Burma Drops Sports to Win More Medals at SEA Games-برما میں ساﺅتھ ایشین گیمز کا انعقاد

اس سال فوجی حکمرانی کے بعد پہلی بار برما میں ساﺅتھ ایسٹ ایشین گیمز جیسے بڑے بین الاقوامی ایونٹ کا انعقاد ہورہا ہے۔ اس ایونٹ کے دوران برما کئی چیزوں کو کھونے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

نئی پیی ڈو سینٹر” میں ایک مصروف صبح کا آغاز ہوا ہے، حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ برما میں اب تک تعمیر کیا گیا سب سے بہترین اسٹیڈیم ہیں۔کیا و زین موئے وزارت کھیل کے ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں۔

کیا و زین موئے” مجھے وزارت کھیل میں کام کرتے ہوئے دس سال سے زیادہ عرصہ ہوگیا ہے، اس دوران مجھے اس قسم کا اسٹیڈیم دیکھنے کا موقع نہیں ملا”۔

اس اسٹیڈیم کے کچھ حصے ابھی بھی زیرتعمیر ہیں، جبکہ ایتھلیٹس بھی ہفتے میں چھ روز یہاں تربیت میں مصروف ہیں، برما عالمی برادری کو متاثر کرنے کا خواہشمند ہے۔

کیا و زین موئے” ساﺅتھ ایسٹ ایشیا گیمز کی میزبانی کے ذریعے ہمیں پڑوسی ممالک کو اپنی کارکردگی سے متاثر کرنے کا موقع ملا ہے۔ اس سے ہمیں اپنے کھیلوں کی ترقی دکھانے کا موقع ملے گا اور ہم یہ بھی دکھا سکیں گے کہ ہم بڑے ایونٹ کا انعقاد کرسکتے ہیں۔ اس سے ہمارے ملک کے بارے میں عالمی برادری کے بارے میں سوچ بھی تبدیل ہوگی”۔

زیادہ گولڈ میڈلز کے حصول کیلئے برما نے ایسے کھیل ایونٹ سے نکال دیئے ہیں جن میں وہ مضبوط نہیں، جیسے ٹینس اور جمناسٹک وغیرہ۔

کیا و زین موئے” ہر ٹیم گولڈ میڈلز کے حصول کی خواہشمند ہوتی ہے، ورنہ انہیں خالی ہاتھ گھر واپس جانا پڑتا ہے”۔

ابتدائی طور پر بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس اور ہاکی کو بھی گیمز سے نکالا گیا تھا، تاہم دیگر ممالک کی شدید تنقید کے بعد ان مقابلوں کو دوبارہ ایونٹ کا حصہ بنالیا گیا۔

ٹینس کے برعکس برما کے روایتی کھیل کینِ بال کو پہلی بار ان گیمز کا حصہ بنایا گیا ہے، یہ رقص کی طرح کا کھیل ہے جو

رٹر بال سے کھیلا جاتا ہے۔ چالیس سالہ تھین زا من اس کھیل کے ماہر کھلاڑی ہیں۔

تھین زا من” جب ہم بیرون ملک کسی مقابلے کیلئے جاتے ہیں تو خود کو مہمان سمجھتے ہیں، وہاں ہمیں نئے ماحول کا سامنا ہوتا ہے، لیکن اب ہم اپنے ملک میں کھیلیں گے، جس سے ہمیں زیادہ اعتماد ملے گا۔ اس طرح ہمیں یہ محسوس ہوگا کہ ہم آسانی سے کئی ایونٹ جیت سکیں گے”۔

برما نے جو کیا وہ کوئی نئی چیز نہیں، بلکہ ماضی میں دیگر میزبان ممالک نے بھی اپنے مقامی کھیلوں کو ایونٹ کا حصہ بنایا ہے، تیس سالہ مے زن پھِیوان گیمز میں 14 بار حصہ لے چکی ہیں۔

مے زن پھِیو” جب ویت نام میں گیمز کا انعقاد ہوا تو انھوں نے مقامی کھیل اس میں شامل کئے۔ ہم ان مقابلوں میں بطور دوست شریک ہوتے ہیں، کیونکہ اس مقصد ہی دوستی کو فرغ دینا ہے۔ انڈونیشیاءنے بھی اپنی میزبانی کے دوران اپنے مخصوص کھیلوں کو ایونٹ کا حصہ بنایا تھا”۔

اسپورٹس جرنلسٹ کن مونگ ہتوے کا کہنا ہے کہ متعدد افراد کو لگتا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے گیمز کا معیار متاثر ہوتا ہے۔

کن مونگ “ ہمیں اس طرح کی روایات پر تنقید کرنی چاہئے، ہمیں عالمی کھیلوں کو ایونٹ میں شامل کرنا چاہئے، روایتی کھیل پیسوں اور وقت کا ضیاع کا سبب بنتے ہیں، جبکہ کھلاڑیوں کا بھی اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، کیونکہ اگلے گیمز میں وہ مقابلے شامل ہی نہیں ہوتے۔ برما کو ذہنی طور پر تبدیل ہونا چاہئے اور اپنے روایتی کھیلوں کے ذریعے گولڈ میڈلز کے حصول کی سوچ چھوڑ دینی چاہئے۔ دیگر آسیان ممالک کو بھی ایسا ہی کرنا چاہئے”۔

انکا کہنا ہے کہ برما کو نوجوانوں کو کھیلوں میں آگے آنے کا موقع فراہم کرنا چاہئے۔

کن مونگ “ بیشتر نوجوان اسکول ٹیوشن میں مصروف ہیں اور ان کے پاس کسی کھیل میں حصہ لینے کا موقع نہیں۔ ہمارے بچوں کو کھیلنے کیلئے زیادہ وقت دیا جانا چاہئے”۔

انکے بقول کھیلوں کے شعبے میں پڑوسی ممالک کے برابر آنے کے لئے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔

کن مونگ “ 1969ءمیں جب برما میں گیمز کے دوران جمناسٹک کو شامل کیا گیا، تو ہم نے گولڈ میڈلز جیتے تھے۔ مگر اب جب یہ گیمز دوبارہ برما آئے ہیں، تو ہم نے اس کھیل کو ہی نکال دیا ہے، جس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ہمارے پاس مضبوط ٹیم نہیں”۔

کن مونگ ہتوے کے خیال میں برما کا ان گیمز میں سو گولڈ میڈلز جیتنے کا ہدف زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔

کن مونگ “ ان گیمز میں دو ایسے بڑے کھیل ہیں جن میں سو گولڈ میڈلز جیتے جاسکتے ہیں، یہ کھیل سوئمنگ اور ایتھلیٹک ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ ہمارے کتنے ایتھلیٹس ان دو بڑے کھیلوں کیلئے تیار ہیں۔ اس کے علاوہ گیمز میں متعدد ایسے کھیل بھی شامل ہیں جن میں برما ایک گولڈ میڈل بھی نہیں جیت پائے گا”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *