کمبوڈیا میں آئندہ جولائی کو شیڈول انتخابات کے حوالے سے الیکشن کرانے والے ادارے کی اہلیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں، کمبوڈین نیشنل الیکشن کمیٹی پر الزام ہے کہ اس کا کنٹرول حکمران جماعت کے پاس ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
تین ہزار سے زائد افراد کمبوڈین دارالحکومت کے فریڈم پارک میں مظاہرہ کرتے ہوئے نیشنل الیکشن کمیٹی میں اصلاحات کا مطالبہ کررہے ہیں۔ یہ مظاہرہ حزب اختلاف کی مرکزی جماعت نیشنل ریسکیو پارٹی کے زیرتحت ہورہا ہے۔ پارٹی عہدیدارسن چے کا کہنا ہے کہ کمیٹی حکمران جماعت کی حمایت کررہی ہے۔
سن”ہمیں معلوم ہے کہ وہ حکمران جماعت کے تحفظ کیلئے کام کررہی ہے، وہ طویل عرصے سے حکمران جماعت کو سہولت فراہم کرتی رہی ہے۔ اقوام متحدہ نے انتخابات کے حوالے سے اپنی سفارشات بھجواتے ہوئے موجودہ صورتحال بہتر بنانے کی درخواست کی ہے، تاہم حکومت نے عالمی برادری کی درخواست کو نظر انداز کردیا ہے”۔
اپوزیشن طویل عرصے سے نیشنل الیکشن کمیٹی یا این ای سی میں تبدیلیوں کا مطالبہ کرتی آرہی ہے، کولڈ پنہا ایک این جی او کمیٹی فار فری فیئر الیکشن سے تعلق رکھتے ہیں۔
پنہا”اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے سمیت متعدد انتخابی اسٹیک ہولڈرز نے نیشنل الیکشن کمیٹی میں بھرتیوں کے حوالے سے سفارشات پیش کی ہیں۔تو ہمارے خیال میں این ای سی کی تنظیم نو کے بعد ہی اسٹیک ہولڈرز اس پر اعتماد کرسکیں گے”۔
انتخابی مبصرین کا کہنا ہے کہ ووٹرز رجسٹریشن کا معیار 2008ءکے بعد سے زوال پذیر ہے، جس سے انتخابی عمل کی شفافیت کو نقصان پہنچا ہے، اس خیال کو حال ہی میں ایک غیر جانبدار ادارے کمبوڈیا ووٹر ریجسٹری آڈٹ کی رپورٹ سے بھی تقویت ملی ہے۔ اپوزیشن لیڈرز نے الزام لگایا ہے کہ الیکشن کمیٹی ووٹرز لسٹوں میں تبدیلیاں کرتے ہوئے اسے حکمران جماعت کے حق میں کررہی ہے، انھوں نے ان فہرستوں میں نظرثانی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔سن چے اس بارے میں اظہار خیال کررہے ہیں۔
سن”جیسا آپ کو معلوم ہے کہ نیشنل الیکشن کمیٹی کو مکمل طور پر حکمران سی پی پی پارٹی کنٹرول کررہی ہے، اب تک ووٹرز لسٹوں میں دو ملین گھوسٹ ووٹرز دریافت کئے جاچکے ہیں، جبکہ بہت بڑی تعداد میں ہمارے حامیوں کے نام فہرستوں میں سے نکال دیئے گئے ہیں”۔
تاہم کمیٹی نے اس مطالبے کو مسترد کردیا ہے، ٹپ نیتھا اس کے سیکرٹری جنرل ہیں۔
ٹپ نیتھا”ایسا کوئی قانون موجود نہیں جس کے تحت ووٹر لسٹوں پر نظرثانی کی جاسکے۔ این ای سی کو قوانین کے مطابق ہی کام کرنا ہے، تو یہ مظاہرہ انتخابی قوانین سے مطابقت نہیں رکھتا، ہم ان کے دباﺅ میں نہیں آئیں گے”۔
یورپی یونین نے ماضی میں انتخابی سفارشات کو مسترد کئے جانے پر اپنے مبصرین نہ بھیجنے کا اعلان کیا ہے، تاہم کولڈ پنہا کا کہنا ہے کہ عالمی مبصرین کی عدم موجودگی سے نتائج میں ردوبدل کا خدشہ ہے۔
کولڈ پنہا”کمبوڈین الیکشن کو جائز حیثیت مبصرین خصوصاً عالمی برادری کے مبصرین سے ہی ملے گی۔ یہ مبصرین کمبوڈین انتخابی انتظامیہ کے بارے میں اپنی رائے قائم کریں گے، وہ انتخابی نتائج اور اس کی شفافیت کے بارے میںسوالات پوچھیں گے، اگر عالمی برادری اپنی رائے قائم نہ کرسکی تو اس کا مطلب ہوگا کہ وہ اس بارے میں کوئی فیصلہ کرنے سے قاصر رہے گی”۔
کمبوڈین انتخابات کیلئے نوے لاکھ ووٹرز اپنی رائے کا اظہار کریں گے، کمبوڈیا میں حکمران جماعت پیپلزپارٹی گزشتہ تیس سال سے برسر اقتدار ہے۔ اور وزیراعظم ہن سن نے خبردار کیا ہے کہ اگر اپوزیشن جماعت انتخابات میں کامیاب ہوئی تو ملک میں انتشار پھیل جائے گا۔
ہن سن”خانہ جنگی شروع ہوجائے گی کیونکہ کوئی بھی اپوزیشن کو کھمیر روج دور کے کردار کے حوالے سے حکومتی اراکین گرفتار کرنے کی اجازت نہیں دے گا، ایسا ہوا تو بہت شدید ردعمل سامنے آئے گا”۔
تاہم پنہا کا کہنا ہے کہ یہ انتباہ نوجوان ووٹرز پر اثر انداز نہیں ہوگا۔
پنہامیرے خیال میں یہ ایک سیاسی پیغام تھا جیسا سابقہ انتخابات میں بھی سامنے آئے۔ یہ ان ووٹرز پر تو اثر انداز ہوسکتا ہے جو خانہ جنگی جھیل چکے ہوں، اور وہ اب بھی عدم استحکام سے خوفزدہ ہوں، مگر اس کا نوجوان ووٹرز پر زیادہ اثر نہیں پڑے گا”۔
ہزاروں افراد کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل ریسکیو پارٹی کے نائب صدر کیم سوکھانے کہا کہ یہ تو ابھی آغاز ہے۔
کیم سوکھا”اگر کوئی حل نظر نہ آیا تو آج کا یہ اجتماع آخری نہیں ہوگا۔ یہ تو نقطہ آغاز ہے، اگر نیشنل کمیٹی میں اصلاحات نہ ہوئی تو ہم اپنا احتجاج ختم نہیں کریں گے”۔