Can tourist save the handicrafts of Bagan? – برمی دستکاری کی صنعت

[ 0 ] March 30, 2014

برما کے تاریخی شہر بیگین میں دستکاری کی صنعت کو بحران کا سامنا ہے، خام مال کی قیمت میں اضافے اور باصلاحیت ورکرز کی کمی کے باعث دکانیں بند ہورہی ہیں، تاہم اس شہر کے معروف مندروں کو دیکھنے کیلئے آنے والوں کی سیاحوں کی تعداد میں اضافے سے اس صنعت کو نئی زندگی ملنے کا امکان ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

برما کا تاریخی شہر بیگا دستکاری کی صنعت کا مرزک بھی سمجھا جاتا ہے، یہاں کے مندروں کے ارگرد رنگا رنگ اسٹالوں میں سیاح ہنرمند دستکاروں کی مصنوعات خریدتے نظر آتے ہیں، مگر خام مال کی قیمتوں میں اضافے اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی کمی نے اس صنعت کو بحران کا شکار کردیا ہے۔

ماضی میں یہاں جگہ جگہ اسکی کھڈیاں اور دکانیں قائم تھیں مگر اب صرف دس کاروباری ادارے ہی کام کررہے ہیں،اوہوں مار کا کاروبار بھی مشکلات کا سامنا تھا تاہم وہ اسے چلانے کی کوشش کررہی ہیں۔

اوہوں “دستکاری کے کاروبار کو سب سے بڑا دھچکا اس وقت لگا جب خام مال کیلئے استعمال کئے جانے والے نیچرل پلانٹ ڈیئے کی کمی ہوگئی، ایسی صورتحال پہلے کبھی نہیں تھی اور یہ بہت خوفناک ہے”۔

نیچرل پلانٹ ڈیئے می خام مال ریاست شان سے آتا ہے، مگر جنگلات کی کٹائی اور لیبر کی کمی کے باعث اس کی قیمت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے، اوہ مارکا کہنا ہے کہ نوجوان افراد اب دیگر شعبوں کی جانب جارہے ہیں جہاں انہیں زیادہ آمدنی ہورہی ہے۔

اوہوں”اس کاروبار سے وابستہ کافی افراد ہوٹل بزنس سے منسلک ہوگئے ہیں، کچھ گاڑیاںیا دکانیں چلانے لگے ہیں، ہوٹل یا دکان سے انہیں دستکاری کے کاروبار سے زیادہ آمدنی ہورہی ہے”۔

ایک اور اسی کاروبار سے وابستہ شخص U Mya کا کہنا ہے کہ دستکاری میں مہارت حاصل کرنے میں کئی برس لگ جاتے ہیں، جس کیلئے صبر و تحمل کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

یو مئے”دستکاری مصنوعات کا ڈیزائنرز بننے کیلئے کم از کم تین سال کی تربیت درکار ہوتی ہے، اس عرصے میں بھی مکمل مہارت حاصل نہیں ہوتی بلکہ بنیادی کام ہی سیکھا جاسکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کاروبار کو ورکرز کی کمی کا سامنا ہے، جہاں تک ہماری بات ہے کہ تو یہ ہمارے آباﺅ اجداد کا کام ہے اور ہمیں اس روایت سے محبت ہے”۔

تاہم سیاحوں کی آمد سے اس صنعت کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے، گزشتہ سال دو لاکھ سے زائد غیرملکی اس شہر میں آئے اور یہاں کے معروف مندروں کو دیکھا، اور یہ سیاح یہاں کی اہم چیزیں خریدنا بھی پسند کرتے ہیں۔ایک دستکار اونگ ون اس بارے میں بتارہے ہیں۔

اونگ”اب شہر میں کاروبار اچھا چل رہا ہے اور یہاں زیادہ سیاح آرہے ہیں جس سے میں بہت خوش ہوں، اپنی کسی تخلیق کی سیاحوں کی جانب سے قدر کئے جانے کا احساس مجھے خوش کردیتا ہے، میں ہمیشہ اپنے دیگر ساتھیوں سے ہٹ کر کام کرنے کی کوشش کرتا ہوں”۔

برما کو غیرملکیوں کو کھول دیئے جانے کے بعداوہوں مار نے پہلی بار کریڈٹ کارڈ کو قبول کرنا شروع کردیا ہے۔

اوہوں”ماضی میں جب سیاح کریڈٹ کارڈ دیتے تھے تو مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کہ وہ کس طرح کام کرتے ہیں، مگر اب برمی بینک بین الاقوامی نیٹ ورکس سے منسلک ہوگئے ہیں اور اب کریڈٹ کارڈز کے ذریعے ادائیگی ممکن ہوگئی ہے، جس سے رواں برس ہماری آمدنی میں بھی بہتری آئی ہے”۔

Category: Asia Calling | ایشیا کالنگ

Leave a Reply

burberry pas cher burberry soldes longchamp pas cher longchamp pas cher polo ralph lauren pas cher nike tn pas cher nike tn nike tn pas cher air max 90 pas cher air max pas cher roshe run pas cher nike huarache pas cher nike tn pas cher louboutin pas cher louboutin soldes mbt pas cher mbt pas cher hermes pas cher hollister pas cher hollister paris herve leger pas cher michael kors pas cher remy hair extensions clip in hair extensions mbt outlet vanessa bruno pas cher vanessa bruno pas cher vanessa bruno pas cher ralph lauren pas cher