(Cambodia’s Amazon under threat)کمبوڈین آمازون خطرے کی زد میں
(Cambodian forest) کمبوڈین جنگل
دو لاکھ ایکڑ پر پھیلے Prey Lang نامی جنگل کو کمبوڈیا کا Amazon بھی کہا جاتا ہے۔ قدیم قبیلے Kouy کا مسکن سمجھے جانیوالے Prey Langجنگل کا اردو میں مطلب بنتا ہے ہمارا جنگل۔ گزشتہ برس کمبوڈین وزیراعظم نے یہاں کے نو ہزار ایکڑ رقبے پر ربڑ کی کاشت کی منظور دی تھی، تاہم اب اس حوالے سے چونکا دینے والے انکشافات سامنے آرہے ہیں،
یہ دوسری بار ہے کہ Prey Lang Network کی ٹیم Prey Lang جنگل میں گشت کررہی ہے۔ دو سو افراد Kam Pong Thmor شہر سے پیدل چل کریہاں آئے اور اب پانچ گھنٹے سے یہاں گشت کررہے ہیں۔انھوں نے جنگل میں حال ہی میں تعمیر کی گئی چھوٹی سڑکیں اور لکڑی کے سینکڑوں ٹکڑے دریافت کئے ہیں۔
ٹیم نے اس کٹائی کی تصاویر لیں تاکہ انہیں شواہد کے طور پر استعمال کیا جاسکے۔Cheang Vuthy اس نیٹ ورک کے سربراہ ہیں۔
Cheang Vuthy(male)” 2010ءمیں ہم نے جنگل میں متعدد مشینوں کو ڈھونڈ کر تباہ کیا ، اس کے علاوہ ملحقہ علاقوں میں بھی کافی مشینوں کو تباہ کیا گیا۔ ہم جب بھی درخت کاٹنے کے آلات دیکھتے ہیں تو ہم انہیں ناکارہ بنادیتے ہیں”۔
اس ٹیم اور مقامی دیہاتیوں نے کاٹی جانیوالی لکڑی کو بھی نذرآتش کردیا۔ Chhut Vuthy کمبوڈیا میں کام کرنیوالے Natural Resources Conservation Group کے سربراہ ہیں۔
Chhut(male)”مقامی برادریوں نے جنگل سے کاٹی جانیوالی لکڑی کو جلانے کا فیصلہ کیا، یہ وہ واحد اقدام ہے جو ہم غیر قانونی طور پر لکڑی کاٹنے والوں کے خلاف کرسکتے ہیں۔ ہماری تفتیش سے ثابت ہوتا ہے کہ انتظامیہ بھی اس غیرقانونی کاروبار کی پشت پناہی کر رہی ہے”۔
مقامی قبیلے Kouy سمیت دو لاکھ افراد کا روزگار اس جنگل سے وابستہ ہے، تاہم اب یہ جنگل تیزی سے تباہ ہورہا ہے۔
Chhut(male)”ہماری تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ اب جنگل کا صرف 25 فیصد حصہ ہی باقی رہ گیا ہے۔ہم نے
مستقبل کی تباہی کے بارے میں انتظامیہ کو آگاہ کیا ہے۔ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جنگل کو تباہی سے بچانے کے لئے ربڑ کاشت کرنیوالی کمپنی کو روکے۔یہ ہمارے ملک کا واحد جنگل ہے اور اب یہ بھی تباہ ہورہا ہے”۔
اس تحقیقاتی رپورٹ کے بعد کمبوڈین وزیراعظم کی جانب سے جنگل کا چار لاکھ اسی ہزار ایکڑ حصہ کٹائی سے محفوظ قرار دینے کی منظوری دی گئی۔ اس فیصلے کا خیرم مقدم بھی کیا گیا ، تاہم سماجی کارکن حکومتی اقدامات پر شکوک ظاہر کررہے ہیں، کونکہ ابھی تک حکومت نے اس جنگل کا نیا نقشہ جاری نہیں کیا ہے، جبکہ ربڑ کی کاشت کے ان منصوبوں کو بھی تاحال نہیں روکا گیا ، جن کی منظوری گزشتہ برس کمبوڈیا اور ویت نام کے وزرائے اعظم کے درمیان ہونیوالے تجارتی معاہدے کے تحت دی گئی تھی۔ حکومت کا اصرار ہے کہ اس منصوبے سے مقامی برادری کا طرز زندگی بہتر ہوگا۔حکمران جماعت کمبوڈین پیپلزپارٹی اس پالیسی کی حمایتی ہے۔ Chheam Yeap اس جماعت کے سنیئر رہنماءہیں۔
Chheam Yeap(male)”میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ حکومت غیر ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کررہی، یہ معاملہ حکومت اور پارلیمنٹ کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جنگل کے تنازعے میں اہم بات یہ ہے کہ Phnom Penh اور ارگرد کے علاقوں کے صرف چند افراد نے اس پالیسی کو مسترد کیا ہے۔میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کاشتکاروں کا تحفظ کرنا اور قبائلی افراد کا طرز زندگی بہتر بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے”۔
مگر گھنے جنگل کے اندر دوکمپنیاں جنھیں یہاں کا بڑا حصہ لیز پر دیا گیا ہے، کے بارے میں سب کا ماننا ہے کہ وہ غیر قانونی کٹائی میں مصروف ہیں۔ یہ کمپنیاں مقامی ترقی کے نام پر دیہاتیوں کو پیسے دیتی ہیں۔Uth Som On ضلع San Dan کے نائب گورنر ہیں۔
San Dan(male)”میری انتظامیہ غیر قانونی کٹائی کرنیوالوں کی حمایت نہیں کررہی، ہم نے یہ غیر قانونی کاروبار کرنیوالے افراد سے رشوت لینے پر پابندی عائد کی ہے، تاہم ہماری طاقت محدود ہے اور ہم پورے جنگل کا تحفظ نہیں کرسکتے”۔
Chim Kha کو مقامی افراد نے غیر قانونی طور پر لکڑی کاٹتے ہوئے پکڑا تھا۔
Chim Kha(male)”ہم تو محض ملازم ہیں، ہمیں کٹائی کا معاوضہ دیا جاتا ہے، بڑے درخت کاٹنے پر ہمیں پندرہ ڈالر ملتے ہیں، ہم اس جنگل میں گزشہ پندرہ روز سے ہیںاور یہ میرا درخت کاٹنے کا پہلا تجربہ ہے”۔
اس نے اپنے مالک کی شناخت ظاہر کرنے سے انکار کردیا، تاہم اسکا کہنا تھا کہ وہ ایک بااثر حکومتی عہدیدار ہے
Prey Lang Network اب کرپشن کے بارے میں شواہد جمع کررہا ہے۔نیٹ ورک کے سربراہ Cheang Vuthy اس بارے میں بتا رہے ہیں۔
Cheang Vuthy(male)”بااثر افراد مقامی انتظامیہ کو ماہانہ بنیادوں پر رشوت دیتے ہیں، جس کے بدلے میں انہیں ہر ماہ لکڑی سے بھری تیس چھوٹی گاڑیاں جنگل سے نکالنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ یہ سڑکیں حال ہی میں تعمیر ہوئی ہیں”۔
اگلے دو ماہ کے دوران یہ نیٹ ورک شواہد جمع کرکے مبینہ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی منصوبہ بندی کرنے میں مصروف ہے۔
ساٹھ سالہ Ros Lach، مقامی قبیلے Kouy کے سربراہ ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ یہ جنگل ان کے قبیلے کی تاریخ کا حصہ ہے۔
Ros Lach(male)”ہم اس جنگل میں صدیوں سے رہتے آرہے ہیں، ہم نے اس کو کبھی تباہ نہیں کیا، ہمارے آباءو اجداد نے اسے ہمیشہ ہماری روحوں کا نشان سمجھا ہے۔ ہم نے اس جنگل سے بہت کچھ حاصل کیا ہے، مگر اب ہمیں اس کے مستقبل کے بارے میں فکر ہے۔ہم حکومت، مقامی و بین الاقوامی این جی اوز سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ باقی ماندہ جنگل کو بچائیں”۔
