اولمپک کی تاریخ میں پہلی بار تمام ممالک نے کم از کم ایک خاتون کو لندن گیمز میں شرکت کیلئے بھیجا، ان میں افغانستان کی رنر تہمینہ کوہستانی بھی شامل ہیں۔ جو کہ افغان دستے میں شامل واحد خاتون ایتھلیٹ بھی ہیں۔
لندن اولمپکس کا سفر تہمینہ کوہستانی کیلئے آسان نہیں تھا،بیشتر اولمپک ایتھلیٹس کو ان کے آبائی ممالک میں مضبوط حمایت حاصل ہوتی ہے، تاہم تہمینہ کوہستانی کو شدید ترین مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
تہمینہ(female) “متعدد افراد کا کہنا تھا کہ یہ کھیل مسلم خواتین کیلئے ٹھیک نہیں۔ ایک دن جب میں اسٹیڈیم میں ٹریننگ کررہی تھی تو باہر سو یا دو سو افراد میرے خلاف نعرے لگارہے تھے۔ ایسا کئی بار ہوا اور انھوں نے مجھے ٹھیک سے ٹریننگ کرنے نہیں دی”۔
ان رکاوٹوں اور مشکلات کا سامنا کرنے والی تہمینہ نے ایک بار ہار ماننے کا بھی سوچا۔
تہمینہ(female) “ایک دن میرے ساتھ تربیت کرنے والے ایک لڑکے نے مجھے تنگ کرنے کیلئے میرے ساتھ بھاگنا شروع کردیا۔ اس موقع پر میرے کوچ کا اس کے ساتھ جسمانی تصادم ہوا، اس موقع پر میں نے ہمیشہ کیلئے یہ کھیل چھوڑ دینا کا فیصلہ کیا، مگر جلد ہی اسے تبدیل کردیا”۔
Andeisha Farid، Afghanistan Child Education and Care Organisation، کی ڈائریکٹر ہیں۔انکا کہنا ہے کہ تمام تر مشکلات کے باوجود تہمینہ کا وجود دیگر خواتین کیلئے متاثر کن ہے۔
(female) Andeisha Farid “تہمینہ پہلی افغان خاتون ہیں جو اولمپکس میں جارہی ہیں، اور وہ افغانستان میں خواتین کے وقار بڑھانے کیلئے اہم کردار ادا کررہی ہے۔ اسے متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے، افغانستان میں خواتین کیلئے زندگی آسان نہیں، یہی وجہ ہے کہ اولمپکس میں جانے کیلئے تہمینہ کو متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، مگر اس نے افغانستان کا نام بلند کرنے کیلئے ان چیلنجز کا سامنا کیا”۔
تہمینہ افغانستان میں خواتین کی حالت و زار تبدیل کرنے کیلئے پرعزم ہیں، انہیں تمغے کی تو امید نہیں مگر لندن اولمپکس میں ان کی موجودگی بھی مستقبل میں افغان خواتین پر مثبت اثر ڈالے گی۔
تہمینہ(female) “میں لندن ان افغان خواتین کیلئے جارہی ہوں جو کبھی اپنے گھروں سے باہر نہیں نکلتیں۔باہر نکلنے پر انہیں خاندانی اور سماجی مسائل کا سامنا ہوتا ہے، جبکہ انہیں کوئی روشن امید بھی نظر نہیں آتی۔ میں ان خواتین کیلئے ایک نئی مثال قائم کرکے خوش ہوں، مجھے معلوم ہے کہ افتتاحی تقریب اور ریس کے دوران متعدد افغان لڑکیاں اور خواتین مجھے دیکھیں گیں، اور ان کے ذہن میں یہ خیال آئے گا کہ ایک دن وہ بھی میری جگہ اس طرح اپنے ملک کا نام روشن کرسکتی ہیں۔ میں افغان خواتین کیلئے ایک نیا راستہ کھولنے جارہی ہوں”۔