(Bhutanese film industry booming)بھوٹانی فلمی صنعت


بھوٹان ایک چھوٹا سا ملک ضرور ہے مگر وہاں کے حکمران اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ اپنے شہریوں کی خوشی کو بھی زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے قومی سطح پر خوشی کے پیمانے یا Happiness index کو ترقیاتی اقدامات میں شامل کیا۔اس انڈیکس کے چار ستونوں میں سے ایک بھوٹانی ثقافت اور روایات کی بحالی بھی ہے۔اس کے لئے فلمی صنعت کو ترقی دی جارہی ہے۔

Thimphuمیں واقع Lugar سینما بھوٹان کا قدیم ترین سینما ہے۔ آج یہاں بھوٹانی فلم Shob Machap دکھائی جارہی ہے۔ یہ ایک ایکشن کامیڈی فلم ہے۔ اس فلم کو دیکھنے کے لئے لوگوں کی کافی بڑی تعداد موجود ہے۔ Yangchen Zam ایک فلمی پرستار ہیں۔

 (female) Yangchen Zam “میرے خیال میں ہماری بیشتر بھوٹانی فلمیں محبت کے ارگرد گھومتی ہیں۔تاہم مجھے ایک فلم Mukdi Teeshing بہت پسند آئی ہے۔ اس فلم میں ایک ایسی لڑکی کی کہانی دکھائی گئی ہے، جسکے ساتھ کچھ غنڈے جنسی زیادتی کی کوشش کرتے ہیں، اس وقت ایک شخص لڑکی کی مدد کیلئے آگے آتا ہے۔ یعنی یہ فلم محبت اور لڑکی کی مدد کے ارگرد گھومتی ہے”۔

Yangchen Zam نے چند سال قبل ہی بھوٹانی فلمیں دیکھنا شروع کیں، درحقیقت بھوٹانی فلمی صنعت کے آغاز کو ہی کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔ پہلی بھوٹانی فلم 1990ءکی دہائی میں ریلیز ہوئی تھی۔Sherub Gyeltsen بھوٹان کی موشن پکچرز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل ہیں۔انکا ماننا ہے کہ بھوٹانی فلمی صنعت دیگر ممالک کے مقابلے میں منفرد ہے۔

 (male) Sherub Gyeltsen “تمام بھوٹانی فلموں کی شوٹنگ قانون کے دائرے اور فلمی صنعت کے طے کردہ ضوابط کے مطابق ہوتی ہے۔ اسے آپ احساس ذمہ داری بھی کہہ سکتے ہیں، یعنی یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم بھوٹانی فلمیں ملک کے اندر رہ کر تیار کریں اور ان میں اپنی روایات کو ہی دکھائیں۔ ہم ہرممکن حد تک اپنی زبان اور ثقافت کو فروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہماری فلموں کی کہانیاں بھی ہمارے لوک ہیروز کے اوپر مبنی ہوتی ہیں”۔

بھوٹان سو سال تک مکمل طور پر بادشاہی نظام کے زیرتحت رہا اور یہاں جمہوریت کا قیام 2008ءمیں عمل میں آیا۔ اس کے بعد یہاں Gross National Happiness Index یا جی این ایچ ترقی کے پیمانے کے طور پر اپنایا گیا۔ جی این ایچ میں صرف اقتصادی کامیابی پر ہی توجہ مرکوز نہیں کی گئی بلکہ دیگر عناصر جیسے ثقافتی اقدار، اچھی طرز حکمرانی، قدرتی ماحول اور مستحکم ترقی بھی اس کا حصہ ہیں۔Sherub Gyeltsen کا کہنا ہے کہ بھوٹانی فلمیں اس طرز زندگی کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہورہی ہیں۔

 (male) Sherub Gyeltsen “ہماری فلمیں اچھا کام کررہی ہیں اور شہریوں کی جانب سے ہمارے کام کو سراہا جارہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اب ہم نے غیرملکی فلموں پر پابندی عائد کردی ہے۔ 1980ءکی دہائی میں جب میں چھوٹا تھا، مجھے یاد ہے کہ ہم صرف ہالی وڈ یا بالی وڈ کی فلمیں ہی دیکھتے تھے۔ ہم انگریزی یا ہندی گانوں کو پسند کرتے تھے، مگر اب صورتحال یہ ہے کہ آپ چاہیںبھی تو ہندی اور انگریزی فلمیں بھوٹان میں نہیں دیکھ سکتے”۔

اداکارہ اور ہدایتکارہ Lhaki Dolma اپنی نئی فلم کے سیٹ میں مصروف ہیں، انھوں گلابی رنگ کا روایتی مگر انتہائی خوبصورت بھوٹانی لباس پہن رکھا ہے، جبکہ اس کے ساتھی اداکار بھی مقامی ملبوسات میں نظر آرہے ہیں۔ Lhaki Dolma کا کہنا ہے کہ بھوٹانی ثقافت اور روایات کو فروغ دیتے ہوئے نوجوانوں کی توجہ اپنی طرف مرکوز کرانا بہت مشکل کام ہے۔

 (female) Lhaki Dolma “صحیح بات تو یہ ہے کہ بھارت ہمارا بہت اچھا دوست اور پڑوسی ملک ہے۔ میں خود بالی وڈ کی فلمیں دیکھتی ہوئی بڑی ہوئی ہوں، یہی وجہ ہے کہ میں ہندی سمجھ لیتی ہوں اور اسے بول بھی سکتی ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے لئے اپنے ناظرین کو بھارتی فلموں کے سحر سے دور لے کر جانا بہت مشکل ہے، اب اگر ہمیں اپنی فلمی صنعت کو کامیاب بنانا ہے اور فلموں کو عوام میں مقبول کرنا ہے تو ہمیں اس میں خوبصورت اور اچھے گانوں کے ساتھ رومان اور ڈانس نمبرز کو شامل کرنا ہی پڑے گا۔ اس سے نوجوان بھوٹانی شائقین کو اپنی طرف کھینچا جاسکے گا۔ تاہم یہ کافی مشکل چیلنج ہے”۔

انکا کہنا ہے کہ وہ اپنی فلموں میں کم از کم ایک روایتی بھوٹانی رقص ضرور شامل کرتی ہیں۔ اپنی موجودہ فلم میں وہ سیگریٹ نوشی کرنے والی لڑکی کا کردار ادا کررہی ہیںِ تاہم یہ بھوٹانی سنسر بورڈ کی پالیسی کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ بھوٹان میں سیگریٹ نوشی پر انتہائی سخت پابندی ہے۔ بھوٹانی فلمی صنعت کو نہ صرف منفرد موضوعات کو اپنانے میں مشکلات کا سامنے ہے بلکہ اسے دیگر چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ Pema Rinzin فوٹوگرافی ڈائریکٹر ہیں۔

 (male) Pema Rinzin “یہاں متعدد فلمیں بنائی جارہی ہیں، مگر فلمی صنعت کو اچھے آلات دستیاب نہیں۔کمپیوٹر اور ڈیجیٹل دور میں جدید آلات کی کمی ہمارے لئے بہت بڑا دھچکا ہے۔ تاہم یہاں ایسے فلمساز بھی ہیں جو خطرہ مول لیتے ہیں، آہستہ آہستہ ٹیکنالوجی کا مسئلہ تو بہتر ہورہا ہے مگر جدید آلات کو چلانے والے باصلاحیت افراد کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے”۔

تاہم تمام تر مشکلات کے باوجود بھوٹانی فلمی صنعت ہر سال پندرہ فلمیں تیار کررہی ہے۔ یہ فلمیں ملک بھر میں پسند بھی کی جارہی ہیں، مگر اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ اب بھوٹانی سینماﺅں میں بالی وڈ اور ہالی وڈ فلموں کی نمائش کی اجازت نہیں۔

Saraswati Sundas بھوٹانی صحافی ہیں اور انہیں بھارتی اور انگریزی فلمیں دیکھنا پسند ہیں۔ تاہم سینماﺅں میں ان فلموں کو نہ دیکھ پانے پر وہ مایوس ہیں۔

 (female) Saraswati Sundas “ہمارے ملک میں حکومت ثقافت کو فروغ دینے کی کوشش کرنے کیلئے سینماﺅں میں صرف بھوٹانی فلموں کو ہی دکھانے کی اجازت دے رہی ہے۔ میرے خیال میں یہ حکومتی نقطہ نظر سے تو اچھی کوشش ہے، مگر جو لوگ غیرملکی فلمیں دیکھنے کے شائق ہیں، جن میں نوجوانوں کی اکثریت ہے، وہ سینماﺅں کی بجائے کمپیوٹرز یا ڈی وی ڈی کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ہم ہالی وڈ یا بالی وڈ فلمیں انٹرنیٹ سے ڈاﺅن لوڈ کرلیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھوٹان میں چوری شدہ فلموں کی مارکیٹ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے”۔

بھارت اور بھوٹان کی مشترکہ سرحد پر بالی وڈ فلموں کی سی ڈیز فروخت ہوتی ہیں، کاپی رائٹس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فروخت کی جانیوالی سی ڈیز کی صنعت بھی بھوٹانی فلمی صنعت کے ساتھ ساتھ تیزی سے ترقی کررہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *