کمبوڈین اپوزیشن لیڈر سیم رینسی انتخابی دھاندلیوں کے دعوﺅں پر وزیراعظم سے بات چیت کیلئے تیار ہوگئے ہیں۔ گزشتہ دنوں ہونے والے انتخابات میں حکمران جماعت نے کامیابی کا دعویٰ کیا، تاہم اپوزیشن نے اس پر شدید دھاندلی کا الزام عائد کیا ہے۔ اسی بارے میں سیم رینسی کا انٹرویو سنتے ہیںآج کی رپورٹ میں
سیم رینسی “درحقیقت ہن سین انتخابات میں ہارنے کے بعد بات چیت پر رضامند ہوئے، ہم بس یہ چاہتے تھے کہ وہ اپنی جگہ چھوڑ دیتے کیونکہ ہم ملک کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ انصاف، حقیقت اور سچ کی بنیاد پر دیکھا جائے تو اپوزیشن نے انتخابات کو جیت لیا ہے”۔
سوال”مگر آگے بڑھنے کا طریقہ تو حکومت سے بات چیت کرنا ہی ہے، کیا آپ نے اپنے دروازے کھل دیئے ہیں، وزیراعظم ہن سین نے کہا ہے کہ وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں، کیا آپ ان کی پیشکش قبول کریں گے؟
سیم رینسی “ہاں ہم مذاکرات کو قبول کرتے ہیں، مگر بات چیت کا مقصد سچ کو سامنے لانا ہے، کیونکہ ہم اسی وقت آگے بڑھ سکتے ہیں جب ہر شخص سچ جان سکے، اور حقیقت یہی ہے کہ حکمران جماعت 34 سال بعد انتخابات میں شکست کھاچکی ہے، اور کمبوڈیا میں جمہوری تبدیلی آرہی ہے”۔
سوال”سچ کی تلاش کے نقطے کے حوالے سے آپ کی جماعت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پارلیمنٹ کی 123 میں سے 63 نشستیں جیت لی ہیں، ان اعدادوشمار کی کیا حقیقت ہے؟ آپ کے پاس کیا شواہد ہیں؟
سیم رینسی “ہم نے ملک بھر سے ڈیٹا جمع کیا، جس کے دوران لاتعداد بے ضابطگیاں سامنے آئیں، جن کی تصدیق مقای اور غیرملکی مبصرین نے بھی کی ہے، اقوام متحدہ، آزاد ادارے جیسے نیشنل ڈیموکریٹک انسٹیٹوٹ نے انتخابی عمل میں اجارہ داری کی نشاندہی کی ہے، انتخابی عمل پر حکمران جماعت کی اس اجارہ داری کے باوجود اپوزیشن اس موقع ہو تاریخی بنانا چاہتی ہے۔ اب کوئی بھی کمبوڈین عوام کی اس فتح کو چوری یا چھپا نہیں سکتا”۔
سوال”آپ انتخابی نتائج میں ہیرپھیر کی بات تو کررہے ہیں مگر باضابطہ نتائج کا انتظار نہیں کررہے، اس اعلان سے قبل آپ اپنی فتح کا اعلان کیسے کرسکتے ہیں؟
سیم رینسی “اس وقت حکمران جماعت نے بھی تفتیشی کمیٹی میں شمولیت کی حامی بھرلی ہے، تو اب ہم تیار ہیں، ہم اس کمیٹی کے ہر فیصلے کو تسلیم کریں گے اور ہمیں توقع ہے کہ حکمران جماعت بھی ایسا ہی کرے گی”۔
سوال”آپ نے وزیراعظم ہن سین کا وہ بیان تو سنا ہوگا جس میں انکا کہنا تھا کہ اس بات کی اہمیت نہیں کہ کونسی جماعت الیکشن میں کامیاب ہوتی ہے، اہم امر یہ ہے کہ قوم متحد ہوجائے۔ وہ اس وقت مصالحت پر آمادہ لگتے ہیں، تو آپ مذاکرات کی میز کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں، آپ وزیراعظم کو کیا تجاویز پیش کریں گے؟
سیم رینسی “آپ کو معلوم ہے کہ میں وزیراعظم ہن سینسے بیس سال سے رابطے میں ہوں، تو اب ہمیں عمل کی ہے باتوں کی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم کافی محتاط ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ ریفری کا کردار ادا کریں”۔
سوال”کافی حلقوں کا کہنا ہے کہ نتائج میں گڑبڑ سے پیش نظر آپ پارلیمنٹ میں قابل اعتبار اپوزیشن طاقت کا کردار کرتے ہوئے حکومت کو دیانتدار بنانے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟ آپ اس راستے پر چلنے کا کیوں نہیں سوچ رہے؟
سیم رینسی “مگر حقائق اور عوامی خواہشات کو دیکھا جائے، تو عوام کی حقیقی خواہش یہ ہے کہ اب اپوزیشن حکمران جماعت کا کردار ادا کرے۔ وہ موجودہ حکمران جماعت سے بیزار ہوچکے ہیں، اسے اب اپوزیشن کا کردار ادا کرنا چاہئے۔ یہ بات قابل قبول نہیں کہ ایک حکمران جماعت ملک پر ہمیشہ حکمران رہے، دنیا بھر میں جمہوری طریقے سے تبدیل آتی ہے تو کمبوڈیا میں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا؟ میرے خیال میں کمبوڈین عوام آزادی اور احترام کے مستحق ہے”۔
سوال”توآپ کب وزیراعظم سے مل رہے ہیں؟ آپ کب ان سے ملاقات کی دعوت قبول کریں گے؟
سیم رینسی”ایسا بہت جلد اس وقت ہوگا جب تفتیشی کمیٹی کا قیام عمل میں آجائے گا۔ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ وزیراعظم اور ان کی جماعت کمیٹی میں شامل ہونے پر رضامند ہوگئی ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ یہ کمیٹی بہت جلد اپنے کام کا آغاز کردے گی”۔
سوال”کیا آپ ہمیں اس کمیٹی کے بارے میں کچھ تفصیلات سے آگاہ کریں گے؟
سیم رینسی “وزیراعظم نے عندیہ دیا ہے کہ ان کی جماعت کے سنیئر عہدیدار جیسے سیکرٹری جنرل، وزیر داخلہ اور نائب وزیراعظم وغیرہ اس کمیٹی کے اراکین میں شامل ہوں گے۔ جہاں تک اپوزیشن کی بات ہے کہ ہم بھی اپنی جماعت کے اعلیٰ ترین عہدیداران کو اس کا رکن بنائیں گے”۔