کا سب سے بڑا ہدف بن رہے ہیں؟

اسپینس”جی ہاں بچے ہی سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں، بچے اکثر کھیل کود کے دوران سنسان جگہوں پر چلے جاتے ہیں، یہاں اسکول وغیرہ جانے کے دوران وہ ان بموں کو چھیڑ دیتے ہیں، بدقسمتی سے بچوں کے اندر ایسے بموں کیلئے کافی کشش پائی جاتی ہے، وہ انہیں کھلونا سمجھتے ہیں، کچھ نوجوان بھی ان بموں کو ردی سمجھ کر فروخت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور جب بم پھٹتے ہیں تو اس کے بدترین نتائج نکلتے ہیں”۔

سوال”جنگ کے چالیس سال بعد بھی ان زندہ بموں سے لاحق خطرات کو نظرانداز کیوں کیا جارہا ہے؟

اسپینس”جی ہاں اس مسئلے کو نظر انداز کیا جارہا ہے، حالانکہ اس حوالے سے بچوں اور برادری کی سطح پر شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے، ادارے جیسے چائلڈ فنڈدیگر این جی اوز اور لاﺅس حکومت کو برادریوں کو تعلیم دینے کیلئے اقدامات کرنے چاہئے، مگر اس چیز کو نظر انداز کیا جارہا ہے، جس کی وجہ سے بچے اور نوجوان خطرے کی زد میں ہیں، اکثر خاندان بھی مناسب روزگار کے حصول کیلئے کاشتکاری کرکے اس طرح کے خطرات مول لینے کیلئے تیار ہوجاتے ہیں”۔

سوال” چائلڈ فنڈ نے اس حوالے سے ایک اپیل بھی کی ہے، کیا آپ بتائیں گے کہ اس طرح آپ نے کیا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے؟

اسپینس”چائلڈ فنڈ اسکولوں کی تعمیر اور زراعت کی بحالی نو کیلئے زمینوں کو بارودی سرنگوں سے صاف کرنے کا کام کررہی ہے، ہم اس سلسلے میں مزید آگے بڑھنا چاہتے ہیں، ہم زیادہ بڑا رقبہ صاف کرنا چاہتے ہیں، تاکہ مختلف خاندانوں کو زراعت، اسکولوں اور کھیل کود وغیرہ جیسی سہولیات تک رسائی حاصل ہوسکے، تو ہماری اپیل کا مقصد اس مہم کیلئے فنڈز اکھٹے کرنا تھا، کیونکہ بارودی سرنگوں صفائی کافی وقت طلب اور مہنگا کام ہے۔ اس مقصد کیلئے

آسٹریلین اداروں کی جانب سے کافی کام کیا جارہا ہے، اب یہ ممکن ہوگیا ہے کہ ہم شناخت زدہ علاقوں کو ویب سائٹ پر ڈال سکیں، یعنی وہ علاقے جہاں بموں کا خطرہ بہت زیادہ ہے تاکہ ان کی صفائی کا کام جلد ممکن بنایا جاسکے”۔