ماضی میں سیاحوں کیلئے باعث کشش Boeung Kak جھیل اب زمینی تنازعے کے باعث میدان جنگ بن چکی ہے۔ پانچ برس قبل انتظامیہ نے یہاں رہنے والے افراد کو زبردستی گھروں سے نکالنا شروع کیا تھا جس کے بعد سے یہاں احتجاج جاری ہے۔ گزشتہ ماہ بھی احتجاج کے دوران پندرہ خواتین کو گرفتار کرلیا گیا جن کے بچے اب اکیلے انتہائی مشکل حالات کا سامنا کررہے ہیں۔
Boeung Kak جھیل کے علاقے میں رہنے والے بچے دارالحکومت Phnom Penh کے شاہی محل کے سامنے گیت گارہے ہیں، ان بچوں میں سے بیشتر کی عمر بارہ سال سے کم ہے، اور وہ کمبوڈین بادشاہ سے اپنے والدین کی رہائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ان بچوں کے والدین جھیل کے ارگرد رہائشی حقوق کے مطالبے پر احتجاج کرتے ہوئے گرفتار کرلئے گئے تھے۔گرفتار ہونے والی تیرہ ماﺅں کو ڈھائی سال قید کی سزا بھی سنا دی گئی ہے، جبکہ دیگر دو خواتین عدالتی فیصلے کی منتظر ہیں۔
یہ بچے وزارت انصاف کے دفتر کے باہر بھی اپنے گرفتار والدین کی تصاویر اٹھائے جمع ہوئے۔ 11 سالہ Sokhunkanha رو رہی تھی، وہ اپنی ماں کی رہائی کا مطالبہ کررہی ہے۔
(female) Sokhunkanha “میری ماں اس وقت جیل میں قید ہیں، یہ ناانصافی ہے، میری ماں نے کسی زمین پر قبضہ نہیں کیا بلکہ وہ تو اپنے گھر کے تحفظ کی کوشش کررہی تھیں۔ میں وزیراعظم سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ میری ماں اور دیگر رہائشیوں کی مدد کریں۔ میں اپنی ماں کو بہت یاد کرتی ہوں اور چاہتی ہوں کہ ان کے ساتھ ساتھ میرے دیگر دوستوں کی مائیں بھی گھر واپس آجائیں”۔
جھیل کے گرد یہ احتجاج کئی برسوں سے جاری ہے۔ پانچ برس قبل کمبوڈین حکومت نے Boeung Kak کے ارگرد کی زمین بڑی کمپنیوں کو دینے کا فیصلہ کیا، Shukaku Incorporated نامی کمپنی کو بیشتر زمین 99 سالہ لیز پر دیدی گئی ، یہ کمپنی حکمران جماعت کمبوڈین پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک سینیٹر کی ملکیت ہے۔ اس کے بعد جھیل کے ارگرد رہنے والے ہزاروں افراد کو زبردستی بے گھر کردیا گیا تاکہ یہاں بلند و بالا عمارات تعمیر کی جاسکیں۔ کمپنی کی جانب سے چند متاثرہ افراد کو معاوضہ اور متبادل زمین بھی فراہم کی گئی، مگر یہ زمین دارالحکومت کے نواح میں واقع ہے جہاں پانی، بجلی اور ٹرانسپورٹ جیسی سہولیات موجود نہیں،جبکہ یہاں سے دفاتر اور تعلیمی ادارے بھی بہت دور ہیں۔ بیشتر خاندانوں نے مجبوراً اس پیشکش کو تسلیم کرلیا مگر چند افراد نے اپنے حقوق کیلئے جدوجہد جاری رکھی۔ گزشتہ سال وزیراعظم Hun Sen نے جھیل کی زمین کا دس فیصد حصہ رہائشیوں کو واپس دینے کا وعدہ کیا، مگر اب تک اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔گزشتہ ماہ چند افراد نے متنازعہ علاقے میں پرامن احتجاج کیا اور اپنے گھر دوبارہ تعمیر کرنے کی کوشش کی۔
Sokhunkanha اس وقت جھیل کے قریب واقع ایک گاﺅں میں اپنے تین چھوٹے بھائیوں کے ساتھ مقیم ہے، جبکہ اس کے والد ملازمت کے باعث یہاں موجود نہیں۔ وہ ایک سرکاری ملازم ہیں اور اپنی بیوی کی طرح احتجاج نہیں کرسکتے۔
(female) Sokhunkanha “ماں کے بغیر ہماری زندگی بہت مشکل ہوگئی ہے، ہمارا خیال رکھنے والا کوئی بھی نہیں۔میرا چھوٹا بھائی بیمار ہے، جبکہ ہم اپنی تعلیم بھی جاری نہیں رکھ سکتے۔جب میرے اساتذہ میری والدہ کے بارے میں پوچھتے ہیں تو میرے لئے جواب دینا مشکل ہوجاتا ہے۔ میں اپنے بھائیوں کو گھر میں تنہا نہیں چھوڑ سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ اب میں پڑھ بھی نہیں رہی۔ میں اپنی ماں کو بہت یاد کرتی ہوں”۔
ایک اور تیرہ سالہ بچی Seang Srey Leak کی والدہ بھی جیل میں ہیں۔
(female) Seang Srey Leak “مجھے ماں بہت یاد آتی ہے، اسکول جانے کیلئے تیار ہونے میں وہ میری مدد کرتی تھیں۔ مگر اب میں اپنی ماں کے بغیر تنہا رہ رہی ہوں۔ جب میں اسکول میں ہوتی ہوں تو میرا دھیان پڑھائی پر نہیں ہوتا۔ مجھے اپنی ماں کی ضرورت ہے”۔
انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے بین الاقوامی اداروں نے ان تمام خواتین کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ کمبوڈین این جی او LICAHDO نے بھی اس حوالے سے مہم شروع کی ہوئی ہے۔Om Som Art LICAHDO کے عہدیدار ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ حکومت کو تمام خواتین کو فوری طور پر رہا کرنا چاہئے۔
Boeung Kak” (male) Om Som Art کی پندرہ خواتین کی گرفتاری کو کسی صورت جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ وزارت انصاف کو اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے اس کا حل نکالنا چاہئے۔ بچوں کیلئے اس صورتحال میں زندگی گزارنا آسان نہیں۔ وہ پوری زندگی اس واقعے کی یاد اپنے ذہنوں سے نہیں نکال سکیں گے”۔
جب یہ بچے وزارت انصاف کے باہر مظاہرہ کررہے تھے تو ایک اعلیٰ عہدیدار نے باہر آکر انکی درخواست کو قبول کیا۔ Bon Yay Nartith وزارت انصاف کے افسر ہیں۔
(male) Bon Yay Nartith “وزارت انصاف اس معاملے کا نوٹس لے گی اور ہم ان بچوں کے مسائل کو حل کریں گے۔ ہم عدالت سے رجوع کرکے اس مقدمے کا جائزہ لیں گے”۔