کمبوڈیا کی اپوزیشن جماعت سی این آر پی نے اپنا پہلا آن لائن ٹی وی چینیل متعارف کرادیا ہے، سی این آر پی ٹی وی نامی اس چینیل کو کمبوڈین سیاسی اصلاحات کیلئے ایک ٹیسٹ قرار دیا جارہا ہے، اسی بارے میں سنتے ہیںکی آج کی رپورٹ
صوبہ باٹم بینگ کا سیلاب سے متاثرہ کاشتکار ٹی وی پر مدد کی درخواست کررہا ہے، یہ پروگرام آن لائن سی این آر پی ٹی وی پر دکھایا جارہا ہے، سی این آر پی کے عوامی امور کی ڈائریکٹر مو سوچوعا کا کہنا ہے کہ ہم عام عوام کو اپنی آواز بلند کرنے کا موقع دینا چاہتے ہیں۔
سوچو عا”ہم اس آن لائن ٹی وی کو ایک آن لائن اسٹیج، ایک پلیٹ اور ایک ایسے مقام کی حیثیت سے استعمال کرنا چاہتے ہیں جہاں عام لوگ اپنی رائے کا اظہار کرسکیں، ہم مہمانوں کو مدعو کرتے ہیں، جن کا تعلق صرف ہماری جماعت سے نہیں ہوتا، بلکہ یہ اظہار رائے کی آزادی کی جگہ ہے، یہ ان لوگوں کیلئے ہے جو اپنی آواز بلند کرنا چاہتے ہیں، ہمارا آغاز اب تک اچھا ثابت ہوا ہے”۔
سی این آر پی ٹی وی میں زیادہ تر نیوز پروگرامز دکھائے جا تے ہیں، مو سوچو عا کا کہنا ہے کہ ہم نوجوانوں تک اپنی آواز پہنچانا چاہتے ہیں۔
سوچوعا”نوجوانوں کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے، کمبوڈیا میں انٹرنیٹ سروسز بہت سستی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم نے آن لائن چینیل شروع کیا تاکہ ہم اپنی جماعت کی مقبولیت کو برقرار رکھ سکیں”۔
چھبیس سالہ سو چیت لچ، پینوم پین یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم حاصل کررہے ہیں، انکا کہنا ہے کہ مقامی میڈیا میں کمبوڈیا کے حالات کی صحیح عکاسی نہیں کی جاتی۔
لچ”مثال کے طور پر کھمیر ٹی وی ہڑتال کرنے والے ورکرز کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دیتا، مجھے اس کیلئے غیرملکی میڈیا کو دیکھنا پڑتا ہے، آئین کے تحت عوام کو اطلاعات تک رسائی کا حق حاصل ہے، مگر زمینی طور پر ہمیں اس حق سے محروم رکھا جارہا ہے”۔
حال ہی میں تنخواہوں میں اضافے اور کام کے بہتر ماحول کیلئے گارمنٹ ورکرز ہڑتال پر چلے گئے تھے، جس کی وجہ سے متعدد فیکٹریاں بند ہوگئی تھیں، کمبوڈین پولیس نے لاٹھی چارج، آنسو گیس اور اسلحے کیساتھ اس ہڑتال کو ختم کیا، جس کے دوران ایک خاتون ہلاک اور درجنوں افراد زخمی ہوگئے تھے۔
تاہم حکومتی سرپرستی میں چلنے والے ٹی وی اور ریڈیو پر اس حوالے سے ایک خبر بھی نہیں چلائی گئی، مگر مو سوچوعا کا کہنا ہے کہ ہم نے فوری طور پر آن لائن ٹی وی پر اس کی کوریج کی۔
“مو سوچوعاسرکاری اسٹیشنز نے ہڑتالی ورکرز کو نہیں دکھایا، پولیس نے ان پر براہ راست فائرنگ کرکے لوگوں کو ہلاک اور زخمی کیا، آپ ان مناظر کو ٹی وی چینلز پر نہیں دیکھ سکتے نہ ہی ریڈیو پر اس بارے میں کچھ سن سکتے ہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جنھوں نے گلیوں میں ان مناظر کو کیمرے میں محفوظ کیا، اور ان کی ریکارڈنگ کی، جو اب فیس بک پر موجود ہے”۔
اپوزیشن جماعت نے اپنے ٹی وی چینیل کے لائسنس کیلئے درخواست دی تھی، تاہم حکومت نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ کسی سیاسی جماعت کو چینیل کا لائسنس نہیں دیا جاسکتا، پے اسپان حکومتی ترجمان ہیں۔
اسپان”انہیں ہرچیز کا حق حاصل ہے، برادریوں سمیت ہر جگہ مہم چلاسکتے ہیں، مگر ہم ٹی وی چینیلز پر ہر وقت کی لڑائی نہیں چاہتے”۔
مگر کمبوڈیا میں چلنے والے نو ٹی وی اسٹیشنز براہ راست یا بلاواسطہ وزیراعظم ہن سین یا ان کی جماعت کے کنٹرول میں ہیں۔خصوصاً ایک چینیل بے یو ن ٹی وی تو وزیراعظم کی اپنی بیٹی کی ملکیت ہے۔
متعدد حلقوں کا ماننا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے معتصبانہ روئیے کا مظاہرہ کیا جارہا ہے، مگر انٹرنیٹ صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث سیاسی تجزیہ کار کم لی کا کہنا ہے کہ سیاسی رجحانات تبدیل ہونے لگے ہیں۔
ک لی”جو لوگ انٹرنیٹ تک رسائی رکھتے ہیں ان کے پاس زیادہ سے زیادہ معلومات ہوتی ہے، ماضی میں لوگوں کو صرف حکمران جماعت کے میڈیا تک ہی رسائی تھی، مگر اب سی این آر پی کے پاس آن لائن چینیل ہے، جہاں سے لوگ دوسری طرف کی بات بھی سن سکتے ہیں”۔