برما میں نوجوان ہمیشہ سے ملکی سیاسی تاریخ میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں، مگر معاشرے کے قدامت پسند افراد کی نظر میں عمر کی بہت زیادہ اہمیت ہے اور ان کے خیال میں رہنماﺅں کی عمر چالیس سال سے زائد ہونی چاہئے، مگر اب اس ملک میں نوجوانوں نے اپنا پلیٹ فارم ٹیکنالوجی میں ڈھونڈ لیا ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
موئے تھیوے، نوجوانوں کے ایک گروپ جینریشن ویوکے صدر اور بانی رکن ہیں، یہ گروپ 2007ءکے زرد انقلاب کے بعد برما میں قائم کیا گیا تھا۔
موئے”اس وقت فورسز نے کئی افراد کو قتل اور متعدد کو گرفتار کرلیا، اس دوران اکثر نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اس وقت مجھے لگا کہ یہ انصاف کیلئے کھڑا ہونا میری ذمہ داری ہے”۔
فوجی آمریت کے دور میں یہ گروپ زیرزمین رہ کر کام کرتا تھا، مگر اب وہ کھلے عام کام کررہا ہے، اب یہ نئی نوجوان تحریک آن لائن زیادہ تیزی سے ابھر رہی ہے۔
موئے “میرے خیال میں فیس بک اور ٹیوئیٹر نوجوانوں کو آگے لانے میں بہت مددگار ثابت ہورہے ہیں، ان سائٹس کے ذریعے آپ بہت کم وقت میں کئی جگہوں تک پہنچ سکتے ہیں”۔
برمی سیاست پر بڑی عمر کے افراد کا غلبہ ہے، آئین کے مطابق حکومتی عہدوں کیلئے چالیس سال کی عمر لازمی ہے، جبکہ بیشتر اہم سیاسی رہنماءستر سے اسی سال کی عمر کے ہیں۔انٹرنیٹ نوجوانوں کیلئے سیاست پر اپنے خیالات کے اظہار کا متبادل ذریعہ بن گیا ہے۔
موئے “اگر ہم صف اول میں جگہ بنانا چاہتے ہیں تو مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اپنا راستہ خود بنانا ہوگا، ہمیں اپنا اسٹیج تعمیر کرنے کی ضرورت ہے، میرا ماننا ہے کہ بیشتر نوجوان اپنا راستہ خود بنارہے ہیں اور وہ آگے بڑھنے کیلئے اپنا پلیٹ فارم خود تعمیر کررہے ہیں”۔
گزشتہ سال تھیٹ سوے ون نے میانمار ایمپاور مینٹ پروگرام کا آغاز کیا، تاکہ مختلف گروپس سے رابطہ کرکے ملک گیر یوتھ نیٹ ورک قائم کیا جاسکے۔
تھیٹ سوے ون”اس طرح ریاست کاچن کے نوجوان ریاست تھینن تھیری کے نوجوانوں سے مل سکتے ہیں، فیس بک نوجوانوں کے گروپس اور ان کی سرگرمیوں کیلئے بہت کارآمد سائٹ ہے، اس کے ذریعے تقاریب کا انعقاد یا کسی ادارے کو منظم کرنے میں بہت مدد ملتی ہے”۔
مگر سیاسی جماعتوں کیلئے نوجوانوں کو اہم کردار دینا بہت مشکل ہے، اپوزیشن کی مرکزی جماعت این ایل ڈی پر نوجوانوں کو اہم کردار نہ دینے پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، مگر این ایل ڈی کے نوجوان رہنماءکیاو زن ون کا کہنا ہے کہ ہمیں اہم مقام حاصل ہے۔
کیاو زن ون”ہمارا نہیں خیال کہ نوجوانوں کو دوسری صف میں رکھا گیا ہے، بلکہ ہمیں آئندہ نسل کے رہنماءتشکیل دینے کا موقع ملا ہے”۔
این ایل ڈی نے رواں برس کے اختتام تک ملک گیر یوتھ کانگریس کی منصوبہ بندی کررکھی ہے، مگر کچھ افراد جیسے تھیٹ سوے ون کا کہنا ہے کہ پرانی نسل کو اپنی ذہنیت تبدیل کرنی چاہئے۔
تھیٹ سوے ون”نوجوانوں کا کردار بہت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ہم کو یہ ان بزرگ افراد کے جانے کے بعد اقتدار کو سنبھالنا ہے”۔
موئے کا کہنا ہے کہ نوجوان افراد کے پاس قومی اتحاد کو تشکیل دینے کا بہترین موقع حاصل ہے۔
موئے “ان نوجوانوں کو ایک دوسرے کو ہرانا اور نفرت کرنا سیکھایا جاتا ہے، ان کے پاس پہلے ایک دوسرے کو سمجھنے یا رابطے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا، تو میرا نہیں خیال کہ قومی اتحاد کے بغیر ملک میں امن کا قیام ممکن ہے”۔