پاکستان کی طرح برما میں بھی لوڈشیڈنگ کے خلاف زبردست عوامی احتجاج جاری ہے۔ یہ احتجاج 2007ءکے بعد اب تک کا سب سے شدید ترین احتجاج ہے۔
برمی علاقے Mandalay میں اس وقت شام کے سات بجے ہیں اور سینکڑوں افراد ایک تاریک سڑک پر بجلی سپلائی کرنے والے دفتر کے سامنے کھڑے ہیں۔ ان لوگوں نے ہاتھوں میں شمعیں اٹھا رکھی ہیں اور یہ بجلی کی چوبیس گھنٹے بلاتعطل سپلائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ایک شخص کے ہاتھ میں بینر پر لکھا ہے کہ جمہوریت سے پہلے ہمیں بجلی چاہئے۔نوجوان سیاسی کارٹونسٹ Pan Thu Aung بھی اس مظاہرے میں شریک ہیں.
(male) Pan Thu Aung “یہ افواہ پھیلی ہوئی ہے کہ آج کا اجتماع فیس بک پر ہونے والی مہم کے نتیجے میں اکھٹا ہوا ہے، حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارے گھروں پر پانی و بجلی موجود نہیں، اسی لئے ہم یہاں جمع ہوئے ہیں”۔
برما میں کئی کئی گھنٹوں تک بجلی بند رہنا معمول ہے مگر اب Mandalay کے رہائشی اس سے تنگ آچکے ہیں۔ گزشتہ ایک برس کے دوران انہیں روزانہ صرف چھ گھنٹے تک ہی بجلی مل سکی ہے۔ برما قدرتی گیس کے ذخائر رکھنے والا بڑا ملک ہے مگر اس گیس کی بڑی مقدار پڑوسی ممالک تھائی لینڈ اور چین کو برآمد کردی جاتی ہے۔ Mandalay کے رہائشی اور شاعر Oakka Kyaw نے حکومت سے قدرتی گیس کی برآمد روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
(male) Oak Ka Kyaw “ہمیں گیس کی فروخت روک کر اسے عوام کے لئے استعمال کرنا ہوگا۔ برما کے پاس بے پناہ وسائل موجود ہیں مگر اس کے باوجود ہم بجلی سے محروم ہیں۔ میرے بچے اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں زیرتعلیم ہیں ، بجلی نہ ہونے کے باعث انہیں اندھیرے میں پڑھنا پڑتا ہے”۔
Ashin Wirathu معروف بدھ بھکشو ہیں۔ وہ بھی اس مطالبے سے اتفاق کرتے ہیں۔
(male) Ashin Wirathu “ہمیں پانی اور بجلی کی قلت کا سامنا ہے۔ اگر بجلی بند رہے گی تو پانی بھی دستیاب نہیں ہوسکے گا۔ برما بجلی پیدا کرنے والے وسائل سے مالامال ملک ہے مگر یہ وسائل بیرون ملک برآمد کردیئے جاتے ہیں۔ کسی کو بھی نہیں معلوم کہ اس برآمد سے حاصل ہونے والا زرمبادلہ کہاں چلا جاتا ہے۔ میرے خیال میں ملک بھر میں اس طرح کے احتجاجی مظاہرے کئے جانے چاہئے، حکومت کو چاہئے کہ ایسا ہونے سے قبل ہی عوام کے مطالبات کو تسلیم کرلے”۔
Mandalay میں چار روز تک جاری رہنے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران پچاس سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا تاہم بعد میں انہیں چھوڑ دیا گیا۔اس احتجاج کا سلسلہ برما بھر میںپھیل گیا ہے جس میں دارالحکومت رنگون قابل ذکر ہے۔
رنگون میں روزانہ چھ گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے، شدید گرمی میں بجلی کے تعطل سے تنگ ہزاروں افراد نے احتجاجاً رنگون کے Sule Pagoda کی جانب مارچ کیا۔اس ریلی نے حکومت کو اقدامات کرنے پر مجبور کردیا، اور اس کی جانب سے بجلی کے بحران سے نمٹنے کیلئے ہنگامی اقدامات کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اس مقصد کیلئے امریکہ سے جنریٹرز اور گیس ٹربیونز خریدے جارہے ہیں، جبکہ پاور اسٹیشنز کی مرمت وغیرہ کی جارہی ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ باغی مسلح گروپس کے حملوں کے باعث پاور سپلائی کو نقصان پہنچ رہا ہے، تاہم حزب اختلاف کی رہنماءAung San Suu Kyi کا کہنا ہے کہ حکومت بہانے چھوڑ کر مسائل کو حل کرے۔
(female) Aung San Suu Kyi “حکمرانوں کو سنجیدگی سے ملک کی موجودہ صورتحال پر غور کرنا چاہئے، انہیں سوچنا چاہئے کہ آخر ہمارے ملک میں بجلی کی قلت کیوں ہیں، یہ بات غلط ہے کہ ہمارے پاس توانائی کے وسائل کی کمی ہے، ہمارے پاس توانائی کے وسیع ذخائر موجود ہیں،اور ہمارا ملک بھی غریب نہیں۔ اصل مسئلہ ملک کا خراب نظام ہے جس کی وجہ سے بجلی کا بحران پیدا ہوا ہے”۔