رواں سال کانز فلم فیسٹیول میں ایشیائی فلموں نے کافی کامیابیاں حاصل کیں، چین، جاپان، سنگاپور اور کمبوڈیا کے ڈائریکٹرز نے اس فیسٹیول میں شرکت کی، فیسٹیول پہلی بار ایوارڈ جیتنے والے ایک کمبوڈین ڈائریکٹر سے ہونیوالی بات چیت کا احوال سنتے ہیںآج کی رپورٹ میں
ہر سال کانفز فلم فیسٹیول کے ایوارڈ میں ایک خصوصی انعام تخلیقی اور مختلف فلموں کو دیا جاتا ہے، تاکہ تخلیقی کام کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔
رواں برس یہ ایوارڈ جیتنے والی دی مسنگ پیکچر کمبوڈیا سے آئی تھی، یہ ایک سوانحی فلم ہے، جس میں 1970ءکی دہائی کے خونی کھمیروج دور کی تاریخ کو سامنے لایا گیا ہے۔ یہ فلم ایک کتاب پر بنائی گئی، جو فلم ڈائریکٹر رتے پین نے ہی تحریر کی تھی۔
رتے”یہ میری ذاتی کہانی ہے، پہلے یہ صرف میری حد تک ہی محدود تھی، مگر آپ اسے اچھے طریقے سے بناکر پیش کریں تو یہ عالمی بن سکتی ہے۔ اب یہ فلم دنیا بھر میں چلی گئی ہے اور اب لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ یوگنڈا، روانڈا اور جنوبی افریقہ میں لوگوں کے ساتھ کیا ہوا۔ کیونکہ ہم سب مشترکہ مقصد کیلئے ہی جدوجہد کررہے تھے۔ ہم سب مطلق العنائی کے خلاف لڑتے رہے ہیں، ہم اپنے معاشرے اور آزادی کو تعمیر کرنے کی کوشش کررہے ہیں”۔
رتے پین کو ان کے خاندان سمیت کھمیر دور میں مزدور کیمپ بھیج دیا گیا، جہاں ان کے والدین اور بہنیں بھوک کی وجہ سے مرگئے۔
رتے پین”وہ بہت خوفناک تجربہ تھا، تاہم میں زندہ رہا، اس وقت میں نے طے کرلیا کہ اب ضروری ہے کہ ہم اپنا احترام دوبارہ حاصل کریں”۔
وہ کیمپ سے فرار ہوکر تھائی لینڈ کے پناہ گزین مرکز پہنچے، اس کے بعد وہ پیرس پہنچ گئے جہاں انھوں نے فلمساز کی حیثیت سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔
دی مسینگ پکچر میںکھمہروج کے سفاکانہ دور کے حقائق کو سامنے لایا گیا ہے، اس دور میں بیس لاکھ کے قریب افراد کو قتل کیا گیا تھا۔فلم میں بھی بتایا گیا ہے کہ اس دور کی کوئی تصویر بھی اب موجود نہیں۔یہی وجہ ہے کہ فلم میں پرانی دستاویزی فوٹیجز اور آمرانہ دور کے پروپگینڈا مواد کو استعمال کیا گیا۔
پین”میں نے متعدد متاثرہ افراد سے ملاقاتیں کیں، جبکہ میں حملہ آوروں سے بھی ملا، جب تک آپ ماضی اور حقائق کے بارے میں بات نہیں کرتے، اس وقت تک آپ مصالحت کی بات نہیں کرسکتے اور نہ ہی اکھٹنے رہنے کا سوچ سکتے ہیں”۔
اس فلم نے کانز کی فلم جیوی کو بہت متاثر کیا، مجموعی طور پررتے پین پندرہ فلمیں بناچکے ہیں، جن میں سے بیشتر کھمیروج دور کے گرد گھومتی ہیں۔
دوہزار تین میں انھوں نے ایک دستاویز فلم 21 ایس, دی کھمیروج دیتھ مشین بنائی، جو معروفتول سلونگ جیل کے بارے میں تھی، ان کی ایک اور فلم ،ڈچ ماسٹر آف دی فورگس آف ہیل ، 2005ءمیں ریلیز ہوئی، جس میں جیل سے فرار ہونے والے کینگ گوئیک کا انٹرویو شامل تھا، جبکہ دی مسنگ پیکچر کی تیاری میں انہیں چار سال کا عرصہ لگا۔
پین”یہ غیرمعمولی بات نہیں کیونکہ اس کی کہانی بہت پیچیدہ ہے، اور اگر آپ ہر چیز کو واضح پیش کرنا چاہتے ہیں تو وقت تو لگتا ہی ہے۔ یہ کسی ایک سچ کے بارے میں نہیں بلکہ اس میں متعدد حقائق کو سامنے لایا گیا ہے۔ میں نے اپنی ذات کے حوالے سے بھی سچ بتایا ہے، مجھے توقع ہے کہ اس لوگوں کو بہتر زندگی گزارنے میں مدد ملے گی”۔
پین پہلے کمبوڈین شہری ہیں جنھوں نے کانز فیسٹیول میں ایوارڈ جیتا ہے، اور ان کا کہنا ہے کہ یہ اعزاز ان کے ملک کے لئے بھی بہت اہم ہے۔
پین”میں متعدد برسوں سے اس موضوع پر کام کررہا ہوں اور کئی فلمیں بناچکا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ ہر چیز مزاح یا ڈرامے کی بجائے منطقی انداز سے سامنے لاﺅں۔ میں ایسا کام کرنے کی کوشش کررہا ہوں جو ذہنوں میں نقش ہوجائے۔ یہ ہر ملک کیلئے اہم ہے کہ ان کی تاریخ سب کے ذہنوں میں موجود رہے”۔