Blind Sisters نا بینا بہنیں

پاکستان میںہر دس میں سے ایک فرد بینائی سے محروم ہے جبکہ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بڑے شہروں کے علاوہ لوگوں کو آنکھوں کے علاج کی سہولیات بھی آسانی سے دستیاب نہیں ہیں۔دیکھا گیا ہے کہ بینائی سے محروم افراد خصوصاً خواتین اپنی روزمرہ زندگی میں پیش آنے والے مسائل کو ایک چیلنج کے طور پر قبول کرتی ہیں،گھریلو اُمورسے لے کر تعلیمی سر گرمیوں تک اور پیشہ ورانہ ذمے داریوں سے لے کر سوشل لائف تک بینائی سے محرومافراد دیگر حسیات کا استعمال بے حد خوبی سے کرتے ہیں۔کراچی یونیورسٹی میں زیر تعلیم دو بہنوںشمائلہ اور پارس سے جب ہم نے بات کی تو انھوں نے بتایا کہ بنیائی سے محرومی کے باوجود خدا تعالیٰ نے انھیں ہمت اور صلاحیتوں سے نوازا ہے،شمائلہ کا کہنا ہے کہ والدین کی تربیت اور اہل خانہ کا تعاون ہو تو معذوری کا شکار افراد کسی بھی قسم کے کامپلیکس کا شکار نہیں ہو سکتے ۔بے حد ہمت اور حوصلے سے اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے والی شمائلہ کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے روزمرہ امور کیلئے کسی سہارے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ۔جبکہ دوسری بہن پارس کا کہنا ہے کہ انھیں عموماً پبلک ٹرانسپورٹ سے سفر کرنے کے دوران اور روڈرکراس کرتے ہوئے انھیں خاصی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔۔
شمائلہ اور پارس کی والدہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی بیٹیوں کی تربیت اس طرح کی ہے کہ وہ بنا کسی سہارے کے اپنے روزمرہ اُمور انجام دے سکتی ہیںاسکے علاوہ اُنکی کوشش رہی ہے کہ انکی بچیاں عام لوگوں کی طرح لوگوں سے میل جول رکھیں اور خاندان اور دوستوں کی گیٹ ٹو گیدرز میں شریک ہوں،اور زندگی کی گہما گہمی سے لطف اندوز ہوں۔دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں نابینا افراد کیلئے سہولیات کی کمی ہے خاص طور پر تعلیم کے میدان میں بینائی سے محروم افراد کیلئے خصوصی ٹیکنالوجی کا استعمال ضروری ہے جیسے بریل ایگزامنیشن سسٹم جو تاحال ملک میں رائج نہیں ہے۔اسکے علاوہ دیہی علاقوں میں لوگوں کو آنکھوں کی بیماریوں سے بچاﺅ اور احتیاطی تدابیر کے بارے میں آگہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے خصوصاً نابینا خواتین کیلئے خواتین کاﺅنسلرز کی خدمات فراہم کی جانی چاہئیںاور تعلیمی اداروں اور سرکاری و پرائیویٹ دفاتر میں نابینا افراد کیلئے مختص کوٹے میں اضافا کیا جانا چاہئیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *