جائیداد کے حصول کیلئے گھریلو و خاندانی جھگڑوں کے باعث نہ صرف خونی رشتے پامال ہوتے ہیںبلکہ کئی لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں،گھوٹکی کی رہائشی زبیدہ خان کی موت بھی ایسے ہی ایک واقعے کا شاخسانہ ہے۔چار بچوں کی ماں زبیدہ نے شوہر کے انتقال کے بعد آبائی زمین میں اپنا حصہ لینا چاہا توسگے بھائیوں نے جائیداد کی خاطر اُسکی جان لے لی،زبیدہ کے والد نے 32ایکڑ زمین زبیدہ کے نام کی تھی جسے اُس کے بھائیوں نے ہتھیا لیااور ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا،جس پر زبیدہ نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا،عدالتی حکم پر زبیدہ کی حفاظت کیلئے دو پولیس اہلکار تعینات کئے گئے لیکن جائیداد کا حصول خون کے رشتوں پر حاوی آگیا اور محافظو ں کی موجودگی میں سگے بھائیوں نے زبیدہ خان کی جان لے لی۔
زبیدہ کی بیٹی کا کہنا ہے کہ اُسکی ماں کے دائیں اور بائیں جانب پولیس اہلکار کھڑے تھے اُن کے سامنے ہی اُسکے سگے مامو¿ں نے اُسکی ماںکو قتل کر دیا:
زبیدہ کی بیٹی کا کہنا ہے کہ اسکی ماں کو باقاعدہ منصوبہ بندی سے قتل کیا گیاجبکہ زمین میں حصہ ان کا شرعی حق ہے،زبیدہ خان کی بیٹی کو انصاف کی کوئی امید نہیں اسکا ماننا ہے کہ اسکے سگے ماموں مک مکا کروانے کے بعد جلد ہی رہا ہو کر آ جائیں گے ۔پولیس کی موجودگی میں زبیدہ کا قتل کیسے ہوا ؟کیا محافظ اپنے فرائض سے غافل تھے یا پھر حسب معمول اُنکی مٹھی گرم کی گئی تھی،وجہ کچھ بھی ہو زبیدہ کے بچے باپ کے بعد اب ماں سے بھی محروم ہو چکے ہیںاس حوالے سے زبیدہ کے بچوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ماں کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے:
قتل کے اس واقعے کی تفتیش کرنے والے ڈی ایس پی ایاز میمن کا کہناہے کہ یہ انکا خاندانی جھگرا تھا اور اُس وقت وہاں پولیس اہلکارموجود نہیں تھے:
عدالتی حکم پر زبیدہ کی حفاظت کیلئے پولیس اہلکاروں کی تعیناتی اور پھر اُنکی موجودگی میں زبیدہ کا قتل ایک سوالیہ نشان ہے ایسے میں زبیدہ کے رشتے دار خصوصاً اُسکے بچے اگر مشتعل ہو کر قانون ہاتھ میں لینے کی بات کرتے ہیں تو کچھ ایسے تعجب کی بات بھی نہیں، ملک بھر میں لوگوں کی جان اور مال کچھ بھی محفوظ نہیں ایسے میں عوام پولیس اور عدلیہ پر اعتبار کریں تو کیسے کریں؟