(A taste of freedom in Burma) برما میں آزادی کا احساس


برما میں جمہوری عمل خوش اسلوبی سے آگے بڑھ رہا ہے

ہزاروں افراد برما کے دارالحکومت رنگون میں حزب اختلاف کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی یا این ایل ڈی کے نئے دفتر کے باہر موجود ہیں، جیسے ہی وہاں ایک سفید گاڑی پہنچی تو ہجوم میں جوش کی لہر دوڑ گئی۔

اس گاڑی میں آنگ سان سوچی تھیں، جنھیں برما میں جمہوریت کی علامت مانا جاتا ہے۔ وہ ہجوم کو دیکھ کر مسکرائیں اور اپنا ہاتھ ہلایا۔یہاں موجود لوگ گھنٹوں سے کھڑے اپنی محبوب رہنماءکا انتظار کررہے تھے۔

اپنے نئے دفتر کی دوسری منزل کے چبوترے پر کھڑے ہوکر آنگ سان سوچی نے خطاب کیا اور اتنے لوگوں کی موجودگی پر حیرت کا اظہار کیا۔ Latha Township نامی اس علاقے کو رنگون کا چائنا ٹاﺅن بھی کہا جاتا ہے، جبکہ یہاں سے ہی آنگ سان سوچی کے والد Aung San نے برسوں پہلے پارلیمنٹ کی نشست جیتی تھی۔اپنی تیس منٹ کی تقریر میں آنگ سان سوچی نے کاروبار اور سیاست پر بات کی، اس دوران ہر شخص کی نگاہ اپنی محبوب رہنماءپر جمی رہی، کیمروں اور موبائل فونز کے ذریعے لوگ ان تاریخی لمحات کو وڈیو کی شکل میں فلماتے رہے۔

2010ءسے قبل این ایل ڈی کیلئے ناممکن تھا کہ وہ اس طرح کی بڑی عوامی تقریب کا انعقاد کرسکے، جبکہ لوگوں کے لئے بھی این ایل ڈی کیلئے جمع ہونا اور اپنی حمایت کا اظہار ناممکن تھا۔

یہاں کھانے پینے کی اشیاءفروخت کرنے والی خاتون کے گرد لوگوں کا ہجوم کھڑا ہے۔اس خاتون نے این ایل ڈی کی ٹوپی پہنی ہوئی ہے، جبکہ وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد این ایل ڈی کا جھنڈا بھی لہرا رہی ہے۔ہم نے اس سے کئی سوالات پوچھے۔

سوال” آنگ سان سوچی کے بارے میں آپ کا کیا سوچتی ہیں؟

خاتون(female) “میں ہمیشہ ان کی حمایت کرتی رہوں گی”۔

سوال”آپ نے ان کی تقریر سنی؟

خاتون(female) “جی ہاں میں نے پوری تقریر سنی، میں اس وقت اگلی قطار میں موجود تھی”۔

سوال”آپ کو اس تقریر کا کون سا حصہ سب سے زیادہ پسند آیا؟

خاتون(female) “مجھے آنگ سان سوچی کا بولا ہوا ہر لفظ بہت پسند آیا”۔

برما کی سیاسی صورتحال تیزی سے تبدیل ہورہی ہے، اب یہاں گلی کوچوں میں فروخت ہونے والے اخبارات میں آنگ سان سوچی کی تصاویر عام نظر آتی ہیں۔ ایسے ہی ایک اخبار فروش سے ہم نے بات کی۔

اخبار فروش(male) “اگر اخبارات کے صفحہ اول پر آنگ سان سوچی کی تصویر ہو تو میرے اخبار زیادہ فروخت ہوتے ہیں”۔

سوال”آپ کو آنگ سان سوچی کی کون سی بات پسند ہے؟

اخبار فروش(male) “میں ان کی صلاحیت، قیادت اور ان کی قربانیوں کا معترف ہوں، جو انھوں نے ملک اور عوام کیلئے دی ہیں”۔

سوال”آپ کو ان کی تقریر میں کیا چیز سب سے زیادہ پسند آئی؟

اخبار فروش(male) “مجھےان کی جو بات پسند آئی وہ یہ تھی کہ اگر سیاسی صورتحال مستحکم ہو تو معیشت بھی ترقی کرتی ہے”۔

یہاں ہالی وڈ میں آنگ سان سوچی پر بنائی گئی فلم دی لیڈی کی ڈی وی ڈیز بہت زیادہ فروخت ہورہی ہیں۔ڈی وی ڈیز فروخت کرنے والا دکاندار اس پر بہت خوش ہے۔

دکاندار(male) “ہر شخص دی لیڈی کی ڈی وی ڈی خریدنا چاہتا ہے”۔

سوال”کیا آپ کو یہ فلم پسند آئی؟

دکاندار(male) “جی ہاں مجھے یہ فلم بہت پسند آئی ہے”۔

سوال”کیا آپ کو اب یہ ڈی وی ڈی فروخت کرتے یا یہاں اپنی محبوب رہنماءکی تقریر سنتے ہوئے ڈر نہیں لگتا؟

دکاندار(male) “نہیں میں خوفزدہ نہیں”۔

برمی عوام اس آزادی پر بہت خوش ہیں اور انہیں توقع ہے کہ یہ ہمیشہ برقرار رہے گی۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *