Afghan minorities demand their own schools افغان اقلیتی برادریوں کا اپنے اسکولوں کا مطالبہ

افغان صوبے ننگرہار میں دوماہ قبل ایسا خصوصی اسکول قائم کیا گیا ہے جو صرف ہندو اور سکھ طالبعلموں کیلئے مخصوص ہے۔یہ ہندو اور سکھ بچوں کیلئے مخصوص افغانستان کا تیسرا اسکول ہے۔

جلال آباد شہر میں واقع ہندو مندر کے اندر ہندو اور سکھ بچوں کیلئے اسکول قائم کیا گیا ہے، مندر کی دوسری منزل پر قائم کئے گئے اس پرائمری اسکول میں چھ کمرے ہیں، مقامی حکومت کے تعاون سے چلنے والے اس اسکول میں تعلیم مفت ہے۔

نو سالہ Ajmetko پانچویں کلاس کی طالبہ ہے، وہ اس سے پہلے ایک دوسرے اسکول میں زیرتعلیم تھی تاہم وہاں اسے نفرت انگیز سلوک کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

 (female) Ajmetko )”جب میں دوسرے اسکول میں تھی تو مجھے چند مسائل کا سامنا تھا، میرے ساتھ پڑھنے والے بچے مجھے تنگ کرتے تھے، وہ کہتے تھے کہ تم سکھ ہو اور تم ہماری جیسی نہیں، وہ میرے ساتھ دوستی کرنا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ اس اسکول میں آکر میں بہت خوش ہوں”۔

افغانستان میں ہزاروں ہندو اور سکھ طالبعلموں کیلئے صرف تین اسکول ہیں، طالبان عہد میں ان بچوں کو مخصوص زرد بیج پہنایا جاتا تھا، جس کا مقصد انہیں پولیس سے بچانا قرار دیا گیا تھا۔اب طالبان حکومت کو ختم ہوئے دس سال بیت گئے مگر ان بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک ختم نہیں ہوسکا ہے۔ ہندو اور سکھ بچوں کو اسکولوں میں توہین آمیز سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ Eqbal Singh جلال آباد کے مندر میں قائم کئے گئے اسکول کے پرنسپل ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ اس طرح کے اسکولوں کے قیام سے بچوں کو امتیازی سلوک سے نجات ملے گی۔

 (male) Eqbal Singh )”یہ بہت اچھی صورتحال ہے، ہمارے بچے اب خوشی اور جوش سے اسکول جاسکتے ہیں، اب نہیں کسی امتیازی سلوک کا سامنا نہیں ہوگا اور ان کے والدین بھی خوش ہیں کہ ان کے بچے اب توہین آمیز سلوک کا نشانہ نہیں بنےںگے۔ اس سے قبل بیشتر ہندو و سکھ بچے اسکول جانا پسند نہیں کرتے تھے، اور جو جاتے تھے وہ دیگر بچوں کے سلوک کے باعث ٹھیک طرح سے پڑھ نہیں پاتے تھے”۔

بین الاقوامی امدادی ادارے سیو دی چلڈرن کے افغانستان میں سربراہ Yusuf Husanzay کا کہنا ہے کہ ہم ہندو برادری کی درخواست پر ان اسکولوں کے قیام میں مدد دے رہے ہیں۔

 (male) Yusuf Husanzay )”ہر بچے کو پڑھنے کا حق حاصل ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم نے افغان ہندو اسکول قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہم ان بچوں کو درپیش تعلیمی مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ بیشتر بچے توہین آمیز سلوک کے باعث عام اسکولوں میں جانا پسند نہیں کرتے، مگر اس وقت ہم صرف پرائمری اسکول قائم کرنے میں ہی مدد کرسکتے ہیں”۔

افغان سینیٹ کے ہندو رکن Annar Kalii Honeryar تعلیمی اداروں میں اقلیتی بچوں کو درپیش مسئلے کا اعتراف کرتی ہیں، انکا کہنا ہے کہ حکومت اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

 (female) Annar Kalii Honeryar )”حال ہی میں افغان حکومت نے اس مسئلے کے حل کیلئے صوبہ غزنی میں ایک ہندو اسکول قائم کیا ہے، جبکہ اسی طرح کے اسکول دیگر صوبوں میں قائم کرنے کی بھی کوشش کی جارہی ہے، میں چاہتی ہوں کہ ہندو بچوں کو پرائمری کے بعد بھی تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے میں مدد فراہم کی جائے”۔

غزنی میں یہ خصوصی اسکول رواں سال کے شروع میں قائم کیا گیا تھا، جو کہ افغانستان میں ہندو و سکھ طالبعلموں کیلئے مخصوص پہلا اسکول تھا، وہاں اب درجنوں بچے ہنسی خوشی تعلیم حاصل کررہے ہیں، مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہ اسکول صرف پرائمری تک ہی تعلیم دے رہے ہیں، اس لئے ان بچوں کو آگے پڑھنے کیلئے عام اسکولوں کا ہی رخ کرنا پڑتا ہے۔ جہاں انہیں پھر امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔نوسالہ Preme چوتھی کلاس کا طالبعلم ہے۔

 (male) Preme )”میں ڈاکٹر، انجنئیر یا کسی اور شعبے میں جاکر اپنے ملک کی خدمت کرنا چاہتا ہوں، مگر یہ اس صورت میں کیسے ممکن ہوگا جب میں صرف چھٹی جماعت تک ہی تعلیم حاصل کرسکوں گا؟ ہمیں مزید پڑھنے کیلئے ہائی اسکولوں اور اس کے بعد یونیورسٹیوں کا رخ کرنا ہوگا، میں چاہتا ہوں کہ حکومت ہمارے لئے ایسا ہی خصوصی ہائی اسکول بھی قائم کرے”۔

تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ اسکے پاس اقلیتی گروپس کے لئے خصوصی ہائی اسکول تعمیر کرنے کیلئے فنڈز نہیں۔ امان اللہ ایمان وزارت تعلیم کے ترجمان ہیں۔

امان اللہ(male) “ہر وہ شخص جس کے پاس افغان شناختی کارڈ ہے وہ افغان شہری ہے۔ یہ بات ہمارے آئین میں درج ہے، یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ تمام افغان شہریوں کو تعلیم فراہم کریں، مگر اس وقت ہمارا بجٹ اور سہولیات محدود ہیں،یہی وجہ ہے کہ ہمیں خصوصی ہائی اسکول قائم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔لیکن ہم اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے کوشاں ہیں، اس

وقت میں یہی درخواست کرسکتاہوں کہ اقلیتی برادریوں کے بچوںکو ہراساں نہ کیا جا ئے “۔

پندرہ سالہ سنجے کمار ہائی اسکول کا طالبعلم ہے، وہ کابل کے ایک اسکول میں زیرتعلیم ہے اور اس کے بیشتر دوست مسلمان ہیں۔

سنجے کمار(male) “میرے اساتذہ بہت اچھے ہیں، مگر میرے چند ساتھی کئی بار مجھے ہراساں کرتے ہیں۔ وہ مجھے ہندو ہونے کے باعث ہراساں کرتے ہیں، میں انہیں کہتا ہوں کہ ایسا مت کروہم سب بھائی ہیں”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *