پاکستان میں امریکی گستاخانہ فلم کے خلاف شدید احتجاج جاری ہے، جبکہ وفاقی وزیر ریلوے نے بھی ملعون فلمساز کے قتل پر ایک لاکھ ڈالر بطور انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے اس اعلان کی مذمت کی گئی ہے تاہم آزاد خیال پاکستانی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت پرتشدد احتجاج کو روکنے کیلئے سنجیدہ نہیں۔
کراچی میں امریکی قونصل خانے کے قریب لاکھوں افراد ریلی نکال رہے ہیں، ریلی کے دوران چند نوجوان اسلام زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے امریکی پرچم جلا رہے ہیں۔ چودہ سالہ محمد اسد ہاتھ میں کھلونا رائفل لئے ریلی میں شریک ہے۔
محمد اسد(male) “میں محبوب پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ کی توہین پر مبنی فلم کے خلاف احتجاج کررہا ہوں۔یہ امریکہ کی مسلمانوں کے خلاف سازش ہے، اس فلم کو تیار کرنے والوں کے سر قلم کئے جانے چاہئے”۔
بعد ازاں مظاہرین نے قریبی بینکوں اور اے ٹی ایمز کو لوٹ لیا، جبکہ ایک گرجا گھر اور تین سینماگھروں کو جلا دیا۔
پولیس نے پرتشدد احتجاج کو روکنے کیلئے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور لاکھوں افراد پر سیدھی فائرنگ کردی، جس سے کم از کم بیس افراد ہلاک جبکہ سینکڑوں زخمی ہوگئے۔ اقبال حیدر سابق وفاقی وزیر قانون اور secular Pakistan نامی فورم کے سربراہ ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ اس تشدد کی ذمہ دار حکومت ہے۔
اقبال حیدر(male) “لوگوں کی ہلاکتیں، جلاﺅ گھیراﺅ اور لوٹ مار حکومت کی جانب سے دہشتگردوں اور انتہاپسندوں کو بڑھاوا دینے کی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ جب اسلام آباد میں سفارتی انکلیو کے باہر پولیس اور رینجرز وغیرہ موجود نہیں ہوگی، تو قدرتی طور پر انتہا پسند زیادہ پرتشدد، جارحانہ اور دہشتگردانہ روئیے کا مظاہرہ کریں گے”۔
حکومت پاکستان نے گستاخانہ فلم کے خلاف پرامن احتجاج کیلئے یوم عشق رسول کے نام سے ایک دن منانے اور قومی تعطیل کا اعلان کیا تھا۔
حکومت نے گستاخانہ فلم کے ٹریلر کے باعث ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یوٹیوب کو بلاک کردیا ہے، جبکہ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کو اس طرح کی نفرت انگیز فلموں کو روکنا چاہئے۔
راجہ(male) “اقوام متحدہ کی مدد سے ہم اس مسئلے کا ایسا حل ڈھونڈنا چاہتے ہیں، جسے بین الاقوامی سطح پر حمایت مل سکے۔ تاکہ مستقبل میں حضور پاک کی شان میں اس طرح کی گستاخیوں کو روکا جاسکے”۔
اس کے بعد وفاقی وزیر ریلوے غلام احمد بلور نے گستاخانہ فلم کے بنانے والے شخص کو قتل کرنے پر ایک لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کردیا۔وزیراعظم کے ترجمان نے فوری طور پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ اعلان حکومتی پالیسی نہیں، تاہم اقبال حیدر کے خیال میں وزیراعظم پرتشدد ردعمل روکنے میں زیادہ سنجیدہ نہیں۔
اقبال حیدر(male) “پہلی بات تو یہ ہے کہ اس طرح کے اعلان کی کوئی ضرورت نہیں تھی، ملک میں جلاﺅ گھیراﺅ اور قتل و غارت حکومت کی جانب سے شرپسند عناصر کو ہر طرح کی آزادی فراہم کرنے کا نتیجہ ہے”۔
امریکی حکومت نے پرتشدد احتجاج کے بعد پاکستانی ٹی وی چینیلز پر ستر ہزار ڈالرز ادا کرکے ایک اشتہار چلایا، جس میں باراک اوبامہ اور ہیلیری کلنٹن گستاخانہ فلم کے بارے میں بات کررہے ہیں۔
ہیلیری(female) “مجھے اس بات کو واضح کرنے دیں کہ امریکی حکومت کا اس وڈیو سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم اس فلم کے مواد اور پیغام کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں”۔
تاہم انکا پیغام کس حد تک موثر ثابت ہوسکا ہے یہ اب تک واضح نہیں ہوسکا۔
گلیوں میں نوجوان ہاتھوں میں کھلونا گنیں اٹھائے گستاخانہ فلم کے خلاف بدستور احتجاج میں مصروف ہیں۔