پاکستان دنیا کے ان تین ممالک میں شامل ہے جہاں اب تک پولیو کے مرض کا خاتمہ نہیں ہوسکا، گزشتہ سال بھی ملک میں اسی سے زائد پولیو کیسز سامنے آئے، تاہم حکومت رواں برس اس مرض کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
میوزک بک1 “یہ کہانی ایک ایسے خاندان کی ہے جو ایک گاﺅں میں رہائش پذیر ہے، رحیم اللہ تیرہ سال کا ہے، اس کی بہن بتول کی عمر دس اور اس کا بھائی گلو صرف چار سال کا ہے۔انکے والدین سخت محنت کرتے ہیں تاکہ ان کے بچے صحت مند رہ سکیں، مگر ان کی پڑوسی امینہ کا پولیو کے باعث انتقال ہوگیا ہے”۔
رحیم اللہ اپنے بہن اور بھائی کو پولیو سے بچانے کیلئے پرعزم ہے۔
میوزک بک کلپ2 “پولیو ایسا مرض ہے جو چھوٹے بچوں پر حملہ کرتا ہے، یہ وائرس بہت تیزی سے پھیلتا ہے اور بچوں کو ہمیشہ کیلئے معذور کردیتا ہے اور کئی بار تو یہ زندگی ختم کرنےکا سبب بھی بن جاتا ہے”۔
یہ کہانی ایک آڈیو کتاب اے اسٹوری آف ہیلتھ کا حصہ ہے، جو اردو اور پشتو زبان میں سامنے اائی ہے، اسے ایک فلاحی گروپ پاکستان روٹری انٹر نیشنل نے شائع کیا ہے۔ اس گروپ کے سربراہ عزیز میمن کا کہنا ہے کہ یہ ملک عزیز کی ان پڑھ آبادی کیلئے مثالی کتاب ہے۔
عزیز میمن”یہ ساﺅتھ کیرولائنا کے روٹری کلب کا آئیڈیا تھا، ہم نے اس خیال کو آگے بڑھاتے ہوئے اس کتاب کو ڈیزائن کیا، اسٹوری آف ہیلتھ میں پولیو پر توجہ دی گئی ہے”۔
پاکستان دنیا کے ان تین ممالک میں سے ایک ہے جہاں پولیو کا مرض تاحال موجود ہے، گزشتہ برس بھی ملک میں اسی سے زائد کیسز سامنے آئے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق صوبہ خیبرپختونخواہ سے تھا۔ صوبے کی حکمران جماعت تحریک انصاف اب پولیو کے خاتمے کیلئے بڑی مہم چلارہی ہے، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اس مہم کیلئے مذہبی رہنماءمولانا سمیع الحق سے بھی مدد طلب کی ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران پولیو مہموں کے دوران ہیلتھ ورکرز پر حملے ہوئے ہیں، تاہم عمران خان نے تمام والدین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو سے بچاﺅ کے قطرے پلائیں، انکا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ مہم اسلامی قوانین کے مطابق ہے۔ مذہبی عالم مولوی دوست محمد اس بات کی حمایت کرتے ہیں۔
مولوی دوست محمد”پولیو قطرے پلانے میں کچھ غلط یا خراب بات نہیں، یہ غیرریاستی عناصر کا پروپگینڈہ ہے جس کی وجہ سے ویکسین مہم متنازعہ ہوگئی ہے، دنیا میں پولیو کا خاتمہ ہوچکا ہے مگر ہم اب تک اس کے شکار ہیں”۔
خیبرپختونخواہ کے اسی ہزار کے قریب بچوں کو گزشتہ برس پولیو سے بچاﺅ کے قطرے نہیں پلائے جاسکے۔ پشاور میں پولیو مہم کا حصہ بننے والے احمد مصطفیٰ نئی مہم کی حمایت کرتے ہیں۔
احمد مصطفیٰ”ہم پاکستان سے پولیو کا خاتمہ کردیں گے اور 2014ءپولیو کے خاتمے کا سال ہوگا، کیونکہ حکومت نے مذہبی علماءکے ہمراہ اس حوالے سے اہم مہم شروع کردی ہے”۔
اس آڈیو کتاب کی پانچ ہزار سے زائد کاپیاں تقسیم کرنے سے توقع پیدا ہوئی ہے کہ پاکستان جلد پولیو سے پاک ہوجائے گا۔ اسلام آباد کی ایک گھریلو خاتون ماہرا خان اپنے بچوں کو اس کتاب کی کہانی سنانے کیلئے تیار ہیں۔
ماہرا خان”یہ روٹری انٹرنینشل کا زبردست آئیڈیا ہے، کہ بچوں کو موسیقی اور کہانی کی کتابوں کے ذریعے مضبوط پیغام دیا جائے۔ یہ کتاب بچوں کے ذہن کو مدنظر رکھ کر ڈیزائن کی گئی ہے”۔