برما میں 2007ءکو چلنے والی احتجاجی تحریک کے بعد سے نوجوانوں کی جانب سے جمہوریت پسند گروپس قائم کئے جارہے ہیں۔ان میں سے ایک Generation Wave نامی گروپ بھی شامل ہے۔ یہ گروپ موسیقی اور دیگر طریقوں سے حکومت میں تبدیلی کا مطالبہ کرتا ہے۔ اب حکومت تو تبدیل ہوچکی ہے مگر تاحال متعدد سیاستدان جیلوں میں قید ہے۔
Bobo جنریشن ویو نامی گروپ کے رکن ہیں۔
(male) Bobo “ہم اس وقت رنگون میں ہیں، یہ شہر کا نواحی علاقہ ہے جسے چائنا ٹاﺅن کہا جاتا ہے۔ یہاں حال ہی میں ہم نے اپنا دفتر کھولا ہے”۔
یہ جنریشن ویو کا برما کے اندر پہلا دفتر ہے۔اس گروپ کے اراکین گرفتاریوں سے بچنے کیلئے تھائی لینڈ کے سرحدی قصبے Mae Sot میں برسوں تک چھپے رہے تھے۔
(male) Bobo “میں جنریشن ویو کا سیکرٹری جنرل ہوں، اور میری عمر 24 سال ہے”۔
جنریشن ویو نامی یہ گروپ 2007ءکے زعفرانی انقلاب کے بعد قائم کیا گیا تھا، زعفرانی انقلاب اس تحریک کا نام ہے جو بدھ بھکشوﺅں نے حکومت کیخلاف چلائی تھی۔ اپنے قیام کے بعد سے جنریشن ویو کے اراکین زیرزمین رہ کر دیواروں پر تحریروں اور موسیقی کے ذریعے اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے رہے۔
اس گروپ نے اپنا ہپ ہوپ البم تیار کیا جسے the black album کا نام دیا گیا، اسے انتہائی خفیہ انداز میں رنگون کے چائے خانوں میں فروخت کیا جاتا رہا۔ دو برس قبل اس گروپ کے تیس اراکین کو گرفتار کرلیا گیا، مگر 2010ءکے انتخابات کے بعد جنریشن ویو نے کھلے عام کام شروع کردیا۔
(male) Bobo “ہماری نئی مہم کا مقصد ملک میں امن کا قیام ہے، ہم اپنے ملک میں دیرپا امن چاہتے ہیں، ہم اپنے ملک میں خانہ جنگی روکنا چاہتے ہیں، اگرچہ بہت سے لوگوں کو لگ رہا ہے کہ ہمارے ملک میں تبدیلی آرہی ہے، مگر زمینی حقیقیت یہ ہے کہ برما کے بہت سے مقامات پر نسلی بنیادوں پر لڑائی جاری ہے۔ اس جنگ کے باعث ہمارے ملک کے متعدد شہریوں کو مسائل کا سامنا ہے”۔
برما کی نئی سیاسی صورتحال کے پیش نظر جنریشن ویو نے اپنی حکمت عملی بھی تبدیل کردی ہے۔ اب وہ عوامی مہم اور دیگر نوجوان گروپس کے ساتھ ملکر کھلے عام کام کررہے ہیں۔Bobo اس حوالے سے بتارہے ہیں۔
(male) Bobo “ہم نوجوانوں کی نمائندگی کی کوشش کررہے ہیں، ہم نوجوانوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔ ہم نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ان کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں۔ہم نوجوانوں سے یہ نہیں کہتے کہ وہ ہمارے گروپ کا حصہ بن جائیں، بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ وہ اپنے حقوق اور ذمہ داریوں سے آگاہ ہوں”۔
تاہم کچھ حلقوں کا ماننا ہے کہ نوجوان نسل مکمل طور پر اس تحریک کیلئے تیار نہیں۔ Ei mo جنریشن ویو کی رکن ہیں۔
(female) Ei mo “میرا نام Ei mo ہے اور میں 2011ءسے جنریشن ویو کی رکن ہوں”۔
Ei mo کیلئے سیاست نیا میدان نہیں، 2007ءسے وہ حزب اختلاف کی جماعت National League for Democracy کی رکن ہیں، ان کی والدہ بھی اس جماعت کی رکن ہیں۔
(female) Ei Mo “متعدد نوجوان ابھی بھی خوفزدہ ہیں، اور ان کا خیال ہے کہ اگر وہ سیاست کا حصہ بنے تو انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ ذہنیت ابھی تک تبدیل نہیں ہوسکی”۔
جنریشن ویو کے بانی اراکین میں شامل Min Yan Naing کا ماننا ہے کہ ان کا گروپ برمی نوجوانوں کو سیاست کے میدان میں شامل کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے، تاہم انکا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ کام فوری طور پر ممکن نہیں۔
(male) Min Yan Naing “میڈیا دکھا رہا ہے کہ آنگ سان سوچی کیا کچھ کررہی ہیں، اور لوگوں کا خیال ہے کہ یہ سیاست ہے۔ یہ پڑھنا اور بات کرنا آسان ہے کہ آنگ سان سوچی کیا کام کررہی ہیں، مگر ان کی طرح کام کرنا آسان نہیں۔ برمی عوام ابھی تک خوفزدہ ہے کیونکہ حکومت تبدیل تو ہوئی مگر اس پر فوج کا غلبہ تاحال موجود ہے، وہ حکومت پر اعتماد کرنے کیلئے تیار نہیں”۔
جنریشن ویو آج کل اپنے دوسرے البم پر کام کررہا ہے۔ اس کا ایک گانا تیار ہوچکا ہے، جس کی تیاری میں ایک ڈنمارک کے گروپ WhoMadeWho نے بھی مدد دی ہے۔
Min Yan Naing بھی ہپ ہوپ گلوکار رہ چکے ہیں، وہ اس گانے کا مطلب بتارہے ہیں۔
” (male) Min Yan Naing سیاست میں فعال رہنا ایک باکسر کے بائیں ہاتھ کے مکے جیسا ہے۔ ہم آمر کو اپنے بائیں ہاتھ سے ناک آﺅٹ نہیں کرسکتے۔ اس گانے میں سیدھے ہاتھ سے مراد عوام ہے، اور عوام ملکر آمریت کو ختم کرسکتے ہیں، یعنی آسان الفاظ میں ایک باکسر اپنے بائیں ہاتھ سے کچھ نہیں کرسکتا مگر عوام سب کچھ کرسکتے ہیں”۔
اس گروپ کے اراکین حکومت سے بنیادی اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہیں۔Bobo کا اس حوا لے سے کہنا ہے ۔
(male) Bobo “یہاں ابھی بھی متعدد سیاسی قیدی موجود ہیں، یہاں ابھی تک سیاسی حقوق کیلئے قوانین موجود نہیں، مثال کے طور پر یہاں ابھی تک پانچ سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی ہے۔ تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ملک میں مسائل تاحال کم نہیں ہوسکے ہیں”۔
یہ گانا جنریشن ویو کے بانی Zay Yar Thaw نے کمپوز کیا ہے، یہ گزشتہ برس آنگ سان سوچی کی 66 ویں سالگرہ پر تیار کیا گیا تھا۔ Zay Yar Thaw کئی برس قید کاٹ چکے ہیں اور اب وہ آنگ سان سوچی کی جماعت کی جانب سے پارلیمنٹ کے رکن بن چکے ہیں۔Bobo کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ میں ان کی نمائندگی کے باوجود حکومت کے بارے میں انکا رویہ تبدیل نہیں ہوا ہے۔
(male) Bobo “اگر حکومت اچھی ہوگی تو ہم اس کی تعریف کریں گے۔ اگر حکومت بری ہوگی تو ہم اسے برا ہی کہیں گے۔ ہم ہر وقت اس کی مخالفت نہیں کرسکتے”۔