پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج خو ن کے مر ض تھیلیسیمیاسے آگاہی کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔پاکستا ن کاشماران ممالک میں ہوتا ہے جہاں موروثی بیماریوں میں سب سے زیادہ عام تھیلیسیمیا ہے۔ہر سال یہاں تقریباً چھ ہزاربچے اس جان لیوا بیماری کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں مگر اس کے باوجود معاشرے میں اس مرض سے متعلق آگہی نہ ہونے کے برابر ہے۔
تھیلیسیمیا ایک موروثی جنیاتی بیماری ہے جو کہ ماں اور باپ دونوں سے یکساں طورپر بچوں میں منتقل ہوتی ہے۔ تھیلیسیمیا کی بیماری میں جسم میں لال خون کے ذرات نہیں بنتے جس کی وجہ سے بچے میں خون کی شدید کمی واقع ہوجاتی ہے۔ عام طورپر اس مرض کی علامات بچے میں 4 ماہ کی عمر سے ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ متاثرہ بچے کو ہر 15 دن بعد انتقال خون اور جسم سے زائد فولاد کے اخراج کے لئے ادویات کی ضرورت تاحیات رہتی ہے۔
غیرسرکاری اعدادوشمارکے مطابق ملک میں تھیلسیمیا کا مرض شدت اختیار کررہا ہے اورایک اندازے کے مطابق تھیلیسیمیامیجر سے متاثرہ بچوں کی تعداد پاکستان میں 1 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے اور ایک کروڑ افراد تھیلیسیمیامائنر کا شکار ہیں۔
واضح رہے کہ تھیلیسیمیا موروثی مرض ہونے کے سبب ان گھرانوں میں زیادہ پایا جاتا ہے جہاں خاندانی شادیوں کا رواج ہے۔طبی ماہرین کے مطابق اس بیماری کا واحد علاج خون کے بنیادی خلیات کی پیوند کاری ہے ،جس پر تقریبا ً18سے 20لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔اس طریقہ علاج سے صرف صاحب ِ ثروت افراد ہی استفادہ کر سکتے ہیں جبکہ بیشتر مریضوں کی زندگی کا انحصار انتقالِ خون اورجسم سے زائد فولاد نکالنے کی ادویات پر ہوتا ہے اور اس پر ماہانہ اوسطا 6000روپے خرچ ہوتے ہیں جو ایک غریب آدمی کے بس سے باہر ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس مرض سے بچاﺅ کا واحد حل ملک بھر میں بلڈ اسکریننگ سینٹرز کا قیام اور سرکاری سطح پر شادی سے قبل تھیلیسیمیاکے اسکریننگ ٹیسٹ کےلئے قانون سازی کرنا ہے۔اس وقت یونان ،اٹلی ،ایران،سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اوربہت سے ممالک نے محض اس قانون سازی کی بدولت اپنے ملک کو اس مہلک بیماری سے ہمیشہ کے لئے محفوظ کرلیا ہے۔