زمانہ قدیم سے ہی یورپ کے ذہنوں میں رنگارنگ ہندوستانی ثقافت کا غلبہ رہا ہے، تاہم اب اس ثقافت کیلئے سمندری سفر کی ضرورت نہیں، کیونکہ ہندوستانی ثقافت خود یورپی سرزمین پر پہنچ گئی ہے۔ ایسے ہی ایک فیسٹیول کے بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
بھارت میں موسم بہار کی آمد کے موقع پر منائے جانے والے ہندوﺅں کا تہوار ہولی اب جرمنی بھی پہنچ گیا ہے، اور نوجوان جرمن افراد اس تہوار سے خوب لطف اندوز ہورہے ہیں۔ تاہم بھارت میں جگہ جگہ رنگ پھینکنے کے مقابلے میں یہاں ایک بڑا اور کشادہ میدان اس مقصد کیلئے مختص کیا گیا ہے۔
انتیس سالہ جرمن شہریمیکسن ڈرینکو نے گزشتہ سال بھارت کا دورہ کیا تھا اور اپنے آبائی وطن میں بھارتی فیسٹیول کے انعقاد سے بہت خوش ہیں۔
میکسن”ہم اس بنیادی خیال سے بہت متاثر ہوئے ہیں کہ ہر ہر شخص مساویٰ حیثیت کا حامل ہے، جرمنی میں طبقاتی امتیاز موجود ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم اس پیغام کویہاں پھیلانا چاہتے ہیں، اور ہم خوشیوں کو ان رنگوں کے ذریعے پھیلانا چاہتے ہیں، جو کہ مساوات کی علامت ہیں”۔
میکسن اور ان کے دوستوں نے اس ایونٹ کا انعقاد کیا ہے اور وہ اس فیسٹیول کو یورپ بھر تک پھیلانا چاہتے ہیں۔
ہولی کا تہوار یہاں مغربی انداز میں منایا جاتاہ ے اور اب تک کافی کامیاب بھی رہا ہے، کیونکہ پندرہ ہزار کے قریب افراد نے سترہ ڈالرز کی فیس ادا کرکے اس میں شرکت کی ہے۔ماسم کا کہنا ہے کہ لوگوں نے اس تہوار کے خیال کا خیرمقدم کیا ہے۔
ماکسم”بھارتی ثقافتی یورپ میں کافی مقبول ہے، خصوصاً جرمنی میں لوگ بھارتی کھانوں، ثقافت، بالی وڈ وغیرہ سے محبت کرتے ہیں۔ ہم اس سلسلے میں مزید کام بھی کررہے ہیں، ہم نے بھارتی سفارتخانے اور محکمہ سیاحت سے بات کی ہے، اور انھوں نے ہم سے تعاون کا وعدہ کیا ہے۔ باہمی تعاون سب فریقین کے فائدے میں ہے”۔
ایک قریبی فوڈ اسٹال پر بھارتی کھانا مقدس کھانے کے نام سے فروخت کءجارہے ہیں، لذیذ بھارتی کھانے اس ایونٹ کی کشش بڑھانے کا سبب بن رہے ہیں، اس ایونٹ سے باہر بھی جرمنی میں مقیم بھارتی تارکین وطن نے اپنا ایک اچھا خاصا بڑا حلقہ اثر بنارکھا ہے۔
بھارتی ریاست پنجاب سے تعلق رکھنے والے منو پوری نے جرمن شہر بون میں کئی برس قبل اپنا ریسٹورنٹ کھولا تھا، اب ان کا کام اچھا جارہا ہے اور وہ ایک اور ریسٹورنٹ کھولنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔
منو”میرا کاروبار کافی اچھا چل رہا ہے، یہاں بھارت کے حوالے سے کافی کریز پایا جاتا ہے، اور یہاں کے لوگ بھارتی کھانوں اور ثقافت سے محبت کرتے ہیں۔ ہمارے ایسے صارفین بھی ہیں جو ہر سال چھ ماہ بھارت میں گزارتے ہیں”۔
بالی وڈ نے جرمنی میں بھارت سے متعلق اشتیاق کو لوگوں میں بہت بڑھایا ہے، ہر برس معروف بالی وڈ اسٹارز جرمنی کے اہم ترین فلم ایونٹ دابرلی نالے میں شرکت کرتے ہیں، شاہ رخ خان نے گزشتہ برس اس ایونٹ میں شریک ہوکر اپنی فلم ڈون کو پروموٹ کیا تھا۔
تاہم جرمنی میں بھارت کے خلاف سیاستدانوں نے بھی مہم شروع کررکھی ہے، جرگن روگر نامی سیاستدان نے جرمنی میں بھارتی تارکین وطن کی تعداد میں اضافے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
نسا پونم پارامبیl کے گھروالے جنوبی بھارت سے جرمنی آئے، تاہم انکی پیدائش جرمنی میں ہی ہوئی۔ انھوں نے جرمن سیاستدان کی مہم کے مقابلے میں ایک کتاب تحریر کی ہے۔
نسائ”اس کتاب میں ایسے نوجوان بھارتیوں کی کہانیاں ہیں جو اس ملک کو اپنا گھر ہی سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ ہم بھارتی دکھائی دیتے ہیں مگر ہم جرمن ہیں اور اس کتاب میں ایک کہانیڈپٹش کی ہے جو کہتا ہے کہ جرمنی میں کثیرالثقافتی معاشرے کا قیام ممکن نہیں، تو یہ دو مختلف ثقافتوں کی ملاقات کا احوال ہے، تاہم ہر شخص دونوں ثقافتوں کے درمیان اختلاف کو محسوس نہیں کرسکتا”۔
جرمنی میں ہولی کے انعقاد پر نسا کا کہنا ہے کہ ابھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ حقیقتاً بھارتی ثقافت کی نمائندگی کررہی ہے یا یہ کوئی مارکیٹنگ حربہ ہے۔
نسائ”جرمنی میں بھارتی ثقافت کی کافی ورائٹی موجود ہے اور ہولی کا تہوار تو کافی مقبول ہے،ہر ثقافت اور معاشرے میں کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جنھیں ہم پسند یا ناپسند کرتے ہیں، تہوار آتے اور جاتے رہتے ہیں، میرا مطلب ہے کہ جب میں چھوٹی تھی تو ہالوین جرمنی میں نہیں منایا جاتا تھا، مگر اب یہ یہاں کی ثقافت کا حصہ بن گیا ہے۔ تو یہ ایک پل ہوسکتا ہے، ایک ایسا پل جو ثقافت اور جرمن عوام کے درمیان رابطہ کا ذریعہ بن سکے۔جرمن نوجوانوں کو بھارت کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوتا اگر وہ ہولی کے تہوار کا حصہ نہ بنتے”۔
یوگا اور بھارتی کلاسیکل رقص بھی یہاں کافی مقبولیت پارہے ہیں۔
کولوگنی شہر میں ایک 55 سالہ جرمن خاتون بھارتی کلاسیکل رقص سیکھاتتے ہوئے اپنا ناممادھوی مندیرا استعمال کرتی ہیں۔مادھوی مندیرا کا کہنا ہے کہ انکی کلاسز میں زیادہ تر جرمن شہری ہی آتے ہیں۔
مادھوی “یہ ابھی بھی جرمنی میں رقص کی دیگر اصناف سالسا اورفلیمنکو جیسا مقبول تو نہیں، کیونکہ یہ مغربی ڈانس کافی آسان ہے، مگر کلاسیکل بھارتی ڈانس کافی حد تک لوگوں میں پسند کیا جارہا ہے، ابھی بڑے گروپس میں تو اس کا کریز نہیں مگر جو بھی ایک بار اسے شروع کرتا ہے تو وہ کئی برسوں تک اسکا پیچھا نہیں چھوڑتا”۔
ہولی فیسٹیول میں واپس چلتے ہیں، جہاں جرمن نوجوان ایک دوسرے پر رنگ پھینک رہے ہیں، جبکہ لڑکیوں نے بھارتی خواتین کی طرح اپنی پیشانیوں پر بندیا لگا رکھی ہے۔