افغان صدر حامد کرزئی نے ملکی فوجداری قوانین میں ان مجوزہ ترامیم کو بلاک کردیا ہے، جن کے تحت رشتے داروں کو خواتین پر تشدد کی گواہی دینے سے روک دیا گیا تھا، صدارتی فیصلے کو انسانی حقوق کی تنظیموں نے کافی سراہا ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
گزشتہ ماہ افغان پارلیمنٹ نے ملکی فوجداری قوانین میں ایک چھوٹی مگر اثرات کے لحاظ سے بہت بڑی تبدیلی کی، یعنی رشتے داروں کو بیوی پر تشدد کے ملزم فرد کے خلاف گواہی دینے سے روک دیا گیا، افغانستان میں خواتین پر تشدد کے بیشتر واقعات خاندان کے اندر ہی پیش آتے ہیں، اور نئے قانون سے متاثرہ خواتین کی زبانیں ہی بند کردی گئیں، یہ مسودہ قانون وزارت انصاف کے محکمہ فوجداری نے تیار کیا، اس ادارے کے سربراہ اشرف عظیمی کا دعویٰ ہے کہ اس قانون کی تیاری کا مقصد شفاف ٹرائل کو یقینی بنانا ہے۔
ارشد عظیمی”اگر عدالت متاثرہ خاتون کے رشتے داروں کو گواہی دینے کیلئے کہے، تو اس میں خطرہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے خاندان کی حمایت میں جج کے سامنے جھوٹ نہ بول دیں، واضح رہے کہ گواہ کسی کیس کی تفتیش کا واحد ذریعہ نہیں ہوتے”۔
متعدد حلقوں نے اس قانون کے بعد خدشہ ظاہر کیا تھا کہ گھریلو تشدد اور جنسی زیادتی کرنے والے ملزمان کو اس سے فائدہ ہوگا، جبکہ والد اور بھائیوں کی جانب سے عزت کے نام پر قتل کے ملزمان کو سزا دلانا تو لگ بھگ ناممکن ہی ہوکر رہ جائے گا۔ افغان پارلیمنٹ کی خاتون رکن مسعودہ کروخی کا کہنا ہے کہ وہ قانون کی منظوری نہیں چاہتی تھی تاہم اکثریت اس کی حامی تھی۔
مسعودہ”جب ہم نے قانون منظور کیا تو پارلیمنٹ کے دو سو انچاس249 میں خواتین کی تعداد صرف انہترتھی، ہمارے پاس اکثریت نہیں تھی، مرد اراکین کے دلائل مضبوط تھے اور وہ شرعی قوانین کے بارے میں ہم سے زیادہ جانتے ہیں”۔
مگر صدر حامد کرزئی کے دستخط کے بعد ہی یہ بل قانون بن سکتا تھا، سینکڑوں خواتین اس بل کیخلاف باہر نکل آئیں اور صدر سے دستخط نہ کرنیکا مطالبہ کیا۔ حسینہ صافی افغان ویمن نیٹ ورک کی سربراہ ہیں۔
حسینہ”ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ ہم نئے فوجداری قانون اور خواتین پر تشدد کے خلاف ہیں، ہم اس تشدد میں کمی کیلئے ہر قسم کی عالمی کوشش کی حمایت کریں گے، خصوصاً افغانستان میں جہاں خواتین کو متعدد مشکلات کا سامنا ہے”۔
اور صدر کرزئی نے لگتا ہے کہ ان کی بات سن لی، اور انھوں نے اس قانون پر نظرثانی کی ہدایت کی ہے، عالمی اداروں نے صدارتی مداخلت کی حمایت کی ہے۔ پروین رحیمی افغان ہیومین رائٹس کمیشن سے تعلق رکھتی ہیں۔
پروین”ہم صدر کرزئی کے فیصلے کو سراہتے ہیں، ہمارے خیال میں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ صدر افغانستان میں حقوق نسواں کے حامی ہیں”۔