ایشیا پسیفک کی حالیہ رپورٹ کی حالیہ سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملائیشیاءاس خطے کے کرپٹ ترین ممالک میں سے ایک ہے، رشوت خوری ملک بھر میں عام ہوچکی ہے، اس سلسلے میں ایک انسداد بدعنوانی گروپ نے کام شروع کیا ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
کانگ کنگ ملائیشیاءکا ایک سستا ترین پکوان ہے، جسکی وجہ سبزیوں کی قیمت میں کمی ہے، وزیراعظم نجیب عبدالرزاق ایک خطاب کررہے ہیں۔
انھوں نے کانگ کنگ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کی انتظامیہ کے اقدامات سے اجناس کی قیمتیں کم ہوئی ہیں، مگر انھوں نے یہ شکایت کی عوام کی جانب سے مہنگائی کا ذمہ دار ان کی حکومت کو قرار دیا جاتا ہے، جبکہ قیمتیں کم کرنے کے اقدامات کو نظرانداز کردیا جاتا ہے۔اس کے بعد کانگ کنگ ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔
ایمبگا سری نواسن، ایک گروپ کولیشن فار کلین اینڈ فئر الیکشنز کی سرگرم رہنماءہیں۔ وہ بتارہی ہیں کہ آخر ملائیشین عوام کیوں وزیراعظم کی تقریر کا مذاق اڑا رہے ہیں۔
ایمبگا سری نواسن”ملائیشین عوام بہترین حس مزاح رکھتے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ حکمران عوام سے رابطے میں نہین ہیں، اور وہ سمجھ نہیں پارہے کہ مسئلہ کانگ کنگ کا نہیں بلکہ اس سے زیادہ بڑا ہے۔ میرے خیال میں مہنگائی بڑھی ہے اور عوام اس بات کو بھی قبول کرلیں گے اگر حکومت کرپشن پر قابو پانے کیلئے بھرپور کوشش کرے۔ درحقیقت اگر وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں تو انہیں قیمتوں میں اضافے جیسے مسائل کا سامنا ہی نہ ہو، یہ بات عوام کو زیادہ مشتعل کررہی ہے”۔
حکومت نے حال ہی میں عوام سے کہا تھا کہ وہ مہنگائی کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہوجائیں، تاہم کچھ وزراءاپنا پرتعیش طرز زندگی ترک کرنے کیلئے تیار نہیں۔
ایمبیگا”آپ خود ان کے تعمیر کردہ گھر دیکھ سکتے ہیں، ان کے تفریح کے انداز، شادیوں کی تقاریب اور پرتعیش طرز زندگی، گاڑیاں جن کی تعداد بہت زیادہ ہے، وغیرہ وغیرہ، تو لوگ اندھے نہیں، وہ دیکھ رہے ہیں کہ وزراءہر وقت بیرون ملک کے دوروں پر ہوتے ہیں، حالانکہ یہ وہ چیزیں جنھیں روکا جاسکتا ہے، آپ عوام کو یہ تو کہہ رہے ہیں کہ مہنگائی کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہوجائیں، مگر اپنے اخراجات کم کرنے کیلئے تیار نہیں، یہ بات ٹھیک نہیں”۔
ایک حالیہ سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ کرپشن اور رشوت ملائیشین عوام کیلئے اب روزمرہ کا معمول بن چکا ہے، 58 اٹھاون سالہ وینس لی بھی اس کا ہدف اس وقت بننے والے تھے جب موٹرسائیکل پر سفر کے دوران اچانک پولیس افسر نے انہیں روک لیا۔
وینس لی “وہ جان بوجھ کر ایسی جگہ پر کھڑا تھا جہاں سے وہ آسانی سے موٹرسائیکل سواروں کو روک سکے، درحقیقت وہ ایک جال تھا، وہ آپ کو ایسے مقامات پر روکتے ہیں جہاں انہیں معلوم ہوتا ہے کہ موٹرسائیکل سوار قوانین کی خلاف ورزی ضرور کرے گا، یہ لوگوں سے رقم ہتھیانے کا طریقہ ہے، مگر میں نے ایک پیسہ بھی دینے سے انکار کردیا، میں عدالت میں گیا اور جج کے سامنے اپنا موقف رکھا، خدا کا شکر ہے کہ جج نے میری وضاحت قبول کرلی اور مجھے کوئی جرمانہ ادا نہیں کرنا پڑا”۔
ملائیشیاءمیں انسداد بدعنوانی کمیشن تو موجود ہے مگر سماجی کارکن جیسے ایمبیگا سری نواسن کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے حکومتی عزم کمزور ہے۔
ایمبیگا سری نواسن “بدعنوانی کمیشن اپنا کام کرسکتا ہے مگر پراسیکیوشن کا فیصلہ اٹارنی جنرل کے پاس ہی جاتا ہے، اور مجھے یقین ہے اس حکومتی مداخلت کے باعث صرف منتخب افراد کیخلاف ہی مقدمات چلائے جاتے ہیں”۔
ایک نئے گروپ کی افتتاحی تقریب ہے، جسے سینٹر ٹو کمبٹ کرپشن اینڈ کرو نیزم یا سی فور کا نام دیا گیا ہے، اس میں انسانی حقوق کی متعدد این جی اوز شامل ہے، جبکہ اس مقصد کرپشن پر قابو پانا ہے۔ سی فور اس اہم مسئلے کے خلاف سول سوسائٹی کا پہلا ردعمل ہے، سی فور کی شریک بانی سنتھیا گیبرئل اس حوالے سے بتارہی ہیں۔
سنتھیا گیبرئل”دیہات میں یہ بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے، کیونکہ وہاں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ انہیں مخصوص سیاسی طاقتوں کا وفادار بن کر ہی رہنا ہوگا، اس گروپ کا آغاز ایک اہمحہ ہے کیونکہ ہم حکومت کو بتارہے ہیں کہ اب کرپشن کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہم یہاں اس کے خلاف جنگ کیلئے تیار ہیں، اور ہم عوام کو بتائیں گے کہ ان کی رقومات کا کس حد تک غلط استعمال ہورہا ہے”۔
سنتھیا گیبرئل کو توقع ہے کہ سی فور کے دباﺅ سے حکومتی امور مزید شفاف اور قابل احتساب ہوسکیں گے۔
سنتھیا گیبرئل”صرف کرپٹ افراد ہی سی فور جیسے اداروں سے خوفزدہ ہوسکتے ہیں، یہاں متعدد افراد اس گروپ کی تشکیل پر خوشیاں منارہے ہیں، جبکہ سی فور پر کافی تنقید بھی ہورہی ہے۔ اور آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ ناقادین خوفزدہ ہیں کہ ان کے کام سب کے سامنے نہ آجائیں”۔
وینس لی کا کہنا ہے کہ کرپشن کیخلاف جدوجہد خود کرنا زیادہ بہترراستہ ہے۔
وینس لی”میں اپنے رشتے داروں کو سمجھاﺅں گا کہ وہ رشوت کی پیشکش یا اسے قبول نہ کریں، مثال کے طور پر کسی دفتر میں آپ کے افسران کہہ سکتے ہیں اس طرح کے کاموں سے جلد ترقی ہوسکتی ہے، اگر آپ کو لگتا ہے کہ ان کی بات ٹھیک نہیں تو پھر اسے ماننے سے انکار کردینا چاہئے”۔