Afghan Dancing Boys ) افغان رقاص لڑکے

 

(Afghan Dancing Boys ) افغان رقاص لڑکے

 

خواتین کے کپڑے پہنے مرد رقاص افغانستان میں ہونیوالی تقریبات کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ افغانستان میں سرکاری طور پر اس چیز پر پابندی ہے مگر طالبان دور کے بعد اس رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔

ہم لوگ اس وقت شمالی افغان صوبے بلخ میں ہونیوالی ایک شادی کی تقریب میں موجود ہے۔ یہاں موجود تمام مہمان مرد ہیں، جو ایک نوجوان لڑکے کے رقص کو دیکھتے ہوئے تالیاں بجارہے ہیں۔پندرہ یا سولہ سال کے اس نوجوان نے لڑکیوں کا لباس پہن رکھا ہے۔31 سالہ منصور مہمانوں میں شامل ہیں۔

منصور(male) “رقاص لڑکوں کی تقریبات میں شمولیت کی روایات ہمارے بزرگوں کے دور سے چلی آرہی ہے۔ ہم اسے اپنی رسوم کا حصہ سمجھتے ہیں۔ مجھے یہ روایت بہت پسند ہے اس سے ہمیں لطف حاصل ہوتا ہے۔ آپ کو معلوم ہی ہوگا کہ کچھ لوگ کاروبار پسند کرتے ہیں، جبکہ بہت سے افراد دیگر چیزوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ یعنی ہر شخص کی دلچسپی مختلف ہوتی ہے، مجھے ان لڑکوں کے رقص کو دیکھنا پسند ہے”۔

رقص کرنے والے یہ نوجوان صرف شمالی افغانستان ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں تقاریب میں نظرآتے ہیں۔ اٹھارہ سالہ فہیم بھی ایسا ہی نوجوان ہے جو مغربی افغانستان کے مختلف علاقوں میں رقص کا کام کرتا ہے۔فہیم کو ایک مقامی جنگجو سردار نے خرید رکھا ہے اور وہ اس کے اشاروں پر ناچنے پر مجبور ہے۔

فہیم کا خاندان صوبہ ہرات کے ضلع Shindand میں مقیم ہے، اور وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑا ہے۔ تاہم فہیم کو اپنا زیادہ وقت جنگجو سردار کے گھر میں گزارنا پڑتا ہے۔

فہیم(male) “میرے والد ایک بڑھئی تھے، اب بوڑھاپے کے باعث وہ کام کرنے سے قاصر ہیں اور اب خاندان کی کفالت میری ذمہ داری بن چکی ہے۔ میں بارہ سال کی عمر سے کام کررہا ہوں، پہلے میں ایک دکان میں ملازم تھا مگر ایک جنگجو سردار مجید خان اور دیگر چند لوگوں کے مشورے پر میں نے رقص کا پیشہ اپنا لیا تاکہ زیادہ رقم کماسکوں۔ یہ ایک آسان کام ہے، میں مجید خان کے ہمراہ تقاریب میں جاتا ہوں، اور جو وہ کہتا ہے میں کرتا ہوں، مجید نے مجھ پر انتہائی مظالم بھی ڈھائے ہیں جن میں جنسی زیادتی وغیرہ بھی شامل ہیں، جسکی تفصیلات سے میں آگاہ نہیں کرسکتا”۔

وہ مزید بتارہا ہے۔

فہیم(male) “مجھے جنگجو سردار کا غلام سمجھا جاتا ہے اور وہ جیسے چاہتا ہے میرا استعمال کرتا ہے۔ وہ مجھے مختلف تقاریب میں رقص کراتا ہے، کئی بار وہ مجھے خواتین کے ملبوسات پہنا کر رقص کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس کے بدلے میں وہ مجھے رقم اور دیگر سامان جیسے ٹی وی یا ڈی وی ڈی وغیرہ دیتا ہے”۔

واپس بلخ میں ہونیوالی تقریب میں چلتے ہیں، یہاں جو گیت چل رہا ہے وہ لڑکوں کے رقص کیلئے ہی مخصوص سمجھا جاتا ہے۔ اس کی دھن آہستگی سے شروع ہوتی ہے اور پھر تیز سے تیز تر ہوتی چلی جاتی ہے۔ ہم نے منصور سے اس گیت کے معنی پوچھے۔

منصور(male) “اس میں کہا گیا ہے کہ خدا ہمیں اور ہمارے لڑکوں کو بچائے۔ جب اس گیت کی موسیقی شروع ہوتی ہے تو لڑکے رقص شروع کردیتے ہیں اور آپ ان کو دیکھ کر ایسا محسوس کریں گے کہ ان کے قدم ہمارے دلوں میں پڑ رہے ہیں”۔

متعدد حلقے اس رجحان کو اسلامی قوانین کے خلاف قرار دیتے ہیں، تاہم منصور کو اس میں کچھ خرابی نظر نہیں آتی۔

منصور(male) “نہیں یہ کوئی گناہ نہیں، میں رقص دیکھنا اور ان لڑکوں کے ساتھ وقت گزارنا پسند کرتا ہوں۔ کئی بار پولیس اہلکار بھی ہماری تقاریب میں شرکت کرتے ہیں۔ یہ رقاص لڑکے ہمارا احترام کرتے ہیں، جس کے بدلے میں ہم انکی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ ہم انہیں رقم دیتے ہیں، گاڑیاں اور دیگر اشیائ_ دیتے ہیں”

ان رقاص لڑکوں کی حقیقی تعداد تو معلوم نہیں تاہم حکومت اس مسئلے سے بخوبی آگاہ ہے کہ غربت کے باعث نوجوانوں کی بڑی تعداد اس کام پر مجبور ہورہی ہے۔بلال صدیقی افغانستان ہیومین رائٹس کمیشن کے عہدیدار ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحا ن افغان نوجوانوں اور بچوں کیلئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے، کیونکہ تفریح کے نام پر انکا استحصال کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افغان عوام میں اس حوالے سے شعور نہ ہونے کے برابر ہے، تا ہم حکومت اس مسئلے پر عوامی شعور اجاگر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔تاہم حکومتی کوششیں ناکافی ہیں کیونکہ خود حکومتی عہدیدار اس کام میں ملوث ہیں۔ فہیم اب یہ کام چھوڑنے کا خواہشمند ہے۔

فہیم(male) “اب جب بھی میں گھر آتا ہوں تو میرے رشتے دار، مقامی دکاندار اور پڑوسی مجھے انتہائی نفرت سے دیکھتے ہیں۔ کئی بار میں سوچتا ہوں کہ آخر میں یہ کام کیوں کررہا ہوں؟ اب میری عمر اٹھارہ سال سے زائد ہوچکی ہے اور مجھے شعور آچکا ہے کہ یہ کام اچھا نہیں۔میں اب یہ کام نہیں کرنا چاہتا اور دیگر لڑکوں کو بھی یہی مشورہ دینا چاہتا ہوں۔ میں تمام بڑے افراد سے درخواست کرتا ہوں کہ ہم نوجوانوں کو اس کام کیلئے استعمال نہ کریں”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *