افغانستان کی مقامی صنعتوں کو سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔ جوتے بنانے کی صنعت بھی بہت سی مشکلات سے دوچار ہے۔چین سے سستی درآمدات اور خام مال پر زیادہ ٹیکسز ان مشکلات میں شامل ہیں۔
دس افراد مقامی ٹارگٹ شو فیکٹری میں جوتے بنانے میں مصروف ہیں۔68 سالہ محمد قاسم بھی ان میں سے ایک ہیں۔وہ پچاس برس سے یہ کام کررہے ہیں۔
محمد قاسم(male)“میں نے افغانستان بھر میں مختلف کارخانوں میں کام کیا ہے، یہ بات واضح ہے کہ افغان جوتے معیار کے لحاظ سے اچھے ہوتے ہیں۔ چین سے آنے والے جوتوں کے مقابلے میں ہمارے جوتوں میں استعمال ہونے والے سامان کا معیار بہت اچھا ہوتا ہے”۔
افغانستان شومیکر ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں ایک سو چالیس کارخانے موجود ہیں، جن میں سے بیشتر دارالحکومت کابل میں ہیں۔ ہر برس ان کارخانوں سے تین لاکھ جوتے تیار ہوتے ہیں، جبکہ پندرہ سو افراد کا روزگار اس صنعت سے وابستہ ہے۔تاہم جوتوں کی تیاری کیلئے لیدر درآمد کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی لاگت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اسی طرح رواں برس خام مال پر کسٹم ڈیوٹی 10 فیصد بڑھا دی گئی۔ محمد آصف جامی شومیکر ایسوسی ایشن کے صدر ہیں۔
آصف(male) “میں نے کارخانوں کے مالکان اور ملازمین سے بات کی ہے، اکثر موجودہ صورتحال پر شکایات کرتے نظر آتے ہیں۔ ہم دیگر ممالک جیسے پاکستان اور ایران سے سامان درآمد کرتے ہیں، مگر اس کی وجہ سے جوتے مزید مہنگے ہوجاتے ہیں اور لوگ انہیں خرید نہیں پاتے۔ ہمیں اس وقت چین سے آنے والے سستے جوتوں سے سخت مسابقت کا سامنا ہے”۔
چینی ساختہ جوتے افغانستان کی پچاس فیصد سے زائد مارکیٹ پر قبضہ جما چکے ہین۔ Mandawee Market کابل میں جوتوں کی خریداری کی مارکیٹ ہے، عثمان عظیمی یہاں کے ایک دکاندار ہیں، ان کے مطابق مقامی جوتوں کی فروخت کی شرح بہت زیادہ گر گئی ہے۔
عثمان(male) “افغان کارخانوں میں معیاری لیدر کے ساتھ اچھے جوتے بنائے جاتے ہیں، مگر اب صارفین نئے انداز کو زیادہ ترجیح دینے لگے ہیں۔ چینی جوتے اگرچہ پلاسٹک سے تیار ہوتے ہیں مگر وہ زیادہ اسٹائلش ہوتے ہیں۔ افغان جوتے لیدر سے تیار ہوتے ہیں اور زیادہ عرصے تک چلتے ہیں، مگر وہ چینی جوتوں کے مقابلے میں کافی مہنگے ہیں۔ حکومت اس معاملے پر توجہ دے کر مقامی جوتے بنانے والوں کو سبسڈیز فراہم کرے”۔
جوتے بنانے والی صنعت کی مالیت 73 لاکھ ڈالر ہے جو کہ قالین بانی کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ چند برس قبل جوتے بنانے والی صنعت کو اس وقت فائدہ ہوا جب نئی افغان نیشنل سیکیورٹی فورس کا قیام عمل میں آیا، جبکہ 2010ءمیں نیٹو ممالک نے وہاں مقیم اپنے فوجیوں کیلئے مقامی صنعت سے جوتے خریدنے پر ترجیح دی۔تاہم حالیہ دنوں میں فوج کیلئے خریداری کا سلسلہ نیٹو سے افغان حکومت کی وزارت دفاع و داخلہ کو منتقل ہوگیا ہے، اور ان دونوں وزارتوں کا ذہن مختلف ہے۔ اب فوج کیلئے سستے جوتے چین اور پاکستان سے خریدے جارہے ہیں۔افغان ساختہ جوتوں کی قیمت 80 ڈالر کے قریب ہے، جبکہ چین سے آنے والے جوتوں کی لاگت صرف 22 ڈالر ہے۔محمد قاسم کا کہنا ہے کہ حکومتی معاونت کے بغیر یہ صنعت اپنی موت آپ مرجائے گی۔
قاسم(male) “افغانستان میں پیشہ ور جوتے بنانے والوں کی تعداد کافی ہے، مگر حکومت اس صنعت پر کوئی توجہ نہیں دے رہی، ہر گزرتے دن کے ساتھ ہمارے کارخانوں کو ملنے والے آرڈرز کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے”۔
حمید اللہ فاروقی کابل یونیورسٹی میں معاشیات پڑھاتے ہیں۔
حمید اللہ(male)“ہمارے کارخانوں میں پرانی مشینوں پر کام ہورہا ہے، جبکہ درآمدی جوتے جدید مشینوں اور ٹیکنالوجی سے تیار ہورہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افغان مصنوعات درآمدی اشیاءکا مقابلہ نہیں کرسکتیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہمارے ملک میں آزاد مارکیٹ کا نظام معیشت موجود ہے، مگر ہمارے آئین کے مطابق حکومت مقامی صنعتوں کی حالت بہتر بنانے کی ذمہ دار ہے۔ حکومت کو افغان صنعتوں کے مسائل کا احساس کرتے ہوئے ان سے تعاون کرنا چاہئے”۔
Afghanistan Investment Supporting Agency ملکی صنعتوں کو ترقی دینے کی خواہشمند ہے۔ Wafi Allah Eftikhar اس ایجنسی کے سربراہ ہیں۔
(male) Wafi Allah Eftikhar “جوتوں کی صنعت ہمارے ملک کیلئے انتہائی اہم ہے، ہماری ایجنسی اس کے ساتھ تعاون کی کوشش کرتے ہوئے اسے خودانحصار بنانا چاہتی ہے۔ ہم مختلف اداروں سے بات چیت کررہے ہیں، خصوصاً افغان فوجی اداروں سے، جہاں افغان ساختہ جوتے استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ انشاءاللہ بہت جلد جوتوں کی صنعت کیلئے مثبت نتائج سامنے آئیں گے”۔
اب واپس ٹارگٹ شو فیکٹر چلتے ہیں جہاں Fareed Ahmadi نامی کاریگر اپنے جذبات کا اظہار کررہا ہے۔
(male) Fareed Ahmadi “ہمیں اب تک حکومت کی جانب سے کسی قسم کی توجہ نہیں ملی۔ ہمیں توقع ہے کہ حکومت مقامی صنعتوں جیسی ہماری مدد کرے گی۔ اس سے ہماری معیشت بہتر ہوگی”۔