برما کا کہنا ہے کہ وہ ساﺅتھ ایسٹ ایشین گیمز کے لئے مکمل طور پر تیار ہے، یہ برمی تاریخ کا سب سے بڑا اسپورٹس ایونٹ ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
برما بھر میں ساﺅتھ ایسٹ ایشین گیمز کے موقع پر لوگوں میں خوشی اور جوش محسوس کیا جاسکتا ہے، 43 سالہ یانت یانت ون ینگون میں مقیم ایک گھریلو خاتون ہیں۔
یانت یانت ون”ان گیمز کو دیکھنے کیلئے متعدد غیرملکی سیاح ہمارے ملک میں آئیں گے، اس سے ہمیں زرمبادلہ حاصل ہوگا”۔
ان گیمز کے موقع پر شہروں کی خوبصورتی کیلئے بیشتر سڑکوں کو دوبارہ تعمیر کیا گیا ہے، مگر سڑکوں پر ٹریفک کے خراب انتظام کی وجہ سے ینگون میں ٹریفک جام بہت بڑا مسئلہ ہے۔ 47 سالہ ٹیکسی ڈرائیور کا کہنا ہے کہ ٹریفک جام کی وجہ سے وہ زیادہ کمانے میں ناکام رہتا ہے۔
ٹیکسی ڈرائیور”ٹریفک کا نظام اب بہت خراب ہوچکا ہے، ٹریفک پولیس کو سڑکوں کو ٹھیک رکھنے کی کوشش کرتی ہے مگر اہم شاہراﺅں پر بہت زیادہ ٹریفک ہوتا ہے۔ کئی بار تو مجھے اپنی بچت ٹیکسی مالک کو دینا پڑجاتی ہے”۔
مگر میانمار محکمہ پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ٹریفک کا نظام درست رکھنے کیلئے ایک ہزار سے زائد اعلیٰ تربیت یافتہ اہلکار تعینات کررکھے ہیں۔
کھیلوں کے مختلف مقابلے ینگون سے چھ گھنٹے کے فاصلے پر واقع برما کے نئے دارالحکومت نے پی داﺅ میں منعقد ہوں گے، مگر بیشتر افراد کو غیرملکیوں کو دی جانے والی رہائشی سہولیات پر تشویش ہے، ان مقابلوں میں شرکت کیلئے چھ ہزار ایتھلیٹ اور تین ہزار سے زائد صحافیوں کی آمد متوقع ہے، جبکہ سیاحوں کی تعداد الگ ہوگی۔مسٹڑ تیریس، ایک میزبان شہرمنڈالے کے اسمارٹ ہوٹل کے منیجر ہیں۔
مسٹر ٹیریس”اس وقت ہم بہت زیادہ سیاحوں کی آمد سے ہونیوالی آمدنی کا تخمینہ لگانے میں مصروف ہیں، ان گیمز کے انعقاد کے موقع پر موسم بھی اچھا ہے، گزشتہ ماہ اور رواں مہینے کے دوران ہوٹل کے تمام کمرے مہمانوں سے بھرے رہے،جبکہ ابھی بھی متعدد افراد کمرہ بک کرانے کیلئے آرہے ہیں”۔
مگر حکام اس حوالے سے زیادہ فکرمند نہیں،یو کیاﺅ او،میانمار سی گیمز آرگنائزنیشن کے سیکریٹریل منیجر ہیں۔
یو کیاﺅ او” نے پائی تھا، ینگون،منڈالے اورگوے سانگ کے تمام ہوٹل دیگر ممالک سے آنیوالے ان گیمز کے پرستاروں اور کھلاڑیوں کیلئے مخصوص کردیئے گئے ہیں،جب میانمار سی آرگنائزیشن کمیٹی غیرملکی پرستاروں کی درخواستوں کی منظوری دے گی تو ہم انہیں رہائش کی پیشکش کریں گے، وزارت کھیل ہرسہولت کی فراہمی یقینی بنانے کی کوشش کرے گی”۔
برمی پرستاروں کو بیشتر ایونٹس کے ٹکٹ مفت فراہم کئے جائیں گے، انہیں بس اپنا شناختی کارڈ پیش کرنا ہوگا، یو کاﺅ اوکا ذمہ ہے کہ اس بڑے ایونٹ پر ہر ایک کو بہترین خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔
یو کاﺅ او”افتتاحی اور اختتامی تقاریب اور فٹبال مقابلوں میں تماشائیوں کا داخلہ مفت ہوگا، کسی اور ملک میں پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا، نے پی ڈاﺅ کے اسپورٹس ولیج میں ریسٹورنٹس، اسپاس، وائی فائی اسپاٹس اور دیگر تفریحی شوز سیاحوں کیلئے موجود ہوں گے”۔