(A New Debate on India’s Death Penalty)بھارت میں سزائے موت کا قانون

بھارتی سپریم کورٹ نے ممبئی حملوں کے الزام میں گرفتار اجمل قصاب کی پھانسی کی سزا کو برقرار رکھا ہے، جس کے بعد بھارت میں سزائے موت کے خاتمے کیلئے ایک نئی بحث کا آغاز ہوگیا ہے۔

 

اجمل قصاب کو ممبئی کی عدالت نے 2010ءمیں سزائے موت کا حکم سنایا تھا، گزشتہ برس مہاراشٹر ہائیکورٹ نے ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا، جبکہ اب سپریم کورٹ نے بھی اجمل قصاب کی اپیل مسترد کردی ہے۔Gopal Subramanium سپریم کورٹ میں حکومتی پراسیکیوٹر ہیں۔

 

 (male) Gopal Subramanium “یہ مقدمہ مکمل طور پر پیشہ وارانہ بنیادوں پر چلایا گیا۔ ہمیں یہی فیصلہ سامنے آنے کی امید تھی، یہ آئینی اور قانونی عمل کی فتح ہے۔ میرے خیال میں بھارت کو فخر محسوس کرنا چاہئے کہ جمہوری ملک ہونے کے ناطے ہم ہر ملزم کو اپنی صفائی کا مکمل موقع فراہم کرتے ہیں۔ عدالتیں کسی بھی ملزم کو اس وقت تک سزا نہیں ہونے دیتیںجب تک وہ اپنا موقف پیش نہ کردے”۔

 

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مختلف بھارتی شہروں میں سینکڑوں افراد نے مظاہرے کرکے اجمل قصاب کیخلاف نعرے لگائے۔ نئی دہلی میں مظاہرین نے اجمل قصاب کے پتلوں کو پھانسی پر چڑھایا اور ملزم کو بغیر کسی تاخیر کے سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ چمن بھائی بھی ان افراد میں سے ایک ہیں۔

 

بھائی(male) “اب اسے مزید وقت نہیں دیا جانا چاہئے، حکومت کو اسے دس روز کے اندر پھانسی پر لٹکا دینا چاہئے۔ ہم اب کس بات کا انتظار کررہے ہیں، سب کو معلوم ہے کہ اس نے کس سفاکی سے معصوم لوگوں کو قتل کیا۔ ہر چیز ثابت ہوچکی ہے، ہمیں فوری طور پر اسے پھانسی پر لٹکا دینا چاہئے، ایسا نہ ہوا تو ہمیں مزید حملوں کیلئے تیار رہنا ہوگا”۔

ممبئی میں 2008ءکے حملوں کے متاثرین بھی سپریم کورٹ کے فیصلے پر خوش ہیں اور اس پر جلد از جلد عملدرآمد چاہتے ہیں۔ Eknath Omble، اجمل قصاب کو پکڑنے کی کوشش کے دوران ہلاک ہونے والے پولیس اہلکار Tukaram Omble کے بھائی ہیں۔

 

 (male) Omble “اسے پھانسی پر لٹکایا جانا چاہئے، اس طرح کے مجرم کو زندہ رہنے کا حق نہیں۔ اس نے میرے بھائی کو قتل کیا اب اس کے مرنے کی باری ہے”۔

 

بیشتر سیاسی جماعتوں نے بھی عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کیا اور بھارتی صدر پر زور دیا ہے کہ اجمل قصاب کی رحم کی اپیل مسترد کردی جائے۔ اس وقت اجمل قصاب کی رحم کی اپیل صدر کے پاس زیرالتوا ہے،بھارت میں صدر ہی کسی شخص کی سزائے موت پر عملدرآمد یا اسے عمر قید میں تبدیل کرنے کا حتمی اختیار رکھتے ہیں۔ وزارت داخلہ نے واضح کیا ہے کہ اس نے صدر کو اجمل قصاب کی درخواست مسترد کرنے کی سفارش کی ہے۔تاہم انسانی حقوق کے ادارے چاہتے ہیں کہ بھارتی صدر اجمل قصاب کی درخواست قبول کریں اور سزائے موت کے فیصلے پر نظرثانی کرے۔ کویتا شری واستو ایک این جی او People’s Union For Civil Liberties کی رکن ہیں۔

 

شری واستو(female) “ہر نسل اور ہر طبقہ فکر کو قوانین میں بہتری سے مستفید ہونے کا حق حاصل ہے، بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوری ریاست کہتا ہے، اسے ریاست کو مزید مہذب بنانا چاہئے۔ آخر ہمیں اجمل قصاب کی زندگی ختم کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ 26 نومبر 2008ءکی قتل و غارتگری افسوسناک تھی مگر قصاب کو سزا سے ہمیں کوئی تحفظ نہیں مل جائے گا۔ ہم بھارت میں سزائے موت کا مکمل طور پر خاتمہ چاہتے ہیں”۔

 

سزائے موت کے مخالفین کا کہنا ہے کہ قانون کی کتابوں میں اس کا مکمل خاتمہ کیا جانا چاہئے، Mani Shankar Aiyer حکمران جماعت کانگریس کے سنیئر رہنماءہیں۔

 

 (male) Mani Shankar Aiyer “ہم وحشی ہیں یا مہذب؟ تہذیب نے دنیا بھر میں وحشت پر قابو پالیا ہے، تاہم بھارت میں اب تک ایسا نہیں ہوسکا۔اکیسویں صدی کو اب ایک دہائی کا عرصہ گزر چکا ہے، مگر اب بھی ہمارا ملک ان 23 ممالک میں شامل ہیں جہاں سزائے موت کا قانون موجود ہے۔ ہم اب بھی لوگوں کی زندگیاں ختم ہوتے دیکھ کر لطف اندوز ہوتے ہیں”۔

 

اب تک دنیا بھر میں سو سے زائد ممالک میں سزائے موت کا خاتمہ ہوچکا ہے، بھارت میں اگرچہ سزائے موت کا قانون موجود ہے مگر اس پر عملدرآمد کبھی کبھار ہی ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلوں میں کہا ہے کہ یہ سزا انتہائی خاص مواقعوں پر ہی دی جانی چاہئے، مجموعی طور پر گزشتہ سترہ برس میں صرف ایک شخص کو ہی پھانسی پر لٹکا گیا ہے، تاہم سیاسی کالم نگار Swapan Dasgupta کا کہنا ہے کہ سزائے موت کا خاتمہ اتنا آسان نہیں۔

 

 (male) Swapan Dasgupta “آپ انسانی رویوں کو جتنا بھی اخلاق کے دائرے میں لے آئیں تاہم لوگوں کے جذبات کو ختم کرنا آسان نہیں۔یہی وجہ ہے کہ میرے خیال میں لوگوں کی بڑی اکثریت انتہاپسندانہ اقدامات جیسے سزائے موت کے حق میں ہے۔ تاہم بھارتی قانونی نظام میں یہ ضروری نہیں کہ ملزمان کو یہی سزا سنائی جائے”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *