(Calls for release of detained Vietnamese bloggers) ویت نامی بلاگرز

عالمی برادری کی جانب سے تین ویت نامی بلاگرز کی رہائی کا مطالبہ کیا جارہا ہے، جنھیں ریاست کے خلاف پروپگینڈہ کرنے کے الزام پر گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب ایک گرفتار شدہ شخص کی ماں نے خود کو آگ لگا کر خودسوزی کرلی۔

ویت نام میں ایک پارٹی کا راج ہے اور یہاں آزاد میڈیا موجود نہیں، جبکہ کمیونسٹ حکومت کے خلاف کچھ لکھنے پر آپ کو جیل میں ڈالا جاسکتا ہے۔ یہی چیز تین بلاگرز Dieu Cay، Anhbasg Saigon اور Ta Phong Tan کیلئے بدقسمتی کا باعث بنی۔ ان تینوں کا تعلق غیرقانونی قرار دیئے جانے والے ‘Free Journalists Club سے ہے۔ Phil Robertson ہیومین رائٹس واچ کے عہدیدار ہیں۔

 (male) Phil Robertson “بنیادی طور پر یہ بات قابل تشویش ہے کہ ان لوگوں نے کوئی جرم نہیں کیا تھا، وہ تو صرف بلاگنگ کے دوران آزادی سے تبادلہ خیال کررہے تھے، مگر لگتا ہے کہ یہاں حکومت تنقید سننے کیلئے تیار نہیں۔ وہ ایسی کوئی بات سننے کیلئے تیار نہیں جس کی اس نے منظوری نہ دی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے بلاگرز پر ریاست کے خلاف پروپگینڈہ کا الزام عائد کرکے انہیں پکڑ لیا۔ میرے خیال میں تو یہ اپنے خیالات کا آزادانہ اظہار ہے اور اس حق کا تحفظ ہونا چاہئے”۔

ان تینوں افراد کو بیس سال قید تک کی سزا دیئے جانے کا مکان ہے، ان میں شامل Ta Phong Tan نے ویت نام کے قانونی نظام میں موجود کرپشن پر بلاگ لکھا تھا، گزشتہ ہفتے اس کی والدہ نے خود کو آگ لگا کر خودکشی کرلی۔Ta Phong Tan کے ایک دوست وکیل Le Quoc Quan کا کہنا ہے کہ یہ اس خاتون کا احتجاج تھا۔

 (male) Le Quoc Quan “انھوں نے خود کو زندہ جلادیا جو کہ ریاست کے منہ پر طمانچہ ہے اور اس پر سوال ہے کہ ملک میں آزاد اور شفاف نظام ہونا چاہئے، تاکہ اس کی بیٹی کو رہائی مل سکے”۔

ویت نام میں حکومت عرب ممالک میں گزشتہ سال سے چلنے والی انقلابی تحریک پر پریشان ہے اور ڈر ہے کہ یہ لہر ایشیاءمیں نہ پہنچ جائے۔Le Quoc Quan کو بھی اب تک سات بار گرفتار کیا جاچکا ہے اور کچھ دن قبل بھی وہ گرفتار ہوتے ہوتے بچے ہیں۔

 (male) Le Quoc Quan “وہ میرے دفتر میں داخل ہوئے اور مجھے زبردستی باہر کھینچ کر لے گئے، پھر وہ ایک گاڑی لے کر آئے اور مجھے اس میں ڈالنے کی کوشش کرنے لگے، مگر میں نے مزاحمت کی”۔

Le Quoc Quan کھلے عام بولنے سے ڈرتے نہیں، تاہم نوجوان بلاگرز اس حوالے سے کافی خوفزدہ رہتے ہیں اور وہ اپنی شناخت چھپا کررکھتے ہیں۔ویت نامی دارالحکومت Hanoi کی ایک ایسی ہی بلاگر اپنے خیالات کا اظہار کررہی ہے۔

بلاگر(female) “ویت نام میں سیاسی بلاگر ہونا بیک وقت دلچسپ اور خطرناک ہے۔ اس میں دلچسپی یہ ہوتی ہے کہ آپ کو انٹرنیٹ پر اظہار خیال کی آزادی کا احساس ہوتا ہے، یہ احساس عمل زندگی میں نہیں ملتا۔مگر اس کے ساتھ ساتھ سیاسی بلاگر ہونا خطرناک بھی ہے، کیونکہ ویت نام میں سیاسی بلاگر کو انتظامیہ کی جانب سے متعدد مشکلات کا سامنا ہوتا ہے”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *