(Burma Western State Under Emergency) برمی مغربی ریاست میں ایمرجنسی نافذ

(Burma Western State Under Emergency) برمی مغربی ریاست میں ایمرجنسی نافذ

 

برما کے مغربی حصوں میں گزشتہ دنوں میں فرقہ وارانہ فسادات میں متعدد افراد ہلاک جبکہ سینکڑوں گھر تباہ ہوگئے۔ یہ جھڑپیں مقامی مسلمان قبیلے Rohingyas اور دوسرے قبیلے Rakhine کے درمیان ہوئیں۔

فرقہ وارانہ فسادات کے آغاز کے بعد برمی صدر Thein Sein نے سرکاری ٹی وی پر اہم خطاب کیا

 Rakhine state (male) Thein Sein میں پیش آنے والے موجودہ واقعات کا جائزہ لیا جارہا ہے، جس سے اندازہ ہورہا ہے کہ امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ مذہب اور نسل کے نام پر ہونے والا احتجاج ہے، جس کے باعث ایک دوسرے سے نفرت بڑھی ہے اور ایک دوسرے سے انتقام لینے کی خواہش پیدا ہوئی۔ یہ صورتحال Rakhine state سے نکل کر ملک کے دیگر حصوں میں بھی پیدا ہوسکتی ہے”۔

برمی صدر نے متاثرہ علاقوں میں کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا، جبکہ پولیس کی ناکامی کو دیکھتے ہوئے امن و امان کی صورتحال سنبھالنے کی ذمہ داری فوج کے حوالے کردی گئی۔

یہ جھڑپیں مئی میں ایک بدھ خاتون سے مبینہ زیادتی کی خبر کے بعد شروع ہوئیں، جس کی ذمہ داری تین مسلمانوں پر عائد کی گئی اور انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ اس کے بعد نامعلوم شرپسندوں نے دس مسلمانوں کو تشدد کرکے قتل کردیا، جس کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور مسلمانوں اور بدھ قبائل میں جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ برما میں حال ہی میں پہلی بار جمہوری اصلاحات کا عمل شروع ہوا ہے، مگر موجودہ صورتحال نے متاثرہ علاقوں کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر حصوں میں بھی اشتعال پیدا کردیا ہے۔ متعدد مبصرین نے موجودہ صورتحال کو برمی جمہوریت کیلئے خطرہ قرار دیا ہے۔برما کی جمہوریت پسند رہنماءآنگ سان سوچی نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے مذاہب کا احترام کریں۔

آنگ سان سوچی(female) “ملک کے ہر شہری کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہئے۔ ملکی وقار کا انحصار ہی شہریوں کے تحفظ اور امن سے ہوتا ہے۔ میری خواہش ہے کہ ہمارے ملک میں سب لوگ نسل اور مذہب سے بالاتر ہوکر امن سے زندگی بسر کریں۔میں سب شہریوں پر زور دیتی ہوں کہ وہ قانون کا احترام کریں”۔

Rakhine state کی تاریخ میں پہلی بار اس پیمانے پر پرتشدد واقعات ہوئے ہیں، مگر یہاں نسلی تناﺅ کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق برما میں مسلمانوں کی تعداد آٹھ لاکھ کے لگ بھگ ہے جن میں اکثریت بنگلہ دیش سے ملحق اسی ریاست میں مقیم ہے۔ برمی حکومت ان مسلمانوں کو بنگلہ دیشی تارکین وطن قرار دیتی ہے اور انہیں شہریت کا حق دینے کیلئے تیار نہیں، جبکہ بنگلہ دیش بھی ان مظلوم مسلمانوں کو مہاجرین کی حیثیت دینے کیلئے تیار نہیں۔اس طرح یہ مسلمان دونوں ممالک کے درمیان پھنس کر رہ گئے اور ان کے حقوق کی ضمانت دینے کیلئے کوئی بھی تیار نہیں۔

برمی دارالحکومت رنگون میں واقع Shwedagon نامی بدھ مندر میں بھکشو اور پانچ سو افراد فرقہ وارانہ فسادات میں ہلاک ہونے والے افراد کیلئے دعا مانگ رہے ہیں۔ All Burma Muslim Association کے ترجمان Wunna Shwe کا کہنا ہے کہ ہم تنازعے کی شدت میں کمی لانے کی کوشش کررہے ہیں۔

 male) Wunna Shwe) “ہماری تنظیم تمام گروپس کیساتھ ملکر امن اور استحکام کیلئے کام کررہی ہے۔ ہم حکومتی عہدیداران اور مذہبی گروپس سے رابطہ کررہے ہیں تاکہ اس مسئلے کو حل کیا جاسکے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس مسئلے کا کوئی مناسب حل نکالا جاسکے”۔

فرقہ وارانہ فسادات کے بعد بیرون ملک مقیم برمی مسلمانوں نے بینکاک اور کوالالمپور میں مظاہرے کئے اور اقوام متحدہ سے صورتحال میں مداخلت کا مطالبہ کیا۔تاہم اقوام متحدہ کو کشیدہ صورتحال کے باعث Rakhine state میں موجود اپنے عملے کو نکالنا پڑا ہے۔ Marty Nesirky اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان ہیں۔

 male) Marty Nesirky) “ہم صورتحال کا انتہائی باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں، ہمیں تشدد کے واقعات پر شدید تشویش ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ دونوں برادریوں کے درمیان کشیدگی روکنے کیلئے مناسب اقدامات کئے جائیں”۔

برمی حکومت کی جانب سے مسلمانوں کیلئے Rohingya کا لفظ استعمال کرنے کی بجائے انہیں بنگالی کہا جاتا ہے، جبکہ آن لائن فورمز میں Rohingya برادری کو حملہ آور قرار دیا جارہا ہے اور ان پر موجودہ فسادات کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔ اپنے ٹی وی خطاب میں صدر Thein Sein نے عوام سے اپیل کی وہ نسلی اور لسانی تقسیم پیدا کرنے والے الفاظ استعمال کرنے سے گریز کریں۔

 male)” Thein Sein) میں چاہتا ہوں کہ سب لوگ احساس کریں کہ نسل پرست الفاظ کس طرح ملکی استحکام، جمہوری عمل اور قومی ترقی کو نقصان پہنچا رہے ہیں”۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *