Pakistan’s Independence Day – پاکستان کا یوم آذادی

پاکستان بھر میں آج آزادی کے حصول کو 66 برس مکمل ہونے پر جشن منایا جارہا ہے، آزادی کا جشن ہو اور ملی نغموں کا ذکر نہ ہو ایسا ممکن نہیں، آزادی سے لے کر اب تک، پاکستان نے ملی اور قومی ترانوں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ جمع کر لیا ہے جو کہ نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے۔

پاکستان کی ملی موسیقی، بظاہری طور پر اپنی مٹھاس اور قومیت پرستی کی جڑوں سے ارتقا پزیر ہو کر پاکستان کے بارے میں ایک زیادہ قابل فکر سوچ بنتی جا رہی ہے۔

پاکستان میں ملی نغموں کو کئی عشروں سے بہت زیادہ اہمیت حاصل رہی ہے۔ 1965 میں بہت سے قومی نغمے کمپوز کیے گئے جن کا مقصد متاثر کرنا تھا۔ ان نغموں میں پاکستان کے لیے محبت کا اظہار ہوتا تھا اور یہ ایک نعرہ بھی تھے۔اس حوالے سے پاکستانی کمپنی ای ایم آئی پاکستان نے فروخت کے لحاظ سے دس مقبول ترین ملی نغموں کا انتخاب کیا گیا ہے، جو درج ذیل ہیں۔
مہدی حسن کا گیت یہ وطن تمہارا ہے، پاکستان کا دوسرا مقبول ترین ملی نغمہ ہے، جبکہ اس حوالے سے سرفہرست وائٹل سائنز کادل دل پاکستان ہے جسے پاکستان کا دوسرا قومی ترانہ بھی کہا جاتا ہے۔

اسی فہرست میں عالمگیر کا گیت خیال رکھنا تیسرے نمبر پر موجود ہیں، جبکہ امانت علی خان کا اے وطن پیارے وطن آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔

ناہید اختر کی کھنکتی آواز میں میرا پرچم کون بھول سکتا ہے جسے پانچویں مقبول ترین ملی نغمے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
محمد علی شہکی کا گیت میں بھی پاکستان ہوں چھٹے نمبر پر اپنی بہار دکھا رہا ہے، جبکہ امجد حسین، تحسین اور بنجامن سسٹرز کا ہم زندہ قوم ہیں 7 ویں پوزیشن پر قبضہ جمائے ہوئے ہے۔

شہناز بیگم کی جذبات بھری اور نہ قابل یقین حد تک شیریں آواز میں “سوہنی دھرتی” آج تک بنائے گئے بہترین ملی نغموں میں سے ایک ہے جو آٹھویں نمبر پر موجود ہے۔

اسی طرح نیرہ نور کا گیت وطن کی مٹی گواہ رہنا نویں اور ناہید اختر کا جگ جگ جئے میرا پیارا وطن دسویں نمبر پر موجود ہیں۔
تاہم کچھ گیت جیسے شہناز بیگم کا جیوے جیوے پاکستان اس فہرست میں تو موجود نہیں مگر ہر پاکستانی کے دل کی آواز لگتا ہے۔
امانت علی خان کا چاند میری زمین پھول میرا وطن بھی اسی دور کی یادگار ہیں۔